﻿

The Pre-eminent & Only multi-lingual Haiku journal of South Asia (since 1998)
First Online multi-lingual journal of Haiku world, since 2008
  کتابی سلسلہ  ہائیکو انٹرنیشنل
(کراچی)  
Book series Haiku International, Karachi (Pakistan)
شمارہ دہم (آن لائن: دوم)  بابت جنوری تا اپریل ۲۰۰۹ء؁
Issue-X (Second Online): January-April 2009
بانی مدیر: سہیل احمد صدیقی
Founding Editor: Sohail Ahmed Siddiqui
URL: http: //haikuinternational.spaces.live.com
 
’’اردو شاعروں  کی اچھی خاصی تعداد ہائیکو سے  منسلک ہے ۔ وہ اپنا نام اور پہچان رکھتے  ہیں ۔ سہیل احمد صدیقی انہیں  میں  سے  ایک ہیں ۔ سہیل ہائیکو کی ترویج و اشاعت کے  لیے  رسائل نکالتے  رہے  ہیں ۔ اس باب میں  ان کی ہمہ جہت خدمات کی وجہ سے  اگر انہیں  اردو میں  ہائیکو کا پروموٹر کہا جائے  تو غلط نہ ہو گا‘‘۔  ادیب سہیل 
 



 

صدا بہ صحرا  (اداریہ)

مختصر جاپانی صنف سخن ہائیکو کی بے  لوث خدمت کے  پندرہ سال مکمل ہونے  کے  ساتھ ہی یہ احساس دل ناتواں  پر نقش ہو چکا ہے  کہ ادب کی خدمت کرنا، ادبی رسالہ نکالنا،بقول شخصے  ’’ گھر پھونک تماشا دیکھ ’’ کے  مصداق ایسا عمل ہے  کہ جس کے  اجراء اور تعطل سمیت تمام امور میں  اہل ذوق کی شرکت محض تبصرے ، خالی خولی مشورے ، طنز، دشنام طرازی کے  سوا کچھ نہیں  ہوتی۔ ۔ ۔  عملاً تعاون، مالی تو دور کی بات ہے ، کسی بھی قسم کا ہو، احباب کی جانب سے  ہمیں ’ ’ ایں  خیال است و محال است و جنوں ‘‘ کا وظیفہ کرنے  پر مجبور کر دیتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ دکھڑا رونے  کی فرسودہ روش نہیں ، محض ان مردہ دلوں  کو بیدار کرنے  کی سعی نا مشکور ہے  جو کسی سفلی مفاد کی خاطر ایسے  جوان ہوتے  ہیں  کہ دیکھنے  والی آنکھ عش عش کر اٹھتی ہے  اور سننے  والے  کان ششدر رہ جاتے  ہیں ۔ ۔ یہاں  ایسے  بزرگان ادب (جنہیں  یہ خاکسار روبرو ’’بڈھان ادب‘‘ کہنے  سے  نہیں  شرماتا)کی نام بہ نام تفصیل کیا پیش کی جائے  جو ہر عمر کی کسی نہ کسی خاتون اور بعض شہرت کے  گرسنہ مردوں  کو نہ صرف شاعر بلکہ بعض اوقات صاحب دیوان شاعر بنا دیتے  ہیں ۔ ۔ ۔ ا یک مرتبہ یہ خاکسار ایک قدرے  بزرگ شاعرہ کے  گھر پر موجود تھا کہ ہمارے  شہر کی مشہور ترین متشاعرہ کا ٹیلی فون آیا، معلوم ہوا کہ ان موصوفہ کو بتا رہی تھیں  کہ ایک مشاعرے  کے  لیے  کچھ شعر ہو گئے  ہیں (کسی بزرگ کی آن لائن مہربانی سے )، تم ذرا سن لو۔ ۔ ۔  سن لیا تو فرمایا، باقی اشعار بھی ابھی بیس پچیس منٹ میں  مکمل کر کے  سناتی ہوں ۔ ۔ اس مدیر پُر تقصیر نے  عرض کی، وہ آپ کو گواہ بنا رہی تھی کہ میں  خود شعر کہتی ہوں، اب دیکھئے  گا کسی بزرگ سے  ٹیلی فون پر باقی اشعار لے  کر آپ کو سنا دے  گی اور دنیا کو بتائے  گی کہ میں  نے  تو فلاں  نامور شاعرہ کو اپنا کلام، یہاں  آمد سے  قبل سنایا تھا۔ ہماری ممدوح خاتون اپنی سادگی کے  سبب عجیب مخمصے  کا شکار تھیں  کہ واقعی کوئی پندرہ منٹ بعد گھنٹی بجی اور اس متشاعرہ نے  غزل مکمل کر دی۔ ۔ ۔ ہماری بزرگ شاعرہ نے  اظہار حیرت کیا اور یہی سمجھا کہ خود کہی ہو گی۔ ۔ ۔  بندے  نے  بصد ادب عرض کی، آپ خود شاعرہ ہیں، کیا ایسے  کبھی آمد ہوتی ہے، گھڑی دیکھ کر۔ ۔ ۔  
  ایک گنگناتے  ہوئے  شاعر کچھ سال پہلے  براہ راست منظر عام پر آئے ، کسی ابتدائی کاوش کے  بغیر اور وہ بھی صاحب دیوان۔ ۔ ۔  اب یہ اعجاز کس کا تھا، ’ ’ ہے  ادب شرط، منھ نہ کھلوائیں ‘‘۔ ۔ ۔  بات یہیں  ختم نہ ہوئی بلکہ ایک بزرگ باراں  دیدہ نے  اس شاعر کی سفارش کے  لیے  کونسل جنرل آف جاپان سے  رابطہ کیا اور قدرے  پس و پیش پر دھمکی دی کہ اگر اس لڑکے  کو شامل نہ کیا گیا تو میں  بائیکاٹ کروں  گا۔ ۔ ۔  مزید برآں  اس خاکسار سے  بھی اس بابت استفسار کیا کہ آیا لڑکا شامل ہوا، قصہ کوتاہ لڑکا شامل ہو گیا اور اگلے  سال تک شامل رہا۔ ۔ ۔ اردو ادب کو اس سے  کیا حاصل ہوا  ؟ آئیں  مل کر سوچیں !
آمد ہوتی ہے، گھڑی دیکھ کر۔ ۔ ۔ 	
راقمِ حروف اپنی حق گوئی کے  مسلسل مظاہرے  کی سزا بھگت چکا ہے ، تفصیل خوف فساد خلق سے  نا گفتنی چھوڑتا ہے ۔ ۔ کہنا یہ ہے  کہ اردو ادب کے  مشاہیر اس قسم کے  کارناموں  کے  لیے  ہی کیوں  مشہور ہیں  اور کوئی علمی و ادبی کارنامہ کیوں  ان کے  تعاون اور سرپرستی سے  محروم رہتا ہے، ذرا غور کیجئے ۔ ۔ ۔ ۔ 
 مالی بدحالی اور روز افزوں  مہنگائی نے  جب کتابی شکل میں  ہائیکو انٹرنیشنل کی اشاعت نا ممکن کر دی تو آن لائن اجراء کا سلسلہ نہایت موزوں  معلوم ہوا، سو اس پر عمل کیا اور آپ کے  حضور ایسا مواد پیش کیا جا رہا ہے  جو یقیناً معیار کے  اعتبار سے  پسند خاطر ہو گا۔ ۔ اس سے  قبل آپ گزشتہ شمارہ آن لائن ملاحظہ فرما چکے  ہوں  گے ۔ ۱۷فروری ۲۰۰۹ء؁ کو ہمارے  بزرگ شاعر شبنم رومانی ہم سے  جدا ہو گئے ۔ مدیر ہائیکو انٹرنیشنل کی تجویز پر امسال ہائیکو مشاعرے  میں  ہر شاعر سے  ان کی یاد میں  ایک ہائیکو نظم کرنے  کی گزارش کی گئی، جس پر عمل درآمد ہوا اور بعض حضرات نے  کئی ہائیکو پیش کیں ، نمونہ حاضر ہے ۔ ہم نے  اپنی بساط کے  مطابق شبنم رومانی جیسے  بڑے  سخنور کو خراج تحسین پیش کرنے  کی سعی کی، ان کے  حوالے  سے  ایک خصوصی البم  اور ان کے  آخری مشاعرے  (جشن سیمیں  اردو سالانہ ہائیکو مشاعرہ مؤرخہ ۱۵مارچ ۲۰۰۸ء)؁ کی وڈیو کلپ بھی شامل اشاعت ہے، جبکہ دیگر مرحومین ابوالخیر کشفی، امداد نظامی، محسن بھوپالی، شارق بلیاوی، خاطر غزنوی، الیاس عشقی، شان الحق حقی اور تابش دہلوی کی یاد بھی مرقع کے  ذریعے  تازہ کرنے  کی کوشش کی گئی ہے ۔ ۔ آپ کی رائے  اور مثبت تنقید کا ہمیشہ کی طرح انتظار ہے ۔ ۔  
  سہیل احمد صدیقی  
 
  
حمدیہ ہائیکو

رئیس باغیؔ 

اپنی فکر کرو
سب کا پالن ہار ہے  وہ
  اس کا ذکر کرو 
٭  ٭ 

  کس نے  دیکھا ہے
  لیکن اس کو اے  باغیؔ 
دل نے  سمجھا ہے 
٭  ٭  

 
  مت کہہ، ہم سے  ہے  
  دنیا میں ساری رونق
اس کے دم سے ہے
٭  ٭

  رب سے  آس لگا  
  دنیا کے  آگے  ہر گز  
  دامن مت پھیلا  
٭  ٭  

  رشتہ اس سے  ہی  
  اس کے  ہی گن گاتے  ہیں  
 پنکھ، پکھیرو بھی!  
٭  ٭
 

رونق حیات

  ہر سُو سرشاری  
میرے  گھر میں  روشن ہیں  
اسمائے  باری  
٭٭٭

سب سے  ہے  برتر  
تیرا ہی نام  نامی  
اﷲ  اکبر  
٭٭٭

زخموں  کا پھایا  
غم کے  تپتے  صحرا میں  
بس تیرا سایا  
٭٭٭

بقاءؔ صدیقی

اﷲ ہی برتر  
اس کے  علاوہ کوئی نہیں  
اﷲ ہی بہتر  
٭٭

سب کا رازق تُو  
سارے  عالَم میں  پھیلی  
  تیری ہی خوشبو  
٭٭

عظمت کی تھیلی  
  تیرے  ناموں  کی برکت  
  اس کے  دم سے  ہے  
٭٭

علم نہیں  مجھ میں  
تیری کیا تعریف کروں  
لفظ  بہت کم ہیں  
٭٭

بات  تُو میری مان  
صرف محبت ہوتی ہے  
مولا کی پہچان  
٭٭٭

اتنا سمجھا ہے  
تم کو کیا کیا سمجھاؤں  
سب کچھ رب کا ہے  
٭٭

 
تو ہی ہے  ہر سو  
تجھ سا کوئی اور نہیں  
بانٹے  جو خوشبو  
٭٭٭

ثروت سلطانہ ثروتؔ 

 میرا بس ایک کام  
تجھ کو ہی میں  یاد کروں 
صبح ہو یا شام
٭٭  

پھولوں  میں  خوشبو
میری سانسیں  کہتی ہیں 
مجھ میں  چھپا ہے  تو
٭  ٭ 
 
اے  میرے  معبود
تیری رحمت کا سایہ
مجھ پہ رہے  موجود
٭  ٭ 

اے  میرے  مولا
رحمت میری دھرتی پر
یونہی سد ا پھیلا
٭٭

خود کو تو پہچان
اپنی ہستی سے  ہو گی
اﷲ کی پہچان
٭٭٭ 

نعتیہ ہائیکو

وضاحت نسیم

  ختم ہے  ان  (ﷺ)  پر  بات  
  جن کے  نام پہ رب نے  کی  
  ساری  کائنات  
٭٭

  انسانوں  کے  پاس  
  رحمت بن کے  آئے  تھے  
  رحمت کی ہے  آس  
٭٭٭
 

  کیا کہتی آقا (ﷺ)  
  حرف تو ہوتے  مدحت  کو  
  کچھ بھی پاس نہ تھا  
٭٭

  انکار کرے  کوئی  
  سرکار دو عالم  (ﷺ)  سا  
  ایثار  کرے  کوئی  
٭٭٭
 

بقاءؔ صدیقی

شانِ  داور  ہیں  
قطرے  جیسی دنیا میں  
وہ تو ساگر ہیں  
٭٭

برکت ہے  ان کی  
ہم جو اَب تک زندہ ہیں  
رحمت  ہے  ان کی  
٭٭

طیبہ  کیسا  ہے  
گوشہ گوشہ دیکھ آئے  
جنت جیسا ہے  
٭٭

دور مدینے  سے  
مرنا بہتر ہے  لوگو!  
ایسے  جینے  سے  
٭٭

سہیل احمد صدیقی

مجھ سے  ہیں  بہتر  
پنکھ پکھیرو کرتے  ہیں  
ذکر  پیغمبر(ﷺ)  
٭٭

جنّ و مَلَک حیراں 
یک ہی جست میں  اَسراء کی
ہر منزل آساں 
٭  ٭

کرتے  ہیں  بہتر  
روضے  پر حاضر طائر  
نعتِ  پیغمبر(ﷺ)  
٭٭

اصلِ  کائنات
حور و غلماں  قرباں  ہوں  
فخر موجودات (ﷺ)
٭  ٭ 

کیا ماضی،کیا حال؟  
صلِ علیٰ کا ورد کرے  
خوش بخت و خوش حال  
٭  ٭ 

 
دائم ہے  سکھ چین
پہلوئے  آقا (ﷺ) میں  دیکھ
خوابیدہ شیخین(رضی اﷲ عنہم)
٭٭

مانندِ  شبنم
روضے  پہ جب حاضر ہوں
ہو دیدہ  پُر نم 
٭٭٭
 


طبع زاد ہائیکو کلام

محسنؔ بھوپالی(مرحوم)

پھولوں  کا موسم  
آؤ مل کر لہرائیں  
خوشبو کا پرچم  
٭٭

گلشن ہے  شاداب  
لیکن میں  نے  دیکھے  ہیں  
خون آلود گلاب  
٭٭

 
ساون آیا ہے  
پردیسی کے  جانے  سے  
دل مرجھایا ہے  
٭٭

آنکھیں  ترسیں  گی  
اب کے  ساون سے  پہلے  
بوندیں  برسیں  گی  
٭٭

وہ نکلا سورج  
کھڑکی سے  بھی چھوٹا ہے  
دل کش ہے  منظر  
٭٭٭
 

اقبال حیدر (امریکا)

روشن، سچا نام  
امن، محبت، یک جہتی  
ہائیکو کا پیغام  
٭٭

ہاتھ میں  ہاتھ رہیں  
چاند، ستارہ اور سورج  
یونہی ساتھ رہیں  
٭٭

جیسے  کٹی پتنگ  
روٹھ رہے  ہیں  آنکھوں  سے  
روشنیاں  اور رنگ  
٭٭

خواب تو بُنتے  ہیں  
لکھنا، پڑھنا چھوٹ گیا  
شکر ہے ، سنتے  ہیں  
٭٭

رب کی رضاؤں  کی  
مجھ کو صرف ضرورت ہے  
سب کی دعاؤں  کی  
٭٭٭
 

وضاحت نسیم

فطرت کی تخلیق  
بادل، بارش، دھوپ، ہوا  پھر
کیا کرنی تحقیق  
٭٭

خوشیاں  آئیں  راس  
ناتہ ریشم جیسا ہے  
گرہیں  باندھ پچاس  
٭٭

قوموں  کا سنگم  
اردو اور کراچی کی  
سب قدریں  باہم  
٭٭

دل کیوں  بوجھل ہو  
برف پہ چاندنی پھیلی ہے  
چاند سے  بات کرو  
٭٭

دل سے  ملتی ہے  
دل بھی کھل اٹھتا ہے  جب  
چیری کھلتی ہے  
٭٭٭
 

امداد نظامی(مرحوم)  [کوئٹہ]

کوئی نہیں  ہمراہ
بھی دھیان کی لو سے  ہے 
روشن پوری راہ
٭  ٭  

خالی دل کا سیپ
امیدوں  کے  ساتھی ہیں 
جلتے  بجھتے  دیپ
٭  ٭ 

کوئی بھی رکھ لو نام
وہی ہے  بستر پھولوں  کا
جہاں  ملے  آرام
٭  ٭

جب یاد آیا تُو
سوچ کے  سونے  آنگن میں 
پھیل گئی خوشبو
٭٭

تیرا چہرہ  ہو
یا پھر سورج ہی ابھرے 
کچھ تو اجالا ہو
٭٭٭
 

اختر ہوشیار پوری (مرحوم) [اسلام آباد]

طاقوں  میں  ہیں  دیپ  
دیواروں  کی سرگوشی  
یہ کو ن آیا ہے  
٭٭

ویراں  ہیں  آنکھیں  
خشک لبوں  پر پپڑی ہے  
تنہائی  کا  زہر  
٭٭

رات بڑی تاریک  
کوئی نہیں  ہے  ڈیوڑھی میں  
جگنو ڈھونڈے  کون  
٭٭

کوئی روک نہ  ٹوک  
پھول کی خوشبو چنچل ہے  
بے  پر اڑتی جائے  
٭٭

ایک صدا  آئی  
شاید دل کی دھڑکن ہو  
کمرا  خالی ہے  
٭٭٭
 

رئیس باغی 

ارماں  ہیں  گل پوش  
دونوں  کو پچھتاوا ہے  
دونوں  ہیں  خاموش  
٭٭

اس کی ایک اک بات  
اہلِ  دل  کی خاطر ہے  
چاہت کی سوغات  
٭٭

کیسا ہے  اندھیر  
ہر سُو شہر میں  کشت و خوں  
مولا! سب کی خیر  
٭٭

باغیؔ یہ مت بھول  
دل پر جادو کرتے  ہیں  
جگنو، تتلی، پھول  
٭٭

بادل برسیں  گے  
لیکن دوری کے  باعث  
دو دل ترسیں  گے  
٭٭٭
 

بشیر سیفی (مرحوم )[اسلام آباد]

بارش ہوتی ہے  
تجھ سے  ملنے  کی خواہش  
دل میں  روتی ہے  
٭  ٭ 

باغ میں  ہر اِک گام  
ڈھیر سنہرے  پتوں  کا  
ایک خزاں  کی شام  
٭  ٭

اک میری دم ساز  
وادی کی خاموشی میں  
جھرنے  کی آواز  
٭٭

بات ذرا سی ہے  
آتی جاتی سانسوں  میں  
ایک  گِرہ  سی ہے  
٭  ٭

حیرت سے  گم صم  
دیواریں  بھی تکتی ہیں  
کیسے  بدلے  تم  
٭٭٭
 

  نسیم سحر[جدہ، سعودی عرب]

یکسر غافل ہے
لہروں  کے  آشوب سے  یہ
کیسا ساحل ہے
٭٭

آنکھیں  بادل ہیں
جانے  پھر کیوں  لگتا ہے
دل اپنا صحرا
٭٭

دریا کا ہے  ساتھ
ہر ساحل پر نام اپنا
خالی اپنے  ہاتھ
٭٭

شہر جو سویا ہو
آوازیں  بے  معنی ہیں
چُپ جب گویا ہو
٭٭

ننھی سی تتلی
پھولوں  کی شیدائی تھی
کانٹوں  میں  الجھی
٭٭
 

گلنار آفرین  

ایک پرانی یاد  
دل کے  ویراں  رستے  کو  
کرتی ہے  آباد  
٭٭

گاتی پگڈنڈی  
تالی دیتے  پتوں  میں  
سدھ بدھ کھو بیٹھی  
٭٭

سرما  یا  گرما  
لیکن اس کی قربت میں  
ہر موسم اپنا  
٭٭

ساون کے  بادل  
وہ آئے  گا، مت دھونا  
آنکھوں  کا کاجل  
٭٭

تم ہو مجھ سے  دور  
ساون جیسا جیون ہے  
کتنی ہوں  مجبور  
٭٭٭
 

بقاءؔ صدیقی  

بجلی، بجلی ہے  
دونوں  چمکے  ہیں  لیکن  
تتلی، تتلی ہے  
٭٭

پیڑ  ہے  کیوں  چپ چاپ  
اپنے  سایوں  کے  نیچے  
دیکھ لیا کیا پاپ  
٭٭

زخمی ہے  اوزون(Ozone)  
دیکھے  ہے  چاروں  جانب  
مرہم رکھے  کون  
٭٭

جھوٹے  لہجوں  کا  
آنکھیں  ساتھ نہیں  دیتیں  
قول ہے  پُرکھوں  کا  
٭٭

توڑ اصولوں  کو  
پوشیدہ مت جذبے  رکھ  
چھوڑ کلیشوں  کو  
٭٭٭
 

ثروت سلطانہ ثروت 

حسرت رہتی ہے  
آئینے  کی آنکھوں  میں  
حیرت رہتی ہے  
٭٭

دل میں  اجالا کر  
آنکھیں  جب بھر بھر آئیں  
سورج ڈھالا کر  
٭٭

پنچھی جا اُڑ جا  
برکھا رُت سے  یہ کہنا  
پی کا سندیسہ لا  
٭٭

کتنی پاگل ہوں  
ماہ و سال کے  میلے  میں  
اس کی راہ تکوں  
٭٭

بدلے  گی یہ  رُت  
اک دن ٹوٹ ہی جائیں  گے  
مایوسی کے  بُت  
٭٭

فراست رضوی
عمر کے  دن ہیں  کم
بھول گیا میں  بھی آخر
گئی رُتوں  کا غم
٭٭


سارے  ڈوب گئے
جو میرے  ہم راز تھے ،وہ
تارے  ڈوب گئے
٭٭

سایہ سا گزرا
عمر تو یوں  بیتی جیسے
اک لمحہ گزرا
٭٭

جیسے  کوئی خواب
تتلی ہے  یا رقص میں  ہے
رنگوں  کا گرداب
٭٭
 

پت جھڑکا آنا
سبز رُتوں  کی قربت میں
بھول نہیں  جانا
٭٭٭

شاہدہ تبسم  

دور  دریچے  میں  
روشن اس کا چہرہ ہے  
  گھُپ اندھیرے  میں  
٭٭

بارش، چھاؤں ، دھوپ  
انسانوں  میں  دیکھیں  ہم  
کیسے  کیسے  روپ  
٭٭

پھول کچلتی ہے  
تیز ہوا جب بھی آ کر  
پیڑ  سے  لپٹی ہے  
٭٭

جینے  کی ہے  آس  
پل کے  نیچے  بکھری ہے  
پانی کی آواز  
٭٭

ڈوبی ہے گاگر
ایک دھنک سی بکھری ہے  
پانی کے  اوپر  
٭٭

رونق حیات

اچھا لگتا ہے  
مجھ سے  بھی آگے  میرا  
بیٹا چلتا ہے  
٭٭

بدلے  گا پرچم  
سن کر گھٹنے  لگتا ہے  
رونق میرا دم  
٭٭

پھولوں  کی خوشبو  
اس کے  خط سے  آتی ہے  
اشکوں  کی خوشبو  
٭٭

بادل چھائے  ہیں  
غم کے  ماروں  سے  یہ بھی  
ملنے  آئے  ہیں  
٭٭

اپنی منزل  پر  
دریا چل کر آتا ہے  
خود ہی ساحل پر  
‎٭٭٭
 

مشہود حسن رضوی (بہاول پور) 

کیسی گزری رات  
ساون کی رُت میں  کس نے  
گرمی کو دی مات  
٭٭

ڈھلتی چھاؤں  میں  
کس نے  ظلم کے  باندھے  ہیں  
گھنگرو  پاؤں  میں  
٭٭

بیتی یادوں  میں  
آنسو جھلمل کرتے  ہیں  
کس کی آنکھوں  میں  
٭٭

ڈھلکا جب آنچل  
ایک قیامت ہے  ڈھائی  
اف کتنی چنچل  
٭٭

چمپا کی خوشبو  
بھیگی بھیگی راتوں  میں  
پھیلی ہے  ہر سُو  
٭٭  ٭
 

آفتاب مضطرؔ 

بھید ہے  اس میں  کیا
جال میں  آ کر بھی خوش ہیں
مکڑی  اور  مکڑا  
٭٭

وہ سچا فن کار  
جس کی تحریروں  میں  ہو  
خود اس کا کردار
٭٭

کر دیتا ہے  دنگ
شعلہ سا بھڑکاتا ہے
دیپک کا آہنگ
٭٭

یہ بھی اک  گالی  
بیچیں  آدم کے  بیٹے
حوا  کی بیٹی
٭٭

جو غم سہتے  ہیں  
روز و شب کی بانہوں  میں
زندہ رہتے  ہیں
‎‎٭٭٭
 

اظہر عباس(شیخوپورہ)

اک مدت کے  بعد  
کھیل رہا ہوں  چاہت کا  
ٹوٹے  دل سے  کھیل  
٭٭

پڑھنے  آتی تھی  
لیکن چپکے  چپکے  سے  
مجھ کو پڑھتی تھی  
٭٭

جب جب تیز ہوئی  
اس کی یادوں  کی بارش  
آنکھیں  بھیگ گئیں  
٭٭

تیرے  رستے  میں  
ہم نے  خواب سجائے  ہیں  
پھولوں  کے  بدلے  
٭٭

اپنے  ہونے  کا  
مرتا جاتا ہے  احساس  
تیرے  ہونے  سے  
٭٭٭
 

رخسانہ صبا
 
کس نے  چھیڑا راگ  
آنکھوں  سے  برسات ہوئی  
دل میں  بھڑکی آگ  
٭٭

آموں  پر ہے  بُور  
لیکن اپنی دھرتی  پر  
دل ہیں  دکھ سے  چُور  
٭٭

دل ہیں  دکھ سے  چُور  
کب تک ساتھ نبھائیں  گے  
موجیں  اور پتوار  
٭٭

بجلی، بادل، دھوپ  
سب لمحوں  کے  ساتھی ہیں  
جیسے  تیرا  روپ  
٭٭

خوشبو  لہرائی  
تم آئے  تو بول اٹھی  
گم صم تنہائی  
٭٭٭
 

محسن شکیل(کوئٹہ )

غم  آباد  ہوا  
تہذیبوں  کی جنگوں  میں  
دل بغداد  ہو  ا  
٭٭

تجھ  کو  پا لینا  
لگتا ہے  کوئی جگنو  
مجھ  کو  پا لینا  
٭٭

شملنے  کا  منظر  
آبی رنگوں  سے  میں  نے  
کھینچا  کاغذ  پر  
٭٭

مٹی کے  بندھن  
کس مجبوری میں  چھوڑے  
ہم نے  گھر آنگن  
٭٭

سن لو  خود  آ کر  
دکھ  ای۔ ۔ میل نہیں  ہوتے  
چن لو خود آ کر  
٭٭٭
 

افضل مراد  (کوئٹہ )

آنسو تیرے  ساتھ  
ڈھول کی تھاپ میں  ڈوب گئے 
مہندی والے  ہاتھ
٭  

سالِ  نو  کا  رقص
لیکن اس کی آنکھوں  میں 
ہے  ماضی کا عکس
٭٭٭

آنسو کھو آئے 
ہم تو تیری باتوں  میں 
آنکھیں  کھو آئے 
٭٭٭

شبنم روتی ہے 
تنہا پیڑ  کی شاخوں  کا
مکھڑا دھوتی ہے 
٭٭٭

گاؤں  کے  لڑکے 
شہروں  میں  لے  آتے  ہیں 
سپنے  تتلی سے 
٭٭٭

 
  
  روبینہ تحسین بینا  

بیل،ہاری، ہل  
کھیتوں  کی ہریالی ہے  
ہر مشکل کا حل  
٭٭

کیسی حیرانی  
سرد چمکیلے  سور ج کی ہے  
دنیا دیوانی  
٭٭

غم تنہائی کا  
  روتے  روتے  بند ہوا  
  در بینائی کا  
٭٭

آؤ ناں  کھیلو  
اپنی تنہائی کا دکھ  
تنہا مت جھیلو  
٭٭

شبنم رومانی  
فکر و عمل میں  تھا  
جھرنے  کا پانی  
٭٭
 

یعقوب تصورؔ  (ابوظبی)

خوشبو کیا دیں  گے  
گلدستوں  میں  رکھے  ہیں  
کاغذ کے  غنچے  
٭٭

عادت بن جائے  
دکھ حد سے  بڑھ جائے  تو  
راحت بن جائے  
٭٭

گل روندے  تو ہیں  
میں نے بھی انجانے میں
میں  بھی قاتل ہوں  
٭٭


دل ہے بہلانا
خوشبو کا اک جھونکا ہے  
اس کا ہر وعدہ  
٭٭

تیری را ہوں  میں  
سورج کیوں  دَر آتا ہے  
میری آنکھوں  میں  
٭٭

 

عظیم انجم ہانبھی (کوئٹہ )

چھم چھم روئیں  نین  
بادل، تتلی، جگنو، میں  
بِن تیرے  بے  چین  
٭٭

تنہائی ہر سُو  
میلہ تیری یادوں  کا  
پاس نہیں  ہے  تو  
٭٭

پانی برسا ہے  
لیکن پھر بھی ہر مفلس  
بوند کو ترسا ہے  
٭٭

دنیا کے  بدلے  
من کے  پاپی کرتے  ہیں  
جنت کے  سودے  
٭٭

چندا  نکلا  تھا  
لیکن تیری صورت کو  
یہ دل ترسا تھا  
٭٭
 

قیصر نجفی

یاد کرو منظر  
اور بلند ہو جاتا ہے  
کٹ جائے  جب سر  
٭٭  

جذبے  ہو گئے 
حیرت ہے  اب خون کا بھی  
رنگ ہوا ہے  زرد  
٭٭

کیسا ہے  یہ دور  
ہونٹوں  پر کچھ اور ہے  لیکن  
دل میں  ہے  کچھ اور  
٭٭

کون مگر جانے  
کس نے  حقائق لکھے  ہیں  
کس نے  افسانے  
٭٭

حشر کے  ہیں  آثار  
گھر میں  رب کے  دیکھے  ہیں  
لاشوں  کے  انبار  
٭٭٭
 

  میر ساگر رحمن  

  پانی پر اکثر  
  لہریں  لکھا کرتی ہیں  
  اﷲ  اکبر  
  ٭  ٭

  یک دم جذب ہوا  
  دریا ڈوب گیا مجھ میں  
  می گویم  اﷲ  
  ٭  ٭

  کتنا ہے  سُندر  
  نام کسی کا لکھا ہے  
  سادہ کاغذ پر  
  ٭  ٭

  کیسے  دل دے  دوں  
  تم محلوں  کی رانی ہو  
  میں  چرواہا ہوں  
  ٭  ٭

  تو بھی تھوڑا سُن  
  کانوں  میں  رس گھولے  ہے  
  یکتارے  کی دھُن  
  ٭  ٭
 

ظہیر ظرفؔ (حب)

شاید جی جاتے
ہم گر تیری آنکھوں  سے
آنسو پی جاتے
٭٭

ایک یہی ارمان
کوزے  میں  اک بوند نہ تھی
جلتا تھا بولان
٭٭

یادوں  کا ریشم
سنتا رہتا ہوں  شب بھر
جن سے  تیرا غم
٭٭

ایسا لگتا ہے
میرا تجھ سے  صدیوں  کا
رشتہ لگتا ہے
٭٭

یوں  بھی ہوتا ہے
پورا چاند جو دیکھے  تو
جگنو روتا ہے
٭٭٭
 


بھگوان داس اعجازؔ (نئی دہلی)

ہائیکو انٹرنیشنل کی تحریک اور بانی مدیر کی ترغیب سے  اردو کے  کم و بیش ۱۰۰ شعرائے  کرام نے  اس صنف پر طبع آزمائی شروع کی، جبکہ اس منفرد کثیر لسانی جریدے  کے  طفیل ۲۰۰ سے  زائد شعراء کا اردو نیز بڑی تعداد میں  دیگر زبانوں  کے  سخنوروں  کا کلام شائع ہو کر دنیا بھر میں  پہنچا۔ ۔ اس فہرست میں  شامل کہنہ مشق شاعر بھگوان داس اعجاز غزل اور دوہا نگاری میں  معروف ہیں  اور ان کی عنایت ہے  کہ ہائیکو انٹرنیشنل پر نظر کرم فرمائی ۔ ۔ ہمیں  ان کا ہائیکو کلام کئی بار شائع کرنے  کا اعزاز حاصل ہوا، مزید نمونہ ملاحظہ کیجئے :
چلئے  کس کے  ساتھ  
اپنا بھی دشمن لگتا  
 خنجر سب کے  ہاتھ  
٭٭  ٭

  آنکھیں  رکھئے  چار  
کیا شکوہ بے  گانوں  سے  
گھر گھر میں  غدار  
٭٭  ٭

 کیوں  وِشواس نہیں  
جو تم مجھ سے  مانگ رہے  
  میرے  پاس نہیں  
٭٭  ٭

 ہم میدان ڈٹے  
کرسی چھوڑ نہیں  سکتے  
 چاہے  دیس بِکے  
٭٭

جھانک جھروکے  سے  
کس نے  تیرے  بیٹے  کو  
مارا دھوکے  سے  
٭٭
 

ہمت ہار گیا  
سڑک بنا بہتا دریا  
پالا مار گیا  
٭٭

میلے  میں  ٹھیلا  
ٹھیلا اپنوں  نے  لّوٹا  
یہ دکھ بھی جھیلا  
٭٭

بگڑا رنگ و روپ  
پھاند کے  سو دیواروں  کو  
آنگن آئی دھوپ  
٭٭

 
خون، خرابہ،سر  
دیش کے  کونے  کونے  میں  
دہشت، خوف، خطر  
٭٭

آپ ہی جھگڑیں گے
جب ہم آپ کی بگیا سے  
تتلی پکڑیں  گے  
٭٭

دوڑ دوڑ ہانپا  
سایہ مور کا جو دیکھا  
سانپ بہت کانپا  
٭٭
 

دُبدھا میں  خادم  
کبھی تو غصہ دنیا پر  
اور کبھی نادم  
٭٭

دین، دھرم، قانون؟  
پھیلا دیکھو سڑکوں  پر  
انسانوں  کا خون  
٭٭

ہم جھولا جھولیں
اک دُوجے  کے  بھیِتر  کا  
آسماں  چھولیں  
٭٭
 

کیا ہم مقتل ہیں ؟  
مسجد کے  میناروں  سے  
مندر نے  پوچھا  
٭٭

بھید نہیں  جانا  
بہت گیانیوں  نے  چھانا  
دل کا تہہ خانہ  
٭٭

پہرے  پہ جلاّد
گاؤں ، قتل و غارت کا
صبح و شام فساد
٭٭
 

ہاتھوں ہاتھ نہیں
آنکھ دکھاتے  وہ بولے
دن ہے ، رات نہیں !
٭٭

مسجد سے  کچھ دور
جب مندر تعمیر ہوا
وہی راج مزدور
٭٭

دانشور کہتے
مٹی پر جتنا لکھا
سب نے  کم لکھا
٭٭
 

انجم شادانی

 ہماری مساعی یا ترغیب سے  ہائیکو نگاری شروع کرنے  والے  سخنوروں  کی اس فہرست میں  شامل ایک اہم نا م، انجم شادانی (یکے  از بزرگ ترین شعرائے  ارد و ) کا بھی ہے ، جنہوں  نے  سالانہ ہائیکو مشاعروں  سے  دور ہونے  کے  باوجود، ہم پر نظر کرم کی اور اپنے  مجموعہ کلام ’’چراغ خود نہیں  جلتا‘‘ پر خامہ فرسائی کی ہدایت فرمائی، جس کی تعمیل ہوئی۔ انہوں  نے  اس مرتبہ بھی تعلق خاطر کی بنا ء پر خصوصی توجہ فرمائی اور اپنا ہائیکو کلام آخری وقت میں  عنایت فرمایا۔ ۔ 

بول برے  نہ بول  
میٹھی میٹھی باتوں  سے  
کانوں  میں  رس گھول  
٭٭

عدہ جھوٹا ہے  
قسمیں  کھانے  والوں  نے  
قوم کو لُوٹا ہے  
٭٭

دل دیوانہ ہے  
لیکن قسمت کا لکھا  
کس نے  جانا ہے  
٭٭

عشق نچاتا ہے  
صحرا اور ویرانے  کی  
سیر کراتا ہے  
٭٭

کیا ہو کشتی پار  
جب مالک کو بھولا تُو  
ٹوٹ گئی پتوار  
٭٭


ہر انساں  کو لازم ہے 
گوتم کے  افکار
دکھیاروں  سے  پیار

٭٭٭  ٭

نہیں  کسی سے  بَیر  
ہم تو انجم کہتے  ہیں  
اﷲ سب کی خیر!  
٭٭

سن ناداں  انساں  
غیبت کو سن لیتے  ہیں  
دیواروں  کے  کان  
٭٭

 
آؤ بانٹیں  غم  
پُر آشوب زمانے  میں  
مِل بیٹھیں  باہم  
٭٭


پھولوں  پر شبنم  
گلشن کا منظر دیکھیں  
آؤ تم اور ہم  
٭٭

سنو سنو آواز  
ہیروشیما کہتا ہے  
ظلم سے  آؤ باز  
٭٭
 
جب نہ  مانا  من
روٹھ کے  جانے  والے  کا
تھام لیا دامن
٭٭  ٭  ٭

  آنکھوں  کا کاجل  
  جو دیکھے  اس کے  من میں  
مچ جائے  ہل چل  
٭٭

تتلی آتی ہے  
ڈالی ڈالی رنگوں  سے  
پھول کھلاتی ہے  
٭٭

 
چیونٹی کی طاقت  
مولا کی قدرت  
ہاتھی کو ڈھا دیتی ہے  
٭٭

آنکھوں  میں  تصویر  
لکھی ہوئی گویا انجم  
  پانی پر تحریر
٭٭  


اس وقت مجھے  چونکا دینا، جب سامنے  ملتان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
ایک مرتبہ یہ مدیر پُر تقصیر، کسی شاعر کے  گھر موجود تھا، معروف شاعر عارف منصور(سابق منصور ملتانی) بھی تشریف فرما تھے  کہ باتیں  کرتے  کرتے  فرش پر دراز ہو کر محو خواب ہو گئے ، جبکہ ہم دونوں (یعنی یہ راقم اور میزبان) میز کے  گرد بیٹھے ،گفتگو کر رہے  تھے ۔ ۔ کچھ دیر بعد مجھے  شرارت سُوجھی تو آواز دی، منصور صاحب ! خانیوال آ گیا۔ منصور صاحب ہڑبڑا کر اٹھے  اور بولے : ’’ اچھا۔ ۔ یار جب ملتان آ جائے  تو جگا دینا‘‘ اور پھر ایسے  سوئے  کہ خراٹوں  کی گونج میں  ہمارے  قہقہے  دب گئے ۔ 
 

 سہیل احمد صدیقی

  دھوپ نہ چھایا ہے  
  آنکھ مچولی کھیلیں  ہم  
  کہرا چھایا ہے  
  ٭  ٭

کُہرے  کی چادر
سورج بھی شرماتا ہے
کیسا ہے  منظر
٭٭

سنّاٹا بولا  
  رات کی رانی مہکی تو  
  دل میں  درد اٹھا  
  ٭  ٭

دریا بپھرا ہے
دل کی برف جو پگھلی تو
پربت رویا ہے
٭٭

  ریت میں  پھول اُگا  
 سنّاٹے  میں  چپکے  سے  
کوئی سندیسہ لا  
٭

آگ لگاتا ہے
بھونرا جب بھی پھولوں  سے
ملنے  آتا ہے
  ٭  ((۱۵ مارچ ۲۰۰۸ء اور ۷مارچ ۲۰۰۹ء کو سالانہ اردو ہائیکو مشاعرے  میں  پیش کیا گیا کلام)
 

گیت سہانے  ہیں  
  کے ۔ ٹو(K-2)اور فُوجی یاما
  مِیت پرانے  ہیں 
٭٭٭
 

مسلسل ہائیکو:

قاضی اعجاز محورؔ (گوجرانوالا)  

  کیسی لڑکی ہے  
  آنکھوں  کی کھڑکی کھولے  
  بیٹھی رہتی ہے  
  کیسی لڑکی ہے  
٭  ٭

  تپتے  دھوپ بدن پر وہ  
  بادل اوڑھتی ہے  
  کیسی لڑکی ہے  
  میری بے  معنی باتیں  
٭  ٭

  غور سے  سنتی ہے  
  کیسی لڑکی ہے  
  سڑکوں  پر چلتی پھرتی  
  دنیا لگتی ہے  
٭  ٭

  کیسی لڑکی ہے  
  نازک سی اک ٹہنی پر  
  چڑیا جیسی ہے  
  کیسی لڑکی ہے  
٭  ٭

  اپنے  آپ کو سورج کی  
  بیٹی کہتی ہے  
٭٭

غیر مقفیٰ ہائیکو
 منیر سیفی (لاہور)  
ہم سب نیند میں  ہیں  
اور  ہمارے  خواب ہمارا  
معدہ  بُنتا  ہے  
٭٭

کب خرگوش کوئی  
گاڑی کے  نیچے  آ کر  
کچھوے  مرتے  ہیں  
٭٭

رغبت  لاکھ  سہی  
جاپانی پھل کھا نہ سکوں  
جب بیمار  پڑوں  
٭٭

پانی ہی پانی  
ہر سُو پانی ہی پانی  
پردہ اٹھتا ہے  
٭٭

آگ، دھواں ، شعلے  
ایک جہنم ہر جانب  
  پردہ گرتا ہے  
٭٭٭
 

شبہ طراز  (لاہور)

دیکھا تھا تجھ کو
تیری آنکھیں  بھی نم تھیں
باہر تھی برسات  
٭٭

ہمت ٹوٹ گئی
ڈار سے  بچھڑی مرغابی
رہ گئی دور کہیں
٭٭

ٹوٹی پھوٹی تھی
ہنستی رہتی تھی شیبہؔ 
کتنی جھوٹی تھی
٭٭

صُبح دھند بھری  
ملنے  کی دل میں  امید
کھونے  کا خدشہ  
٭٭

گُل، کلیوں  کے  سنگ
میرا دل بھی کھِلتا ہے  
لیکن ۔ ۔ شامِ  غم
٭٭٭
اقبال حیدر، شاہین فصیح ربانی اور قاضی اعجاز محور ہائیکو جیسی مختصر صنف کو مسلسل نظم گوئی کے  لیے  استعمال کرنے  کا تجربہ کامیابی سے  کر چکے  ہیں، البتہ شاہین اسے  ’’ ہائیکوی غزل ‘‘ کہتے  ہیں ۔ یہ سارا مواد ہائیکو انٹرنیشنل کے  شمارہ اول تا نہم شائع ہو چکا ہے ۔ (مدیر)
 

جاپانی مشاہیر کے  طبع زاد ہائیکو خاکے 
انور جاوید ہاشمی

جاپانی ثقافتی مرکز کے  سالانہ ہائیکو مشاعروں  سے  لاتعلق کہنہ مشق شاعر انور جاوید ہاشمی، جاپانی سے  بخوبی آشنا ہیں ۔ انہوں  نے  منظوم جاپانی تراجم کی باقاعدہ کتاب مرتب کی ہے۔ ۔  جاپانی آہنگ (صوتی ارکان ۵۔ ۔ ۷۔ ۵ پر مشتمل )  ان کا نمونہ کلام پیش خدمت ہے :

 تصویر ہیں  آباء کی
خوش باش، شگفتہ دل
 سیرو  کاوا ساکی٭
٭Seiro Kawasaki

قربت کا دعویٰ
اردو زباں  سے  کرتے  رہے
نوری اما گاوا
Yoshi nori ImagawaHiro

کیچی اتا باشی
گر ہائیکو ہم سے  سن لیتے
دیتے  شاباشی
Keichi Itabashi

  
فن کے  ہیں  نباض
ہیرو اومی ساکائی
ہم سے  ہیں  ناراض
Hiro Omi Sakai
  
  بکھرائے  ہنر کے  رنگ  
  سوزوکی تاکیشی نے  ٭ 
  من یوشو کے  سنگ ٭٭
٭  Suzuki Takeshi: ٭٭Manyusho  
 
  ہر وعدہ کریں  پورا
موجودہ کونسل جنرل ہیں ٭
رِکّا  کیِتا مُورا 
Ricca Kitamura 
٭ یہ ہائیکو شاعر موصوف نے  ۱۹۹۵ء میں  نظم کی تھی ۔ موجودہ کونسل جنرل عز ت مآب  شوئی چی ناکانو (Shoichi Nakano)صاحب ہیں ۔ ٭٭من یوشو  جاپانی شاعری کی کتاب جس کے  منظوم اردو تراجم کے  مرتب پروفیسر محمد رئیس علوی اور معاون سوزوکی تاکیشی(آنجہانی) تھے ۔

  ٭٭٭٭٭٭
 

سانول موڑ مہار  (محسن شکیل کے  مجموعہ ہائیکو ’’سرگوشی‘‘ پر خامہ آرائی )
 ڈاکٹر منیر رئیسانی(کوئٹہ)

ہنّہ کی خوابناک وادی گہرے  بادلوں  سے  ڈھکی ہوئی تھی ۔ ۔ ابدیت کی موسیقی نے  دل اور دماغ کو گھیر رکھا تھا۔ ۔ پُر پیچ سڑک لاکھوں  سوال اور اَن گنت جواب لیے  مسکرا رہی تھی ۔ یا۔ شاید اداس تھی۔ ۔ پہاڑوں  اور درختوں  پر وہ بے  شمار آنکھیں  لگی ہوئی تھیں  جنہوں  نے  انہیں  کبھی ۔ یا۔ بارہا خود میں  سمونے  کی کوشش کی تھی۔ ہوا پھولوں  کے  کانوں  میں  جانے  کیا سرگوشیاں  کر رہی تھی کہ ان کی مسکانیں  خوشبو بن کر پھیل رہی تھیں ۔ ایسے  میں  شاعری کا ورود نہ ہو تو کیا ہو؟؟
ہنّہ کی جانب
موٹرسائیکل جاتی ہے 
کچھ اچھے  چہرے 
 کوئی احساس، کوئی خیال، کوئی تجربہ تھوڑے  الفاظ میں  بھرپور،جامع اظہار چاہے  تو غزل کے  شعر میں  ڈھلتا ہے۔ یا۔ ہائیکو کی صورت میں  ظاہر ہوتا ہے ۔ ہائیکو جس نے  بہت تیزی سے  اردو اور دوسری زبانوں  میں  فروغ پایا، بلوچستان میں  پہلے  پہل ہائیکو نگاری کرنے  اور اسے  بطور صنف سخن اعتبار بخشنے  والا نام محسن شکیل ہے ۔ 
  ہائیکو بظاہر سادہ اور سہل نظر آنے  والی صنف جس کے  بارے  میں  غیر سنجیدہ ذہن گمان کر سکتا ہے  کہ کچھ الفاظ ترتیب میں  لکھ دینے  سے  ہائیکو وجود میں  آ سکتی ہے، لیکن ایک توجہ کھینچنے  والی(جاذب نظر۔ ۔ مدیر)، دل کو چھونے  والی، سوچنے  پر مجبور کرنے  والی ہائیکو کہنا کیا معنی رکھتا ہے، یہ سمجھنے  کے  لیے  بے  اختیار ناصرؔ کاظمی کا یہ شعر یاد آ جاتا ہے :  
  کہتے  ہیں  غزل قافیہ پیمائی  ہے  لیکن
  یہ  قافیہ پیمائی کبھی کر کے  تو  دیکھو
  آج کے  عہد میں  جب کہ دوسرے  فن کاروں  کی طرح شاعر بھی عالمی منظر نامے  سے  کٹ کر نہیں  رہ سکتا، نِت نئے  مسائل، نِت نئے  علوم، نئی دریافتیں، پرانے  دردوں (تکالیف۔ ۔ ۔ ۔ مدیر)کی نئی اشکال، اقدار کی تعمیری و تخریبی شکست و ریخت، آسانیوں  کی بہتات، مشکلوں  کی فراوانی، جنگیں ۔ ۔ ۔ سمجھ میں  آنے  والی اور نہ آنے  والی، محبت کی ابدیت، محبت کی بدلتی تعریفیں، جہد حیات میں  شامل فن کار ان سب میں  شامل ہوتا ہے  اور ان پر تبصرہ بھی کرتا ہے ۔ ’’سرگوشی‘‘ کا مطالعہ کرتے  ہوئے  یہ سارے  رنگ آنکھوں  کے  سامنے  پھیل جاتے  ہیں ۔ 
  حمد کہتے  ہوئے  عجز، شاعر کو حصار کرتا ہے  اور عجز ہی کام آتا ہے ۔ ۔ اس عہد کا صاحب مطالعہ شاعر حمد کہتا ہے  تو س کا سائنس کا مطالعہ جھلک دکھا جاتا ہے ۔  
  ہم کس موسم کے 
  بچھے  ہوئے  کچھ منظر ہیں 
  تیری دھرتی  پہ
  بیسویں  اور اکیسویں  صدی کے  اتصال کے  برس، نسلِ انسانی، خصوصاً کمزور اقوام کے  لیے  آتشیں  بربادی کا وہ پیغام لائے  کہ انسان کے  ’انسان‘ ہونے  کا اعتبار اٹھ گیا ۔ ۔ ۔  اس بے  کنار آگ نے  ہوا، پھول، دھوپ، بادل، مسکراہٹ، ہر چیز کو جھلسا دیا اور شاعر کے  احساس نے  اسے  یوں  مصور کیا :
  وہ پھیلی آتش
  جس کی حدت سے  میری
  جھلسی  ہے  بارش

تھی آتش بازی
جس کے  بعد اس دھرتی پر
کالی برف گری
  آج جب ہم کم نظری کے  ایسے  دور کا شکار ہیں  کہ جب معصوم انسانوں  کے  مارے  جانے  پر یہ کہا جاتا ہے  کہ فلاں  واقعے  میں  صرف اتنے  لوگ مارے  گئے ، وہاں  (کسی )ر ت کے  جانے  کا درد محسوس کرنا، محبت کے  شدید احساس کی غمازی کرتا ہے  کہ جسے  صرف محسوس کیا جا سکتا ہے : 
پیلے  پتوں  میں 
واپس جاتی رُت بکھری
اپنی نم آنکھیں 
ڈی ۔ این۔ اے  اور آر۔ ۔ این۔ اے  کے  تعلق کی طرح ’سرگوشی‘ کی ہائیکو ایک طرف تو انسان، فطرت، خوشی، غم کے  ہمیشہ سے  اور ہمیشہ تک کے  موضوعات سے  تعلق رکھتے  ہیں  تو دوسری طرف خالصاً ’آج‘ ان کا موضوع ہے ۔ آج جو سائنس اور ٹیکنالوجی کی دم بہ دم ترقی کا نام ہے  اور آج جو غذائی امدادی کیمپ کی طرف رینگتے  ہوئے  اُس بے  قصور بچے  کا نام ہے  کہ جس کی موت کا انتظار قریب بیٹھا گِدھ کرتا ہے :

سن لو خود آ کر
دکھ ای میل نہیں  ہوتے
چُن لو خود آ کر

کیسا راج کیا
دجلہ اور فُرات، نہیں 
دل تاراج کیا

محنت و سرمائے  کا تضاد(تصادم) ہر دور میں  موجود رہا اور آج شاید ہمیشہ سے  بڑھ کر ہے ۔ محنت اور شدید محنت کے  بعد برائے  نام معاوضہ جسے  جانثار اختر نے  یوں  بیا ن کیا تھا :’’چند سکّے  مِرے  ہاتھوں  میں  چھالوں  کی طرح‘‘۔ ۔ ۔  اور محسن نے  کہا ہے :

  کم اجرت میری
کام نہیں  آیا کرتی
جو  محنت  میری

’’سرگوشی‘‘ کا ایک خاص وصف اس میں  شامل پورٹریٹ ہیں  جو محسن نے  لوگوں  کو پڑھ کر، سن کر، مل کر اور سوچ کر بنائے یہ خاکے  کہیں  تأثر ہیں، کہیں  رائے  اور کہیں  عقیدت۔ ۔ ۔ کہیں  شخصیت کو بیان کرنے  کے  لیے  چند لفظوں  کا ایسا انتخاب کہ تصویر آنکھوں  کے  سامنے  ہو، ان ہائیکو کا وصف ہے، جیسے  اقبال حیدر(کے  بارے  میں ):
خوشبو سیبوں  کی  
چلغوزے  کی نرماہٹ  
لہجہ  بادامی  
۔ یا۔  خادم مرزا  
صدیوں  سے  گہرے
سایہ سایہ لفظوں  میں
جپتا  ہے  چہرے 

 جن لوگوں  کو ہم نے  دیکھا ہو، ان کا ذکر ایسے  ہو کہ پھر سے  سامنے  بیٹھے  محسوس ہوں  اور جو منظر ہم نے  نہیں  دیکھے ، وہ نظروں  کے  سامنے  بکھرے  ہوئے  محسوس ہوں، یہی لفظوں  کے  مصور کا کمالِ فن ہے ۔ 
محسن شکیل نے  اپنی ایک نظم میں  لکھا تھا : ’’ آنسوؤں  سے  بنے  ہوئے  ہم لوگ‘ ‘ ۔ ۔ ۔  مجھے  لگا کہ یہ نظم ’’سرگوشی‘‘ کو سر تا سر محیط کئے  ہوئے  ہے  اور ہر موضوع اس کے  اثر میں  ہے، چاہے  وہ تفکر ہو، یاد ہو، پورٹریٹ ہو، مصروفیات ہوں، ٹیکنالوجی ہو یا پھر محبت کہ جس کے  تحیر میں  آنکھوں  کی نم ناکی شامل ہے  اور جس کے  بارے  میں  مارکس نے  کہا تھا کہ کوئی انسان تمام معاشی مسائل کے  حل ہونے  کے  بعد بھی اداس ہو گا تو اس لیے  کہ اس کا چاہنے  والا اس سے  دور ہو:  
خواہش روتی ہے
کبھی کبھی ہم پر ایسے
بارش ہوتی ہے  

تیرے  جھنجھٹ میں 
گاگر نینوں  کی چھلکی
اس کے  پنگھٹ میں
( ملاحظہ کیجئے  ہماری یہ پرانی ہائیکو :  
بارش ہوتی ہے !  
دل کے  اندر ہر لمحہ!
تو ہی رہتی ہے 
  ۔ ۔ ۔  سہیل احمد صدیقی)
  بڑھتے  ہجوم کے  ساتھ بڑھتی ہوئی تنہائی، کثرتِ تعلق میں  لاتعلقی تیسرے  ہزاریے  ٭ کی معلوم حقیقتیں  ہیں ۔ ۔ ۔ جب یوں  لگے  کہ بہت مل کر بھی کسی سے  نہیں  ملے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی جادو نگری کی بدولت لمحہ بہ لمحہ، ہزاروں  میل دور ہونے  والے  واقعات سے  پَل بھر میں  باخبر ہونے  کے  باوجود، آس پاس اجنبیت گھلی ہو تو پھر کبھی کبھی دروں  بینی بھی پناہ گاہ لگتی ہے :  
  ایک سفر کرنا
خود سے  ہی سرگوشی میں 
عمر  بسر  کرنا
  چوں  کہ محسن شکیل کی بنیادی تربیت غزل کی ہے  اس لیے  ہائیکو کی سرگوشی میں  تغزل کا جمال اونچے  سُروں  میں  جھلکتا ہے  اور لفظوں  کی کاری گری سے  دل آویز پیکر ترشتے  ہیں ۔ ’’ سرگوشی‘‘ کی کرافٹس مین شپ میں  غزل کا حسن چمکتا ہے ۔ ایمائیت، مصرعوں  کی ترتیب، قافیوں  کا برجستہ التزام، بیان کی کمانڈ اور بے  ساختہ پن، سب غزل کی دین ہے :
ویرانی ہر جا
  مہر گڑھ، ہڑپا دل
  موئن جو داڑو سا
٭٭٭
لگتا ہے  ایسے
حدِ نظر اک کوملتا
بچھی ہوئی جیسے
بہری تھی بستی
خاموشی کو پوچھا تو 
گونگی تھی بستی
  فطرت کہ جس کا خوبصورت ترین حصہ انسان ہے۔ ۔ ۔  انسان چاہے  بظاہر کتنا ہی دور نکل جائے ، روز و شب کی مصروفیات میں  کتنا ہی کیوں  نہ کھو جائے ، نت نئی ایجادات کر کے  خود کو کتنا ہی منفرد کیوں  نہ سمجھنے  لگ جائے۔ ۔ ۔ فطر ت اسے  آواز دیتی رہتی ہے، کبھی چاندنی کی کوملتا بن کر، کبھی ابھرتا ہوا سورج بن کر، کبھی گدگداتی ہوئی پُروا بن کر، کبھی جگنو، کبھی تتلی بن کر، کبھی شور مچاتے  دریا کی ہیبت کی طرح اور کبھی پہاڑوں  کے  پُر شکوہ سکوت کی طرح۔ ۔ ۔  محسن نے  کیسا اچھا اظہار کیا ہے :  
کھو گئی کہیں  پکار
میں  بھی خود کو مِلا نہیں 
سانول موڑمہار
٭ ملینی اَم کے  متبادل کے  طور پر یہ لفظ محترم جمیل الدین عالیؔ نے  استعمال کیا جو غالباً اس حقیقت سے  لاعلم ہیں  کہ عوامی زبان (slang)میں  پنجاب کے  ہزارہ حضرات کو ’’ ہزاریے  ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ جب ۲۰۰۰ء؁ کے  آغاز میں  دنیا کی اکثریت کو یہ غلط فہمی لاحق ہوئی کہ بیسویں  صدی اور ملینی اَم ختم ہو گئے  (جو اسی سال کے  اختتام پر ہونے  تھے )تو جاپانی ثقافتی مرکز نے  بھی سالانہ ہائیکو مشاعرے  میں  اس موضوع پر طبع آزمائی کی دعوت دی ۔ ایسے  میں  مختلف شعراء نے  مختلف الفاظ استعمال کیے۔ سہیل احمد صدیقی نے  جدید فارسی لغات کی مدد سے  اس اصطلا ح کے  لیے  لفظ استعمال کیا: ہزارہ۔ ۔ ۔  جو (فارسی گو افغان قبائل، صوبہ سرحد کے  علاقے  اور پنجاب کے  ہزارہ حضرات کے  علاوہ) جدید فارسی میں  ملینی اَم کے  لیے  ہی استعمال ہوتا ہے  اور مشاعرے  میں  اس کی وضاحت بھی کر دی۔ (مدیر)
٭٭٭٭٭
 

 اردو ہائیکو نگاری۔ ایک مختصر جائزہ
سہیل احمد صدیقی

  اردو دنیا کی سب سے  منفرد زبان ہے  جس میں  ہر چھوٹی بڑی زبان کے  ذخیرہ الفاظ اور ادب کو بحسن و خوبی اپنانے  اور سمونے  کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ۔ راقمِ سطور کی تحقیق کے  مطابق کم و بیش پینتیس (۳۵) زبانوں  کے  الفاظ کسی نہ کسی طرح اس عظیم زبان کے  ذخیرے  میں  شامل ہیں ۔ مغربی ادب سے  متاثر ہونے  والے  اکثر خواندہ اور بعض بزعم خویش عالمِ شعرو سخن یہ سمجھتے  ہیں  کہ طبع زاد ادب کی تخلیق ہو یا تراجم، اردو ہر دو لحاظ سے  کمزور زبان ہے ۔ اسی طرح بہت سے  پڑھے  لکھے  اس غلط فہمی میں  نہ صرف مبتلا ہیں  بلکہ اس کا ببانگ دہل پرچار بھی کرتے  ہیں  کہ اس زبان میں  جامعیت کا عنصر مفقود ہے ، مختصر و جامع جملے  محض انگریزی زبان میں  ادا کئے  جا سکتے  ہیں ۔ ۔ ۔ یہ دونوں  باتیں  عملاً غلط ثابت ہو چکی ہیں  اور اگر کوئی ایسا سمجھتا اور کہتا ہے  تو اپنی کم علمی ، نا فہمی اور بے  جا تعصب کا اظہار کرتا ہے ۔ 
  ہماری عظیم زبان کے  متنوع ادب میں  شامل بہت کم عرصے  میں ،بہت تیزی سے  مقبول ہونے  والی صنف سخن ہائیکو ہے ۔ یہ محض اردو کا معاملہ نہیں ، اس وقت دنیا کی تمام قابل ذکر ، بڑی (یا کم از کم اپنے  خطے  کی حد تک)نمایاں  زبانوں  میں  سب سے  زیادہ طبع آزمائی اسی صنف سخن پر ہو رہی ہے ۔ ہائیکو کے  متعلق مبسوط تحقیقی مقالہ لکھنا اور تمام مباحث کو ان صفحات پر بالتفصیل پیش کرنا راقم سطور کے  لیے  محال نہیں ، مگر اس مقام پر ممکن بھی نہیں ۔ ۔ ۔  لہٰذا ضروری معلوم ہوتا ہے  کہ حاضرین کرام کی خدمت میں  مختصر تعارفی مضمون پیش کیا جائے ۔ 
  (جاپانی شاعری دنیا کے  قدیم ترین محفوظ سرمایہ ادب میں  شامل ہے ۔ سنسکرت ،  یونانی ، عبرانی اور کسی حد تک عربی زبانوں  میں  محفوظ لوک (عوامی) ادب انسان کی شعر و ادب سے  ازلی وابستگی کا مظہر ہے ۔ آٹھویں  صدی عیسوی کے  وسط میں  مَن یّوشو [Manyusho]کے  نام سے  ساڑھے  چار ہزار جاپانی منظومات کا مجموعہ مرتب و شائع کیا گیا۔  ۹۰۵ء ؁  یعنی دسویں  صدی کے  آغاز میں  ایک ہزار ایک سو گیارہ منظومات کا مجموعہ کوکن شو اور پھر  ۹۵۱ء؁ میں  تیسرا مجموعہ گوسین شو کے  عنوان سے  منظر عام پر آیا۔ جاپان کی قدیم ترین اصناف سخن میں  چوکا ، واکا یا تنکا اور رینگا(نظم مسلسل) شامل ہیں ۔ نظم مسلسل کے  مختلف تجربات صدیوں  جاری رہنے  کے  بعد اس میں  سے  ایک حصہ ہائیکئی [Haikai]کے  نام سے  جدا کیا گیا، بعد از آں  اسے  ہوکو [Hokku]کہا گیا اور پھر یہ شعری صنف ہائیکو [Haiku]کے  نام سے  موسوم ہوئی۔ ۔ ۔ (یہ معاملہ کسی حد تک اردو کی سب سے  توانا صنف سخن غزل کا ہے  جو کبھی عربی قصیدے  میں  تشبیب کے  نام سے  شامل ایک حصہ تھی، پھر عربی سے  ترکی اور بعد از آں  فارسی میں  یہی تشبیب غزل بن کر گویا ادب کی دلھن قرار پائی۔ فارسی سے  ہم نے  اردو میں  اس منفرد صنف کا پودا لگایا تو ترقی کرتے  کرتے  یہ شجر سایہ دار اپنی ماں  سے  آگے  نکل گیا۔ ۔ ۔ آج لفظ غزل ادا کرتے  ہی اردو غزل کی ہر عمدہ مثال سامنے  آتی ہے ۔)
  جدید ہائیکو کا بانی عظیم جاپانی شاعرمت سوؤ باشو [Matsuo Basho](۱۶۴۴ء تا ۱۶۹۴ء) تھا۔ گویا بطور جدا گانہ صنف ہائیکو کا آغاز سترہویں  صدی میں  ہوا۔ باشو ایک سیلانی شاعر تھا۔ آج اس کا شمار دنیا کے  عظیم ترین شعراء میں  کیا جاتا ہے  اور اس کے  طے  کردہ جادۂ سیاحت پر چل کر جاپان کی سیر کرنا جاپانی اور یورپی اہل سخن کے  نزدیک عظیم سعادت ہے ۔ ہائیکو کے  چار بڑے  اساتذہ میں  باشو ، بوسون [Buson]، اِسّا [Issa] اور شیکی [Shiki]شامل ہیں ۔ ۔ ۔  جدید دور میں  ہائیکو ترقی کے  مختلف مدارج طے  کر چکی ہے  م تکنیک،ہئیت اور موضوعات کے  تنوع کے  با وصف، ان عظیم سخنوروں  کی تعلیمات کو رد نہیں  کیا جا سکتا۔ 
  بدھ مت کی شاخ زین کا فلسفہ ساتوری یعنی آگہی، ہائیکو کا بنیادی فلسفہ ہے ۔ اس فلسفے  کے  تحت مناظر فطرت، مظاہر قدرت کے  مشاہدے  نیز مراقبے  کے  ذریعے  اس ذات اقدس تک رسائی حاصل کی جاتی ہے  جو کائنات میں  اول و قدیم ہے، لیکن اگر غور کریں  تو معاملہ ذرا گنجلک ہو جاتا ہے  کیوں  کہ بدھ مت کی اصل، بنیادی تعلیمات میں  خدا کا واضح تصور موجود نہیں !
آج ہائیکو دنیا کے  ہر موضوع سے  متعلق نظر آتی ہے،مگر مناظر و مظاہر کے  گاہے  گاہے  باقاعدہ انفرادی و اجتماعی گروہ در گروہ مطالعے  ، مشاہدے  اور مراقبے  کا اہتمام مختلف تہواروں  پر کیا جاتا ہے ۔ گویا اس صنف کی بنیاد آج بھی ترو تازہ ہے ۔ ہائیکو کی تکنیکی بنیاد یک صوتی حروف [Monosyllabic characters] پر ہے  جو غیر مقفیٰ[non-rhymed] ہوتے  ہیں  اور نظم کرتے  وقت ان کی ترتیب یہ ہوتی ہے :  پانچ۔ سات۔ پانچ=۵۔ ۷۔ ۵
 موسیقی کی بنیاد پر اسے  یوں  سمجھا جا سکتا ہے :  سارے  گا ما پا=/۵دھا نی سارے  گا ما پا=/۷سارے  گا ما پا=۵
یعنی جب آپ اپنی زبان میں  ہائیکو نظم کریں  تو اس کی شکل یوں  ہو گی کہ پہلے  مصرع میں  الفاظ،وزن کے  لحاظ سے  پانچ صوتی ہوں  گے، دوسرے  میں  سات اور تیسرے  میں  پھر پانچ۔ جاپانی ہائیکو میں  موسم کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اس نظم میں  کی دائی [KIDAI]یعنی موضوعِ  موسم [Season theme] اور کی گو [KIGO]یعنی حرفِ موسم یا حرف فصل[Season word]، ضروری عنصر ہوتے  ہیں ۔ جدید ہائیکو میں  ان لازمی عناصر سے  انحراف عام ہے  مگر پابندی کا رواج ختم ہونے  کی بجائے  بہت مقبول ہے ۔ 
  دسمبر ۱۹۲۲ء؁ میں  معتبر ادبی جریدے  ’نگار‘ (لکھنؤ) نے  بیرسٹر سید حسن عابد جعفری کا یادگار مضمون ’’ جاپانی شاعری پر اک نظر‘‘ شائع کیا۔ فاضل مصنف نے  اس نگارش کے  ذریعے  ہائیکو سمیت مختلف اصناف کا تعارف اردو گو طبقے  سے  کرایا۔ یہ اہم مضمون بہت جلد فراموش کر د یا گیا٭، پھر ۱۹۳۶ء؁ کی ابتداء میں  ایک اور اہم جریدے  ’ساقی‘ (دہلی) کا ’’ جاپان نمبر‘‘ شائع ہوا۔ اس اہم خصوصی شمارے  میں  عزیز تمنائی،فضل حق قریشی اور علی ظہیر جیسے  ادیبوں  نے  ہائیکو اور دیگر جاپانی اصناف کے  تراجم کی خدمت انجام دی۔ مواد کی فراہمی میں  نور الحسن برلاس کا کردار کلیدی تھا۔ 
  ۱۹۳۶ء؁ سے  ۱۹۶۰ء؁ تک اردو میں  جاپانی صنف سخن ہائیکو کے  (بذریعہ انگریزی) تراجم کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ نمایاں  مترجمین میں  حمید نظامی، میراجی، ظفراقبال، کلیم الدین احمد، عبدالعزیز خالد، قاضی سلیم وغیرہ شامل ہیں ۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں  عبدالعزیز خالد کی کتاب’’ غبار شبنم‘‘ کے  ذریعے  ہائیکو کے  آزاد، تکنیکی لحاظ سے  محض سادہ سہ مصرعی تراجم سامنے  آئے ۔ ۱۹۶۳ء؁ میں  نامور اردو شاعر محسن بھوپالی(مرحوم) نے  سندھی سے  ہائیکو کے  منظوم تراجم کر کے  ’افکار‘ (کراچی) میں  شائع کرائے۔ ۱۹۶۶ء؁میں  قاضی سلیم کے  آزاد ہائیکو کی اشاعت کا ذکر ملتا ہے  جو ہئیت کے  لحاظ سے  ناقص نظمیں  تھیں ۔ ۱۹۷۰ء؁  یا  ۱۹۷۱ء؁  کی بات ہے  جب معروف شاعر آفاق صدیقی اور ا ن کے  دوستوں  ڈاکٹر تنویر عباسی اور شیخ ایاز نے  دریائے  سندھ کے  کنارے  نجی محفل میں  پہلی مرتبہ باقاعدہ اردو ہائیکو نظم کی۔ ہماری خوش نصیبی ہے  کہ محترم آفاق صدیقی صاحب اس وقت یہاں  تشریف فرما ہیں ۔ ٭٭٭
  ۱۹۷۰ء؁ کی دہائی میں ڈاکٹر محمد امین جاپان گئے  تو وہاں  انہیں  ہائیکو سے  باقاعدہ تعارف حاصل ہوا۔ ان کی کوشش اور تحریک سے  ملتان اور پنجاب کے  دیگر حصوں  میں  اس صنف کا رواج ہوا۔ ڈاکٹر محمد امین نے  اردو ہائیکو کا پہلا مجموعہ ۱۹۸۱ء؁ میں  مرتب کر کے  شائع کیا جو اَب نایاب ہے ۔ اس کے  بعد اردو مجموعہ ہائے  کلام کا سلسلہ چل پڑا اور آج ان کی تعداد کم و بیش پچاس ہے ۔ علاقائی زبانوں  میں  بھی ہائیکو کا چلن اتنا زیادہ ہے  کہ ان میں  آئے  دن مجموعے  شائع ہو رہے  ہیں ۔ 
  کراچی سمیت پاکستان بھر میں  ہندوستان ، بنگلہ دیش ، امریکا، برطانیہ نیز دیگر خطوں  میں  اردو ہائیکو کی مقبول ترین بحر، بحر متقارب ہے  یعنی:  فعلن، فعلن، فع/فعلن، فعلن، فعلن،فع/ فعلن، فعلن، فع ۔ اس کے  برعکس پنجاب مکتب فکر نے  اکثر بحر خفیف مسدس(فاعلاتن، مفاعلن، فعلن۔ ۔ ۔ ) اپنائی ہے، جسے  عرف عام میں  مساوی الاوزان[Equal meter] کہا جاتا ہے۔ اب ذرا ان دو بحروں  کی مثالیں  ملاحظہ کیجئے :
  بحر متقارب:  

پانی کا جھرنا
ڈھونڈو تو مل جائے  گا
پیاسے  مت مرنا

شاعر: اقبال حیدر

ساحل پہ ہر شام
گیلی ریت پہ لکھتی ہے 
پگلی میرا نام  

شاعر: سہیل احمد صدیقی
  فعلن، فعلن، فع= ۵ صوتی ارکان/فعلن، فعلن، فعلن،فع=۷ صوتی ارکان/ فعلن، فعلن، فع=۵ صوتی ارکان
(ہمارے  عروض داں  دوست آفتاب مضطرؔ کا کہنا ہے  کہ یہ دراصل بحر متدارک ہے، جسے  سہواً متقارب کہا جاتا ہے)
بحر خفیف مسدس:  
روشنی کی لکیر چھوڑ گیا
شب کی کالی سلیٹ پر جگنو
یاد آیا مجھے  نسیم کوئی
  شاعر: نسیم سحر  
  اردو میں  ہائیکو کہنے  والوں  کی تعداد دو سو(۲۰۰) سے  زائد ہے ۔ ان میں  بزرگ ترین سخنور تابش دہلوی(مرحوم) اور راغبؔ مراد آبادی شامل ہیں، علاوہ ازیں  اس صنف کے  سرپرستوں  میں  پروفیسر محمد رئیس علوی، محسن بھوپالی(مرحوم)،اقبال حیدر، وضاحت نسیم اور دستاویزی کام کے  لحاظ سے  سہیل احمد صدیقی نمایاں  ہیں ۔ ہائیکو کے  مقبول اور ممتاز شعراء میں  لیاقت علی عاصم، آفتاب مضطرؔ ،شاہدہ تبسمؔ ،رخسانہ صبا،شاہدہ حسن،شہاب الدین شہابؔ ،یاسر چغتائی، جمالؔ نقوی،فاطمہ حسن اور راشد نور اہم نام ہیں ۔ بزرگ شعراء میں  قمرؔ جمالی امروہوی، رساؔ چغتائی، حمایت علی شاعرؔ ،شبنم رومانی، منظر ایوبی، جاذبؔ قریشی،رئیس باغی،سحرانصاری، سہیل غازی پوری جیسے  قابل ذکر سخنور اور جواں  سال قافلے  میں  سہیل احمد صدیقی، روبینہ تحسین بیناؔ ، شہزاد نیاز سمیت بہت سے  نام شامل ہیں ۔ جاپانی سے  واقف اردو شعراء میں  ڈاکٹر محمد امین، پروفیسر محمد رئیس علوی، محترمہ وضاحت نسیم، آفتاب مضطر اور سب سے  کم عمر شہزاد نیاز شامل ہیں ۔ (دوسری طرف مکتب پنجاب میں  ایک بڑی تعداد اب کراچی کی طرح ۵۔ ۷۔ ۵ کی بنیاد پر متفق ہوتی دکھائی دیتی ہے  اور یوں  ڈاکٹر بشیر سیفی (مرحوم)،نسیم سحر جیسے  سینئر اور اظہر عباس جیسے  نسبتاً جواں  سال اس قافلے  میں  شامل نظر آتے  ہیں ۔)
  اردو ہائیکو کے  مجموعوں  میں  بعض اپنی انفرادیت منوا چکے  ہیں جیسے  آفتاب مضطرؔ کا ’’ سورج کے  اس پار‘‘ جس میں  تمام نظموں  پر عنوان چسپاں  کیا گیا اور منتخب ہائیکو کے  جاپانی تراجم پیش کیے  گئے، جمالؔ نقوی کا ’’ نغمے  سورج دیس کے ‘‘ جس میں  منتخب نظموں  کا جاپانی اور تمام نظموں  کا انگریزی میں  ترجمہ اور عنوانات کا التزام کیا گیا،نسیم سحر کا ’’ روشن دان میں  چڑیا‘‘ جس میں  بحر متقارب اور بحر خفیف مسدس دونوں  کا بیک وقت پہلی مرتبہ اہتمام کیا گیا۔ اس طرح ہائیکو مجموعوں  میں  خارج و باطن کے  تمام پہلوؤں  کی حسین اور بھرپور ترجمانی کے  لحاظ سے  فراست رضوی کا ’’ کہر میں  ڈوبی شام‘‘قابل ذکر ہے ۔ ضمنی نکات میں  عرض کرتا ہوں  کہ آفتاب مضطر اور جمالؔ نقوی دونوں  کے  منتخب کلام کا ترجمہ عزت مآب شیگی یوکی اتاکا[Shigiuki Ataka](سابق مشیر برائے  کونسل جنرل جاپان، کراچی)نے  کیا جن کا اسلامی نام محمد عظمت ہے ۔ جمالؔ کی تمام ہائیکو کا انگریزی ترجمہ سہیل احمد صدیقی نے  کیا ہے ۔ اردو شاعرات میں  پہلا مجموعہ ’’پانچ ۔ سات۔ پانچ‘‘ محترمہ ثروت سلطانہ ثروتؔ کی تخلیق ہے ۔ ۔ ۔  ابھی پروگرام کے  آغاز سے  کچھ دیر قبل وہ مجھے  بتا رہی تھیں  کہ ان کا دوسرا ہائیکو مجموعہ بھی منتظر اشاعت ہے، یوں  وہ پہلی اردو شاعرہ ہوں  گی جن کے  دو ہائیکو مجموعہ ہائے  کلام شائع ہوئے ۔ راقم کے  شائع کردہ محترمہ وضاحت نسیم کے  مجموعے  ’’ دل چھونے  والا منظر‘‘ میں  طبع زاد کلام کے  ساتھ ساتھ جاپانی سے  براہ راست تراجم بھی شامل ہیں ، جبکہ ان کے  فوری بعد اسی سال (۲۰۰۶ء؁ میں )  راقمِ حروف کا مجموعہ ہائیکو ’’ خوش کن ہے  پت جھڑ‘‘ منظر عام پر آیا، جو اس لحاظ سے  منفرد ہے  کہ اس میں ،اس خاکسار نے  کسی بزرگ سے  تنقیدی مضمون لکھوانے  کی بجائے  خود اپنے  کلام پر تنقید کی ہے ۔ ٭٭٭٭

  اردو ہائیکو کی روز افزوں مقبولیت میں  سب سے  اہم کردار ان سالانہ ہائیکو مشاعروں  کا ہے  جو ۱۹۸۳ء؁ میں  جاپانی قونصل خانے  کے  ثقافتی مرکز نے  پروفیسر ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی کی تحریک سے  شروع کیے  اور آج تک کامیابی سے  جاری ہیں ۔ ان مشاعروں  میں  طبع زاد کلام کے  ساتھ ساتھ جاپانی سے  (بذریعہ انگریزی)منظوم تراجم پیش کیے  جاتے  ہیں ۔ کچھ سال سے  یہ مشاعرہ پاکستان جاپان کلچرل ایسوسی ایشن کے  انصرام و اشتراک سے  منعقد ہو رہا ہے۔ کچھ عرصے  بعد (۱۹۹۰ء؁ کی دہائی  میں ) سفارت خانہ جاپان کی سرپرستی میں  اسلام آباد میں  اور پھر قونصل خانے  کے  زیر نگرانی کوئٹہ اور لاہور میں  ہائیکو مشاعروں  کا انعقاد شروع ہوا۔ پاکستان ہائیکو سوسائٹی کے  بانی اقبال حیدر نے  متواتر ۲۴ سال ہائیکو مشاعروں  میں  کلام پیش فرمایا اور ان کی مساعی سے  متعدد مقامی زبانوں  میں  ہائیکو شاعری کا فروغ ہوا۔ آج جب ہم ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کر رہے  ہیں  تو وہ ہمارے  درمیان تشریف فرما نہیں، ہم سب ان کی بحالی صحت کے  لیے  دعا گو ہیں ۔ (ان دنوں  اقبال حیدر امریکا میں  مقیم اور اپنی ادبی سرگرمیوں  کے  احیاء کی کوشش میں  مصروف ہیں)
  ۱۹۹۸ء؁ میں  اردو دنیا میں  ہائیکو کے  فروغ کے  لیے  پہلا اور واحد کثیر لسانی [Multi-lingual]رسالہ ’’ ہائیکو انٹرنیشنل ‘‘ کراچی سے  جاری ہوا۔ (براہ کرم اسے  کثیر اللسانی نہ لکھا جائے ، یہ کوئی عربی اصطلاح نہیں !) تا حال اس رسالے  کے  نو(۹) شمارے  شائع ہو چکے  ہیں، جن میں  چار مشاہیر سخن محسن بھوپالی(مرحوم)، اقبال حیدر، وضاحت نسیم اور رئیس علوی پر وقیع خصوصی شمارے  بھی شامل ہیں ۔ ہائیکو انٹرنیشنل کا ’’ اقبال حیدر نمبر‘‘ پندرہ علاقائی و بین الاقوامی زبانوں  میں  مواد اور ترتیب و پیش کش کے  لحاظ سے  اہم ترین کارنامہ ہے، جبکہ ہائیکو انٹرنیشنل مجموعی طور پر پچیس زبانوں  میں  ہائیکو سے  متعلق مواد (طبع زاد،تراجم،تنقیدی مضامین،تبصرے،تعارف، انتخاب سمیت) شائع کر کے  عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہے ۔ اقبال حیدر نمبر کے  دو ایڈیشن شائع ہوئے  اور ان کی تقریب پذیرائی پرل کانٹی نینٹل ہوٹل، کراچی اور اکادمی ادبیات، کوئٹہ میں  منعقد ہوئی۔ اس جریدے  کا بانی مدیر و ناشر یہ خاکسار ہے ۔ اس رسالے  اور مدیر کی تحریک و ترغیب سے  کم و بیش سو(۱۰۰) شعراء ہائیکو کی طرف راغب ہوئے  جبکہ ۲۰۰ شعرائے  کرام کا بیرونی دنیا سے  تعارف بھی ہوا۔ ٭٭٭٭٭
 
ہندوستان میں  اس صنف پر قدرے  کم کام ہوا۔ ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی جو کم و بیش ہر قدیم و جدید صنف کے  سرپرست ہیں، انہی نے  سب سے  پہلے  ۱۹۹۱ء؁ میں  اپنے  دوست شوبھو سین گپتا کے  تعاون سے  اردو ہائیکو کا انتخاب انگریزی، ہندی اوربنگلہ تراجم کے  ساتھ ’منتخب ہائیکو ‘ کے  نام سے  جمع کر کے  شائع کیا۔ ان کے  علاوہ علیم صبا نویدی نے  مسلسل طبع آزمائی کرتے  ہوئے  تین ہائیکو مجموعہ ہائے  کلام پیش کئے ۔ دیگر ممتاز شعرائے  کرام میں  شارق جمال ناگ پوری، نادم بلخی، محسن باعشن حسرتؔ ، شمیم وارثی، عطا عابدی، مفتاح اعظمی وغیرہ شامل ہیں  جبکہ ہائیکو انٹرنینشل کی تحریک سے  متاثر ہو کر طبع آزمائی کرنے  والوں  میں  نمایاں  ترین نام دوہے  کے  بزرگ شاعر بھگوان داس اعجاز کا ہے ۔ ادھر بنگلہ دیش میں  سوائے  احمد سعدی (مرحوم) اور ایوب جوہر (مرحوم) کے  کوئی ہائیکو نگار نظر نہیں  آتا، دونوں  کا کلام مذکورہ جریدے  نے  شائع کیا، جبکہ موخرالذکر نے  اسی تحریک کے  زیر اثر ہائیکو نگاری شروع کی تھی۔ ابوظبی میں (یہ ابوظہبی نہیں  ہے !)  یعقوب تصور واحد مستند ہائیکو نگار ہیں  جن کا مجموعہ کلام پاکستان سے  ہی شائع ہوا، ان کے  علاوہ ظہور الاسلام اور اظہار حیدر نے  بھی طبع آزمائی کی۔ برطانیہ سے  محض ساحر شیوی کا ایک مجموعہ شائع ہونے  کی خبر ملی تھی، جبکہ ہائیکو انٹرنیشنل کی ابتداء میں  ان کا کلام نظر سے  گزرا تو معلوم ہوا کہ وہ ابھی اس صنف سے  پوری طرح آشنا نہیں ۔ 
  آخر میں  یہ عرض کرنا،ناگزیر معلوم ہوتا ہے  کہ ہئیت،مزاج اور موضوعات کے  تنوع کے  سبب، اردو ہائیکو بھرپور اور پرکشش صنف سخن بن چکی ہے ۔ حمد و نعت، منقبت و مناجات، رنگِ تغزل، حب وطن، شہر آشوب، عصر حاضر کی ہمہ جہت عکاسی، مستقبل بینی، غرض کس موضوع اور کس جہت کی کمی ہے ۔ ۔ ۔  اس خاکسار کی تحریک سے  بعض شعراء نے  حمد و نعت میں  بھی اسی کی تقلید میں  فطرت نگاری فرمائی۔ اردو ہائیکو جمالیاتی لحاظ سے [aesthetically]جاپانی ہائیکو سے  مختلف بھی ہے ، کہیں کہیں  مماثل بھی اور ہم اہل زبان کی نظر میں  تو دنیا کی کسی بھی زبان کی ہائیکو سے  زیادہ مؤثر بھی!
 اختتام پر میں  ہائیکو مشاعرے  کے  جشن سیمیں  کی مناسبت سے  اپنی ایک ہائیکو آپ کی نذر کرتا ہوں : 
دکھ سکھ سانجھا ہو  
ساون رُت ہو یا پت جھڑ  
راضی رانجھا ہو  
(۱۵مارچ ۲۰۰۸ء؁ کو  جاپانی ثقافتی مرکز،کونسل خانہ جاپان، کراچی کے  زیر اہتمام سلور جوبلی اردو ہائیکو مشاعرے  میں  پڑھا گیا کلیدی مضمون)
 ٭  بہرحال اس کی بازیافت کا سہرا ہائیکو انٹرنیشنل کے  سر ہے ، جس نے  ڈاکٹر فرمان فتح پوری کے  تعاون سے  اسے  دوبارہ شائع کیا۔ 
٭٭ اس ضمن میں  اولیت کے  بعض اور انکشافات یا دعوے  بھی موجود ہیں ، مگر تحقیق نہیں  ہو سکی، مثلاً کہا جاتا ہے  کہ میراجی، حمید نظامی اور سجاد ظہیر نے  ہائیکو یا ہائیکو نما اردو طبع زاد نظمیں  ۱۹۴۰ء؁ کی دہائی میں  لکھنا شروع کر دی تھیں ۔ 
٭٭٭ان کی تعداد کا تعین مشکل ہے، اندازے  کے  مطابق  ۵۰ سے  زائد اور ۱۰۰ سے  کچھ کم  ہوں  گے ۔ 
٭٭٭٭یہ مجموعہ کلام پوری دنیا سے  آن لائن ہونے  والا پہلا اردو ہائیکو مجموعہ کلام ہے :http://khushkun.spaces.live.com
 

 ہائیکو :  ایک خوش رنگ صنف سخن  
عذرا اصغر٭
  اب سے  تقریباً چودہ پندرہ برس پہلے  باضابطہ طور پر ہائیکو سے  میرا تعارف ہوا اور قدرے  تفصیل سے  میں نے  اس کے  اسرار و رموز سے  آگاہی حاصل کی۔ یہ بات نہیں  تھی کہ میں  ہائیکو سے  ناآشنا تھی لیکن شاعری سے  تعلق نہ ہونے  کی وجہ سے  میں  توجہ نہیں  دے  سکی تھی اور اب ۔ ۔ ۔  میں  خود حیران ہوئی کہ جب نہایت بے  ساختگی سے  میرے  قلب و ذہن پر اس کا نزول ہوا۔ اپنی ہئیت ، لحن ، صوت و آہنگ اور موضوع کے  اعتبار سے  ہائیکو بہت بھائی اور مجھے  اس کے  بے  ساختہ پن نے  سب سے  زیادہ متاثر کیا بلکہ چونکایا۔ 
  جیسا کہ سب جانتے  ہیں  ہائیکو جاپانی شعری صنف ہے ۔ پاکستانی شعراء نے  اس صنف کو پر مسرت خوش آمدید کہا اور اسے  اپنی شعری اصناف میں  مقام دیا مگر بعض شعراء نے  ہائیکو کو غزل سے  مماثل کرتے  ہوئے  اسے  سنجیدہ شاعری کا درجہ دینے  سے  انکار کیا ہے ۔ ان کا خیال یہ بھی ہے  کہ دوسری درآمدی اصناف سخن کی طرح ہائیکو بھی جلد اپنا اثر ختم کر دے  گی اور متروک صنف کا درجہ پالے  گی۔ ایسا خیال پیش کرتے  ہوئے  وہ حضرات یہ بھول جاتے  ہیں  کہ وہ درآمدی اصناف سخن مثلاً ترائیلے  ،  لمرک اور سانیٹ وغیرہ اپنے  نئے  پن کے  باوجود اگر اردو شاعری میں  اپنا مقام نہ بنا سکیں  تو ایسا ان اصناف کی مشکل پسندی اور سخت اصول و قواعد کی پیچیدگی و پابندی کے  باعث ہوا جب کہ ہائیکو ایک مترنم شعری صنف ہے  جو میرے  خیال میں  وقت کے  ساتھ مزید ترقی کرے  گی اور پاکستانی مزاج میں  رچ بس جائے  گی۔ 
  بعض کہنہ مشق غزل گو شعراء نے  ہائیکو کے  آہنگ میں  غزل سے  مماثلت و مشابہت تلاش کی ہے  جبکہ مجھے  ہائیکو کے  تین مصرعوں  میں  مختصر افسانے  کا گداز نظر آتا ہے ۔ بسا اوقات ہائیکو کے  تین چھوٹے  چھوٹے  مصرعے  ایک اچھوتی ، کومل سی کہانی میرے  ذہن میں  بَننا شروع کر دیتے  ہیں  اور میرے  دل میں  بیکل جذبے  کلبلا اٹھتے  ہیں ۔ یہ احساس ہائیکو کا اعجاز ہی تو ہے ۔ 
  ہائیکو کے  سلسلے  میں  اگرچہ ۵۔ ۷۔ ۵ کے  وزن اور سترہ سلیبل کی پابندی کا چرچہ عام ہے  لیکن اس کے  ساتھ ہی مساوی الاوزان ہائیکو بھی لکھے  جا رہے  ہیں  نیز جاپانی ہائیکو نگاری کے  مطالعے  سے  یہ بات سامنے  آئی ہے  کہ بیشتر جاپانی شعراء نے  ۵۔ ۷۔ ۵ کی پابندی سے  انحراف کرتے  ہوئے  بھی ہائیکو کہے  ہیں ۔ اردو میں  بھی ایسے  کچھ تجربے  ملتے  ہیں۔ میرے  پاس طوالت کی گنجائش نہیں  اور نہ ہی اس کا محل ہے  کہ مثالیں  پیش کی جا سکیں ۔ قصہ کوتاہ ہائیکو اپنی منفرد ہئیت ، آہنگ اور موضوع کے  اعتبار سے  بے  حد مختصر نظم ہے  جو اپنے  اختصار اور جوالا مکھی انداز کے  سبب مکمل اور منظم ہے ۔ خیال اور لحن کی کوملتا کے  لحاظ سے  ہائیکو ایک ایسی نازک اندام ، البیلی حسینہ کی مانند ہے  کہ جس کی دید جمالیاتی حسیات کو شگفتگی و راحت بخشتی ہے  اور طلسمِ خیال کو مہمیز لگاتی ہے ۔ 
  اردو میں  ہائیکو نگاری کا یہ اولین دور ہے۔ اردو ہائیکو شعراء اور ناقدین ابھی اس کے  مزاج ، اسلوب اور موضوع کے  تعین پر غور کر رہے  ہیں ۔ ۔ ۔  لیکن میں یہ سمجھتی ہوں  کہ ہائیکو کے  قواعد و ضوابط میں  کوئی پیچیدگی نہیں  ہے ۔ ہائیکو کا بنیادی اصول اختصار اور فطرت سے  ہم آہنگی ہے ۔ جاپانی معاشرہ فطرت کے  حسن کا گرویدہ ہے۔ ان کے  یہاں  بہار کی آمد کا استقبال جس جوش و خروش سے  کیا جاتا ہے ، خزاں  کا سواگت بھی اسی والہانہ جذبے  سے  ہوتا ہے ۔ جاپانی قوم کے  نزدیک ہر قدرتی منظر قابل دید اور لائق تحسین ہے ۔ موسم برسات کا ہو یا سرما کا۔ بہار تو بہار ہے  ہی ۔ خزاں  بھی اپنا جداگانہ حسن رکھتی ہے ۔ جوہڑ میں  مینڈک کے  ٹرانے  کی آواز ہو یا تاریکیِ شب میں  جگنو کی چمک ، غنچے  کے  چٹکنے  کی صدا ہو یا نالۂ بلبل انہیں  یکساں  متاثر کرتی ہے  اور وہ ہر موسم ، ہر منظر ، ہر آواز اور ہر موسمی تغیر کو اپنی شاعری میں  عکس بند کرتے  ہیں ۔ ہائیکو جاپانی اقوام کی فطری حس جمالیات پر محیط ہے ۔ پاکستانی قوم کا مزاج بھی کم و بیش جاپانی قوم سے  مطابقت رکھتا ہے ، شاید یہی وجہ ہے  کہ ہائیکو نے  اردو شعراء کے  مزاج سے  بہت تھوڑے  وقت میں  وابستگی پیدا کر لی ہے  اور اردو کی مخصوص اصناف سخن کے  ساتھ گھل مل گئی ہے ۔ 
  اردو کے  ناقدین نے  ہائیکو کے  بارے  میں  مختلف توجیہات و توضیح پیش کی ہیں ۔ مثلاً ڈاکٹر وزیر آغا کا کہنا ہے  کہ (بعینہٖ یہ لفظ نہیں ہیں ) ہائیکو کے  پہلے  دو مصرعے  فطرت سے  متعلق ہوتے  ہیں ، تیسرے  مصرعے  میں  ایک جست ہے  جو قاری کا ذہن اور تخلیق کار کا قلم لگاتا ہے ۔ گویا یہ تیسرا مصرع اس خلاء کو پر کرتا ہے  جو دو مصرعے  بناتے  ہیں ۔ یہ ایک مصرع تجریدی ہوتا ہے ۔ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے  بلکہ ایک تجسس قاری کے  ذہن میں  چھوڑ دیتا ہے ۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے  خیال میں  ’’ یہ ایک ایسی جاپانی صنف سخن ہے  جو تجربات ، مشاہدات اور خیالات کا اظہار کرتی ہے  جس سے  عام زندگی کا ایک نیا پہلو ، کسی خیال کا نیا رخ اور کسی بات کی نئی جہت سامنے  لاتی ہے ‘‘۔ 
  اردو کے  ناقدین نے  ہائیکو کے  بارے  میں  مختلف توجیہات و توضیح پیش کی ہیں ۔ مثلاً ڈاکٹر وزیر آغا کا کہنا ہے  کہ (بعینہٖ یہ لفظ نہیں ہیں ) ہائیکو کے  پہلے  دو مصرعے  فطرت سے  متعلق ہوتے  ہیں ، تیسرے  مصرعے  میں  ایک جست ہے  جو قاری کا ذہن اور تخلیق کار کا قلم لگاتا ہے ۔ گویا یہ تیسرا مصرع اس خلاء کو پر کرتا ہے  جو دو مصرعے  بناتے  ہیں ۔ یہ ایک مصرع تجریدی ہوتا ہے ۔ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے  بلکہ ایک تجسس قاری کے  ذہن میں  چھوڑ دیتا ہے ۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے  خیال میں  ’’ یہ ایک ایسی جاپانی صنف سخن ہے  جو تجربات ، مشاہدات اور خیالات کا اظہار کرتی ہے  جس سے  عام زندگی کا ایک نیا پہلو ، کسی خیال کا نیا رخ اور کسی بات کی نئی جہت سامنے  لاتی ہے ‘‘۔ 
  ہائیکو سے  متعلق پروفیسر ڈاکٹر محمد امین کا حوالہ بہت معتبر ٹھہرتا ہے  کہ وہ اردو ہائیکو نگاری کے  بانی ہیں ٭٭وہ کہتے  ہیں  : ’’ ہائیکو ایک ثقافتی صنف سخن ہے  جو جاپانی ثقافت میں  زیادہ با معنی لگتی ہے۔ ہائیکو بنیادی طور پر ایک خیال ، ایک تاثر ، ایک تصویر یا ایک منظر کو اختصار کے  مؤثر انداز میں  پیش کرنے  کا نام ہے  اور اس لیے  اس میں  کسی بڑے  فلسفیانہ موضوع کو سمونے  کی گنجائش کم ہے ۔ جاپان میں  زین بدھ مت کے  ماننے  والے  ہائیکو نگار شعراء نے  فلسفیانہ اور مذہبی موضوعات پر بھی ہائیکو لکھے  ہیں  مگر ان کا انداز بھی تاثراتی ہے  جن سے  صرف زین فلسفے  سے  واقف لوگ ہی لطف اندوز  ہو سکتے  ہیں ۔ ہائیکو کسی بڑے  فکری زاوئے  یا فلسفے  کی متحمل نہیں  ہو سکتی ۔ اس کا بنیادی انداز اس کا مقتضی نہیں ’’۔ 
  مجھے  ڈاکٹر محمد امین کے  خیال سے  صد فی صد اتفاق ہے ۔ ہائیکو آزاد تخیلاتی شاعری ہے  جس میں  جذبوں  کی کوملتا اور فطرت کا حسن جلوہ نما ہے ۔ ردیف ، قافیہ ، بحر کی بندش اور بھاری بھرکم مضامین کی آمیزش سے  ہائیکو کی فطری لطافت متاثر ہوتی ہے ۔ فطرت کے  لاتعداد رنگ اور زاوئے  ہیں  جن کے  اظہار کے  لیے  ہائیکو موزوں  ترین صنف سخن ہے۔ شاعری کے  کمالاتِ فن کو برتنے  کے  لیے  اردو شعراء کے  پاس اور کئی اصناف سخن موجود ہیں ۔ اختصار ، موسم کا تغیر اور منظر نامہ ہائیکو کا بنیادی وصف اور حوالہ ہے۔ اس خصوصیت کو قائم رہنا چاہئے ۔ بقول ڈاکٹر محمد امین اگرچہ ہائیکو میں  فلسفیانہ مضامین سمانے  کی گنجائش نہیں  ہے  لیکن انسانی جذبات اور ان کی خوش رنگ کیفیات کو بیان کرنے  کی بہت گنجائش ہے  اور یہی چیز ہائیکو کے  مضبوط ، درخشاں  مستقبل اور ترقی کی ضمانت بھی ہے ۔  
٭ بزرگ شاعرہ اور افسانہ نگار محترمہ عذرا اصغر کی یہ تحریر اصل میں  لاہور میں  ہونے  والے  پہلے  ہائیکو مشاعرے  کا خطبہ صدارت ہے۔ یہ مشاعرہ کچھ برس قبل منعقد ہوا تھا۔ 
٭٭ تحقیق سے  یہ بات ثابت ہو چکی ہے  کہ ڈاکٹر محمد امین سے  بھی  مدتوں پہلے  اردو میں  ہائیکو لکھی جا چکی ہے ، بہرحال اس میں  کوئی شک نہیں  کہ ان کی مساعی سے  اس صنف نے  اردو میں  بہت فروغ پایا۔ (س ا ص)
 

’’شاعر علی شاعرؔ کی ہائیکو نگاری۔ ۔ ۔  ایک سرسری جائزہ‘‘
 رخسانہ صبا  

  مذہب کا تصور روح انسانی کے  ساتھ اس طرح وابستہ و پیوستہ ہے  کہ فلسفہ ،نفسیات، طبیعیات، ما بعد الطبیعیات اور علم و دانش کے  دیگر شعبوں  سے  لے  کر شاعری ، مصوری، موسیقی، خطاطی اور فنون لطیفہ کے  مختلف گوشوں  تک اس کے  رنگ بکھرے  ہوئے  ہیں ۔ دنیا کی کسی بھی زبان کے  ادب کا مطالعہ کیجئے  روحانی علوم کی مہک اور باطنی اسرار کی چمک سے  خالی نہیں  ملے  گا۔ اردو زبان بطور خاص مذہبی تصورات کے  سرمائے  سے  اس لیے  بھی مالامال ہے  کہ برصغیر میں  مسلم حکمرانوں  اور مسلم تہذیب کے  سائے  میں  پروان چڑھنے  والی اس زبان کا سرچشمہ عربی اور فارسی ادب سے  جا ملتا ہے  اور یہ دونوں  زبانیں  مسلم حکماء ، شعراء ، ادباء اور مفکرین کے  فکر و دانش کا ایسا گلزار ہیں  جو ابد تک معطر و معنبر رہے  گا۔  
  اردو شاعری کی طرف نظر ڈالئے  تو خصوصاً حمد و نعت کے  حوالے  سے  ایک بیش بہا ذخیرہ موجود ہے  جس میں  ہر گزرتے  پل کے  ساتھ اضافہ ہو رہا ہے ۔ خصوصاً یہ بات قابل توجہ ہے  کہ ایسی اصناف سخن میں  بھی حمد و نعت کے  موضوعات نظم کئے  جا رہے  ہیں جن کا تعلق اردو شعر و ادب کی روایت سے  بالکل نہیں  ہے  مثلاً ہائیکو۔ سبھی جانتے  ہیں کہ ہائیکو خالصاً جاپانی زبان کی صنف سخن ہے  جو اردو میں  پہلے  تراجم کے  ذریعے  داخل ہوئی اور پھر طبع زاد ہائیکو لکھنے  کا ایک نہ ختم ہونے  والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اردو میں  ہائیکو لکھنے  کے  جو مختلف تجربے  ہوئے  انہوں  نے  ہائیکو کے  مزاج کو نئے  ذائقوں  سے  آشنا کیا اور جاپانی ہائیکو اردو کی لفظیات و تراکیب کے  پیرہن میں  ایک نئے  انداز سے  جلوہ گر ہوئی اور جب اردو زبان کے  شعراء و شاعرات نے  حمدیہ و نعتیہ ہائیکو کثرت سے  لکھیں  تو اس صنف سخن کی اجنبیت یگانگت میں  بدل گئی۔ 
  شاعر علی شاعرؔ بھی حمدیہ اور نعتیہ ہائیکو لکھ کر اس روایت کو آگے  بڑھا رہے  ہیں ۔ اگرچہ اس نام سے  میری شناسائی پہلی بار ہوئی ہے  مگر ان کے  دو حمدیہ اور نعتیہ مجموعے  ’’ارمغان حمد‘‘ اور ’’صاحب خیر کثیر‘‘ جب میرے  زیر مطالعہ آئے  تو مجھے  محسوس ہوا کہ شاعر علی شاعرؔ حقیقتاً ایک مذہبی ذہن کے  حامل ہیں  اور انہوں  نے  حمدیہ اور نعتیہ شاعری کو صرف روایت کے  طور پر اختیار نہیں  کیا۔ ان کے  مندرجہ ذیل اشعار یقیناً میری اس بات کی تائید کے  لیے  کافی ہیں ۔ 
حمد لکھتا ہوں  اس لیے  دل سے
حمد لکھنا  مِرا  فریضہ  ہے  
ہو گا  سوال  حسن  عمل  حشر میں  اگر	
کہہ دوں  گا لکھ کے  لایا ہوں  مدحت حضور(ﷺ) کی
  شاعر علی شاعرؔ کے  مجموعہ حمد ’’ ارمغان حمد‘‘ میں  اگرچہ لفظ اﷲ کے  ۶۶ اعداد کی نسبت سے  ۶۶ حمدیں  بھی موجود ہیں  مگر اس وقت موضوع گفتگو ہیں  ان کی ۹۹ حمدیہ ہائیکو جو خدائے  بزرگ و برتر کے  ۹۹ اسمائے  صفاتی کی نسبت سے  کہی گئی ہیں ۔ اگرچہ کہیں  کہیں  بعض لفظیات کے  استعمال میں  احتیاط سے  کا م نہیں  لیا گیا، تاہم کوشش کی گئی ہے  کہ ہائیکو کی مروجہ بحر کا التزام رکھا جائے :  
ہوتے  ہیں  بیدار
سب سے  پہلے  دیکھوں  میں
تیرے  ہی انوار

رب کو یاد کرو
اﷲ اﷲ ہُو سے
دل آباد کرو

تو ہی ہے  بے  عیب 
تم  سب کے  بارے  میں  جانے 
ظاہر ہو یا غیب

  شاعر علی شاعرؔ کی حمدیہ ہائیکو اس لحاظ سے  ضرور انفرادیت کی حامل ہیں  کہ غالباً اسمائے  الہٰی کے  حوالے  سے  ہائیکو کا یہ پہلا انتخاب ہے  اور شاعر علی شاعرؔ یقیناً اس حوالے  سے  قابل داد ہیں  مگر اس کے  ساتھ ساتھ اس کتاب میں  دو باتیں  قابل توجہ بھی ہیں ۔ اول تو یہ کہ بعض اسمائے  الٰہیہ مثلاً  یا عظیم ،  یا غفور،  یا سلام ،  یا خافض اور یا عدل کے  عنوانات کے  تحت دو دو ہائیکو موجود ہیں جبکہ بعض اسمائے  صفاتی مثلاً المعید ، المحیی، المتین ، المقسط، المعطی اور المانع کی نسبت سے  کوئی ہائیکو موجود نہیں ۔ ۔ ۔ دوم یہ کہ بعض ہائیکو مکمل طور پر صفات الٰہیہ کے  حوالے  سے  تحریر کی گئی ہیں  مگر انہیں  متعلقہ عنوانات کے  تحت درج نہیں  کیا گیا مثلاً:  نام اس کا  ستّار
  سب کی بخشش کرتا ہے 
  میرا رب غفار
مندرجہ بالا ہائیکو ’’ یا لطیف و عزوجل ‘‘ کے  عنوان کے  تحت درج ہے  اسی طرح 
تو ہی  ہے  رحمٰن
تجھ سے  مانگوں  بخشش میں 
کر دے  عطا  غفران
’’یا قہار و عز و جل‘‘ کے  عنوان کے  تحت درج ہے  جبکہ ’’یا رحمٰن عزوجل ‘‘ کے  عنوان کے  تحت جو ہائیکو موجود ہے  اس میں  اﷲ تعالیٰ کی رحمانیت کا ذکر نہیں  اور اس طرح کی کئی اور مثالیں  بھی موجود ہیں ۔ یہ بات قابل تعریف ہے  کہ شاعر علی شاعرؔ ہائیکو کے  بنیادی رموز سے  آشنا ہیں۔ جہاں  ان کے  یہاں  پانچ۔ سات۔ پانچ کے  وزن کی پابندی نظر آتی ہے  وہیں  فطرت نگاری (جو جاپانی ہائیکو کا خاص وصف ہے  اور جسے  اردو میں  بھی ہائیکو کے  شعراء اور نقاد اہمیت دیتے  ہیں )کی بھی کئی دل کش مثالیں  اس کتاب میں  موجود ہیں مثلاً:   
  ہر جا تو ہی تو
  تیرا کلمہ پڑھتے  ہیں
  راتوں  کو جگنو

موجیں  کہتی ہیں
اس کے  اذن سے  ہی ساری
ندیاں  بہتی ہیں

گلشن میں  خوشبو
ذکر خدا میں  رہتے  ہیں
جنگل میں  آہو

ساون میں  دیکھا
تو ہی بُنتا ہے  خالق
رنگوں  کی ریکھا  

  شاعر علی شاعرؔ کے  نعتیہ مجموعے  ’’ صاحب خیر کثیر‘‘ میں  نعتوں  کے  علاوہ تقریباً ۲۵ عدد نعتیہ ہائیکو موجود ہیں  اور ان میں  بھی خلوصِ قلبی اور عشق رسول( ﷺ) کی کیفیات بہت نمایاں  ہیں  مثلاً  

  نام ادب سے  لے
  سارے  اجالے  پھیلے  ہیں
  اسم محمد (ﷺ) سے

منظر نکھرے  ہیں
ہر سُو آقا کے  شاعرؔ 
جلوے  بکھرے  ہیں

رب کی نعمت
ان(ﷺ) کو بنا کر بھیجا ہے 
رحمت ہی رحمت

الغرض اردو کی حمدیہ اور نعتیہ ہائیکو  کے  ذخیرے  میں  شاعر علی شاعرؔ کی ہائیکو اچھا اضافہ ہیں۔ امید ہے  ان کا سفر جاری رہے  گا۔
٭٭٭
 

 چھبیسویں  سالانہ ہائیکو مشاعرے  کی مختصر رپورٹ

۷ مارچ ۲۰۰۹ء کو چھبیسویں  سالانہ ہائیکو مشاعرہ جا  پان ثقافتی مرکز،کونسلیٹ جنرل آف جاپان(کراچی) کے  زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں  ۳۴ شعراء کو مدعو کیا گیا اور کل ۳۲ شعرائے  کرام نے  شرکت کی۔ شعراء کے  اسماء الف بائی ترتیب سے  مندرجہ ذیل ہیں :آفتاب مضطرؔ ، احتشام ثاقب(ہمدرد یونی ورسٹی)، امتیاز ساغرؔ ،باقر زیدی، پروین نظیر سومرو، ثروت سلطانہ ثروتؔ ،جاذب قریشی،جمال نقوی،راشد نور، راغبؔ مراد آبادی،رخسانہ صبا،روبینہ تحسین بیناؔ ، رئیس باغی، رئیس علوی، سائل آزادؔ ، سہیل احمد صدیقی، سہیل غازی پوری، شاہدہ تبسم، شاہدہ حسن، شہاب الدین شہابؔ ،شہزاد نیاز،شہناز نور،عزیز الرحمن عزیزؔ ، فاطمہ حسن،فراست رضوی، لیاقت علی عاصمؔ ، معراج جامیؔ ،نجمہ خان،نسیم نازش،نقاش کاظمی، وضاحت نسیم،یاسر چغتائی
اس مشاعرے  میں  سہیل احمد صدیقی کے  مشورے  پر شبنم رومانی کی یاد تازہ کرتے  ہوئے  ہر شاعر نے  مرحوم کی شان میں  ایک ہائیکو کہی، جبکہ بعض نے  ایک سے  زائد بھی کہیں، مرحوم کے  فرزند فیصل عظیم کے  تاثرات اور ان کی ہائیکو ای ۔ ۔ میل کے  ذریعے  موصول ہوئی جسے  حسب وعدہ سہیل احمد صدیقی نے  حاضرین کے  سامنے  پیش کیا۔ اقبال حیدر نے  بھی سہیل احمد صدیقی کو اسی طرح ہائیکو ارسال کیں ، جنہیں  سہیل کی گزارش پر محترمہ وضاحت نسیم نے  پیش کیا۔ ۔ اس موقع پر مرحوم کی صاحبزادی کنول نے  اپنے  تاثرات سے  آگاہ کیا۔ ۔ 
امسال مشاعرے  میں  اس وقت سیاسی رنگ بھر گیا جب محترمہ ثروت سلطانہ ثروتؔ نے  کچھ سیاسی ہائیکو پیش کیں کہ مہمان خصوصی نثار کھوڑو، اسپیکر صوبائی اسمبلی تھے  اور پھر سلسلہ دراز ہوا تو کئی شعرائے  کرام نے  اس میں  بھی بصد شوق حصہ لیا۔ محترمہ فاطمہ ثریا حمیدی نے  اظہار خیال کرتے  ہوئے  اپنی جگہ پروفیسر محمد رئیس علوی کو مدعو کیا جنہوں  نے  برجستہ انگریزی میں  خطا ب کیا (موجودہ کونسل جنرل آف جاپان اردو سے  واقف نہیں  ہیں )۔ تقریب سے  کونسل جنرل  جاپان عزت مآب شوئی چی ناکانو نے  بھی خطا ب کیا۔ ۔ 
نمونہ کلام وضاحت نسیم: 

 سرما کا بادل
کہساروں  پر پھیلا ہے
برفانی کمبل


تن آسانی میں
سر نیہوڑائے  بیٹھے  ہیں
بگلے  پانی  میں


آنکھ اجالا ہو
ایک بہار خزاں  پر ہے 
دیکھنے  والا ہو

پچیسویں  سالانہ ہائیکو مشاعرے  سے  انتخاب٭

۱۵مارچ ۲۰۰۸ء کو جاپان ثقافتی مرکز،کونسلیٹ جنرل آف جاپان(کراچی) کے  زیر اہتمام ۱۹۸۳ء؁ میں  پروفیسر ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی مرحوم کے  ایماء پر شروع ہونے  والے  اردو ہائیکو مشاعروں  کا جشن سیمیں  منایا گیا۔ اس سلسلے  میں  ایک مرتبہ پھر مشاعرہ کونسلیٹ کی اپنی عمارت میں  منعقد ہوا، جبکہ اس ضمن میں  پاک جاپان کلچرل ایسوسی ایشن کا اشتراک بھی شامل تھا۔ حسب سابق، منتظمین نے  شعراء کی فہرست کے  لیے  ہائیکو انٹرنیشنل کے  بانی مدیر سے  مشاورت کی اور عین وقت پر تمام مشوروں  اور سابق تجربات سے  قطع نظر بعض شوقین اور با رسوخ سرپرستوں  کے  طفیل چند ایسے  نام شامل کر دئے  جو یا تو ہائیکو نگار نہیں  یا سرے  سے  شاعر ہی نہیں ۔ ۔ ۔  بقول کسے :  ؂  ناطقہ سر بہ گریباں  ہے  اسے  کیا کہئے 
 محترم اقبال حیدر گزشتہ تمام چوبیس مشاعروں  میں  مسلسل شریک ہونے  والے  واحد شاعر تھے  جو اپنی علالت کے  سبب اس مرتبہ امریکا سے  تشریف نہ لا سکے  اور ان کی غیر موجودگی میں  ان کا کلام سہیل احمد صدیقی نے  پیش کیا جبکہ محترمہ شاہدہ تبسم بھی کسی سبب غیر حاضر رہیں  تو ان کی غیر موجودگی میں  ان کا کلام شہاب الدین شہابؔ نے  سنایا۔ منتخب کلام قارئین کرام کی نذر کیا جاتا ہے :
آفاق صدیقی:  

 اپنا ملنا کیا
پل دو پل کے  ساتھی ہیں
خوشبو اور ہوا

آفتاب مضطرؔ :  

روشن پاکستان
جھیل رہا ہے  مدت سے
بجلی کا بحران

اقبال حیدر:

جیسے  کٹی پتنگ
روٹھ رہے  ہیں  آنکھوں  سے  
روشنیاں  اور رنگ

امتیازساغرؔ :

عطر اگر ہوتا
ان کی کملی چھو لیتا
نورِ  سحر  ہوتا

پروین نذیر سومرو:

شہر ہوئے  تاراج
موت نے  سر پر رکھا ہے
سناٹے  کا تاج

ثروت سلطانہ ثروتؔ :  
پھول سے  لب کھولو
میں  نے  اتنی باتیں  کیں 
تم بھی کچھ بولو  

جاذبؔ قریشی:

کس کی ہے  تصویر
تیری اجلی آنکھوں  میں
کون ہوا زنجیر

حمایت علی شاعرؔ :

کوئی بات نہیں
تیرے  ہاتھ میں  کب
تیرا ہاتھ نہیں

راشد نور:

ایک خموشی ہے 
تنہائی اور آہٹ میں  
کیا سرگوشی ہے  

 رخسانہ صبا:

تنہا ہے  یہ دل
جیسے  اپنی موجوں  سے
بچھڑا ہو ساحل

روبینہ تحسین بیناؔ :

موسم کی بارش
مٹی میں  بھر دیتی ہے
جینے  کی خواہش

رئیس باغیؔ :

اے  قلب مضطر
پھولوں  کی آرائش ہے 
چاہت کا مظہر


 سہیل احمد صدیقی:

ریت میں  پھول اگا
سناٹے  میں  چپکے  سے
کوئی  سندیسہ  لا

سہیلؔ غازی پوری:

سن سن کر بہتان
بہرے  ہونے  والے  ہیں
دیواروں  کے  کان

شاہدہ تبسم:  

جھرنا گرتا ہے 
دور تلک بکھرا منظر
نغمہ سنتا ہے 

شاہدہ حسن:

نفرت کا یہ راگ
  گھر سے  گھر تک دیکھواب
پھیل نہ جائے  آگ

شبنمؔ رومانی:

پھول ہیں  گملوں  کے
ہم خود بھی تو مجرم ہیں
خودکش حملوں  کے

شوئی نِشی مورا:  (جاپانی طالب علم)

سن میرا پیغام
پھول سے  پہلے  کانٹے  ہیں 
ہو آہستہ خرام 

شہاب الدین شہابؔ :

حسن کا یہ اظہار
جھیل ہو جیسے  آئینہ
پربت جیسے  نار

شہزاد نیاز:

بچھڑا جب وہ آج
من آنگن میں  تب سے  ہے
سناٹے  کا راج

فراست رضوی:  

جاپانی اشعار 
جیسے  چاندنی رات میں  
پھولوں  کے  انبار


 لیاقت علی عاصمؔ :

ہر جھونکے  کے  بعد
پھولوں  سے  خوشبو آئی
خوشبو سے  اک یاد

منظرؔ ایوبی:

خوار تھے  جو دن رات
پگڑی سر پر رکھتے  ہی
بھول گئے  اوقات

قاش کاظمی:  

نجب محبوب گیا 
دل کی گلیوں  میں  جیسے 
سونا ڈوب گیا  

 وضاحت نسیم:

اپنا اپنا بخت
اک پتھر میں  چشمہ ہے
اور اک پتھر سخت

یاسرؔ چغتائی: 

تیری چوکھٹ پر
اب میں  بجھنے  والا ہوں 
ذرّوں  میں  بٹ کر
  ٭ انتخاب کے  وقت کئی باتیں  پیش نظر رہیں، بعض مشاہیر کا کلام بوجوہ نقل نہ کیا جا سکا اور ایک شوقین شاعر چوں  کہ ہمیشہ ہائیکو کی بجائے  سین ریو(Senryu) پڑھتے  ہیں  (بطور مزاحیہ اداکار) جو اس صنف سے  جدا،مگر مماثل( طنز و مزاح پر مبنی )صنف سخن ہے ، لہٰذا ان کا نمونہ کلام بھی شامل نہیں  کیا جا رہا۔  مدیر
٭٭٭ 

گوشہ  شبنمؔ رومانی  
شبنمی حیات کا عکاس۔ شبنم رومانی

سہیل احمد صدیقی

زندگی ہے  
  وہ طلسمی گنبدِ آفاق گیر
 جس کی جوہر کار قوت کے  اسیر
آسمانوں  کے  عجائب، کہکشانوں  کے  ضمیر
جس کا پُر اُسرار پیچیدہ جمال
کل بھی تھا اِک حرفِ حیات
آج بھی ہے  اِک سوال
شبنم کے  قطرے  جیسی مختصر مگر بھرپور حیات پر ایسا جامع تبصرہ کرنے  والا پچھلے  دنوں  ہم سے  جدا ہو کر دائم آباد کا مکین ہو گیا۔ ۔ ۔ ایسی نظمیہ شاعری پر آج کتنے  شاعر قادر ہیں ؟  یہ سوال ڈاکٹر محمد علی صدیقی کے  ذہن میں  تب ابھرا ہو گا، جب انہوں  نے  ’’ جزیرہ‘‘ پر اظہارِ خیال کرتے  ہوئے  کہا تھا:’’ اگر شبنم رومانی اپنی نظموں  پر فخر کریں  تو بجا ہے ۔ ۔ یہ نظمیں  جدید حسّیت کی آئینہ دار ہیں  اور بذاتہٖ خوبصورت شاعری ہیں ‘‘۔ 
مدتوں  یہ چلن رہا اور آج بھی کسی حد تک برقرار ہے  کہ مجموعہ کلام کی اشاعت پر سکہ بند ناقدین سے  تحسین آرائی کو کہا جائے ۔ ۔ ۔ یہ عمل کس قدر ناگزیر ہے ، اس پر بحث بھی بہت ہو چکی اور جواز یا امکان پر گفتگو بھی۔ ۔ ۔  یہاں  یہ کہنا مقصود ہے  کہ بعض نقاد قلم کی حُرمت کا پاس رکھتے  ہوئے  خامہ آراء ہوتے  ہیں  تو کسی ہیرے  کی قدر ہر کس و ناکس کے  ذہن میں  مزید نمایاں  ہو جاتی ہے ۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے  خود شاعر ہوتے  ہوئے  یہ کلمات لکھ کر اپنی کشادہ ذہنی، اعلیٰ ظرفی اور ہمارے  ممدوح کے  کلام کے  حیرت زا تاثر کی بے  ساختہ ترجمانی کی ہے :’’۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شبنم رومانی کی شاعری میں  امکانات کا جہاں  اس قدر وسیع، بے  کنار اور اُن چھوا ہے  کہ مَیں  شاید اس جہان کی ہلکی سی تصویر بھی پیش نہ  کر سکوں ‘‘۔ (’’جزیرہ‘‘)
’’ جزیرہ‘‘ میں  محض ایک دہائی کی شاعری خصوصاً منظومات کا احاطہ کیا گیا، جب کہ غزل کا پری چہرہ جا بجا اپنا جلوہ دکھاتا نظر آتا ہے  اور کیوں  نہ ہو۔ ۔ ۔  کسی بھی موزوں  طبع کے  لیے  یہ ناممکن ہے  کہ محض نظم کہے، وہ بھی خصوصیت سے  نظمِ آزاد اور غزل کی زلفِ گرہ گیر کا اسیر نہ ہو۔ ۔ ۔  میں  یہاں  اپنی کسی گزشتہ تحریر کا غیر ضروری حوالہ دئیے  بغیر عرض کرتا ہوں کہ علماء کا یہ نظریہ عملاً بالکل بر حق ہے : ’’ کسی مذہب کا انکار بھی بجائے  خود ایک مذہب ہے ‘‘۔ یعنی وہ جو غزل کے  منکر ہوں، ان کی شاعری بھی اگر کسی قابل ہوئی تو اسی کے  طفیل!
نظمیہ شاعری میں  جدیدیت یا جدید حسّیت کی بات اب بطور کلیشے  جا، بے  جا دہرائی جاتی ہے ، مجھے  صرف یہ کہنا ہے  کہ اگر شاعر اپنی کسی بھی صنف کی شاعری سے  ذہنوں  کو اس طرح تازہ و بیدار نہیں  کر سکتا جیسے  رات کے  سوئے  پتّوں  اور پھولوں  کو شبنم کے  قطرے  کرتے  ہیں  تو اُسے  کوئی اور کام کرنا چاہئیے ۔ ۔ ۔ 
یہاں  ضمنی طور پر ڈاکٹر انور سدید کا حوالہ بھی پیش خدمت ہے :’’شبنم رومانی کی شاعری ان کے  وجود کا ظاہر بھی ہے  اور باطن بھی۔ ۔ ’جزیرہ‘ کی نظموں  میں، انھوں  نے  جدید حسّیت سے  ظاہر و باطن میں  ادغام پیدا کیا ہے  اور ’’رومانی‘‘ ہونے  کے  با وصف، حقیقت کی ہمہ رخ نقاب کشائی کی ہے ‘‘۔ (اردو ادب کی مختصر تاریخ، صفحہ نمبر ۵۲۳)
شبنم رومانی نے  تخلص کا حق ادا کرتے  ہوئے  ’’جزیرہ‘‘ کے  آغاز میں  ایک جدید نعت ’’ حرفِ نسبت‘‘ شامل کی جو تکنیک اور شعریت کے  لحاظ سے  لائقِ داد بھی ہے  اور باعثِ تقلید بھی۔ ۔ ۔  وہ جو کہتے  ہیں  کہ نعت گوئی میں  جدت طرازی محال ہے ، ’’ حرفِ نسبت‘‘ پڑھ کر اپنی اصلا ح کر لیں  :
جس نے  پایا انھیں 
وہ فقیرِ حرم 
معرفت کے  حرا ء میں  مکیں  ہو گیا
جس نے  سوچا انھیں  
وہ خدا کی قسم 
ماورائے  زمان و زمیں  ہو گیا
بات چلی تھی غزل کی تو شبنم رومانی نے  اولین مجموعہ کلام میں  مختصر، درمیانی اور طویل بحر کی ایسی عمدہ مثالیں  رقم کیں  کہ آج ہم چاہیں  بھی تو بہ آسانی تنقید کا حق ادا نہیں  کر سکتے  (جسے  بعض ناعاقبت اندیش یا تو نِری تنقیص سمجھتے  ہیں  یا نِری تحسین۔ ۔ ۔  الامان والحفیظ!)
کون سا رنگ اختیار کریں ؟  
خود کو چاہیں  کہ تجھ سے  پیار کریں ؟ 

میں  گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں، دریا کے  اس پار  
لمحوں  کا پتھراؤ ہے  مجھ پر، صدیوں  کی یلغار  

شاخِ گلِ تر، شاخِ گلِ تر! خوشبو ہم کو بھی، ورنہ
تجھ سے  اپنا حق لے  لیں  گے، آج کلائی موڑ کے  ہم
کلاسیکی رچاؤ کا حامل جب کوئی شخصی حوالہ پیش نظر رکھتے  ہوئے  عقیدت کے  اظہار کے  لیے  طبع آزمائی کرتا ہے  تو ایسے  شعر معرضِ وجود میں  آتے  ہیں :
روح کو ترستا تھا جسم اک زمانے  سے 
زندگی ملی آخر اُن کے  آستانے  سے 
داغ بن کے  آیا تھا اِس حریمِ اقدس میں 
چاند بن کے  نکلا ہوں  اپنے  پِیر خانے  سے 
پی رہا ہوں  آنکھوں  سے  گھونٹ گھونٹ بینائی
آ رہی ہے  دانائی مجھ میں  دانے  دانے  سے 
(’’ منظوری‘‘۔ حرفِ نسبت در شانِ شاہ محمد فاروق محبوب رحمانی رحمۃ اﷲ علیہ)
راقم نے  اسکول کے  زمانے  میں  یہ شعر بہت لہک لہک کر پڑھا اور یاد کیا:
میری باتیں  بہکی بہکی جیسے  میرؔ کے  نازک شعر  
اس کی باتیں  سوچی سمجھی، جیسے  غالبؔ کا دیوان
شبنم رومانی کے  اس مشہور شعر سے  ڈاکٹر سلیم اختر جیسے  نامور نقاد و نفسیات داں  کے  ’’ پیش لفظ‘‘ کا آغاز ہوتا ہے  جو ’’تہمت‘‘ میں  شامل ہے ۔ (میری ناقص رائے  میں  اس مضمون کا عنوان ’تہمت کے  شاعر کا نفسیاتی تجزیہ ‘ ہوتا تو بہتر تھا۔ ۔ ۔  بہرحال)ناقدِ موصوف نے  شبنمؔ کی شاعری اور ادبی شخصیت پر بہت عمدہ نفسیاتی تنقید رقم کی۔ ایک جگہ انہوں  نے  ۱۹۶۴ء؁ کے  ایک مشاعرے  کے  حوالے  سے  شبنم صاحب کے  کلام کی عابد علی عابدؔ اور ناصرؔ کاظمی کے  الفاظ میں  تحسین بلا تبصرہ نقل کی ۔ ۔ ۔ حیرت ہے ، ہمارا پیارا شاعر، راہِ میرؔ کا مسافر، ناصرؔ کاظمی یہ کہہ گیا:’’ مجھے  خوشی ہے  کہ کراچی میں  بھی غزل کہی جا رہی ہے ‘‘۔ ۔ ۔  تکلف برطرف، اسے  پڑھ کر دو باتیں  برملا ذہن میں  آتی ہیں :
ا)۔ ۔ ادب میں  یہ ’ شہری تعصب‘ اس دور میں  بھی موجود تھا جب ہم نے  اس شہرِ نا پُرساں  میں  آنکھ کھولی۔ 
ب)۔ ۔ ناصرؔ بھی بہت سے  دیگر سخنوروں  کی طرح ’’نرگسیت پسند‘‘ تھا۔ (اس تأثر کو روزنامہ ایکسپریس میں  شامل حمید اختر کے  کالم بر موضوع’’ مجھے  تو حیران کر گیا وہ‘‘ از احمد عقیل روبی، مؤرخہ ۲۵اپریل ۲۰۰۹ء؁ سے  بھی تقویت ملتی ہے )
’’ تہمت‘‘ زدہ شبنم رومانی(بقول خود) جب میرؔ کے  کسی حد تک تابع ہونے  کے  باوجود یہ کہتے  ہیں :
صاف تردیدِ شعرِ میرؔ ہے  تو  اپنی زلفوں  کی خود اسیر ہے  تو
  کیا گیا تِرے  لب کو گلاب سے  موسوم  مگر گلا ب کی بے  جان پنکھڑی کیا ہے !
(نازکی اس کے  لب کی کیا کہئے  پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے )
تو اُن کی خود اعتمادی کسی بھی بڑے  نقاد سے  دادِ تحسین وصول کرتی نظر آتی ہے ۔ ۔ ۔ یہ وہ نکتہ ہے  جو ایک بزعمِ خویش’’ میرؔ شکن‘‘  شاعر سمجھ لیں  تو میرؔ کے  نام پر مادر زاد مغلظات بکتے  ہوئے  یہ کہنے  کی بجائے  کہ ’’ میں  ایسے  دو لاکھ شعر کہہ سکتا ہوں ‘‘ ۔ ۔ ۔  شبنمؔ جیسا ایک ہی شعر کہہ دیں ۔ (یہاں  مَیں  نے  کوئی دس برس پرانی ایک آنکھوں  دیکھی روایت بیان کرنے  کی جسارت کی ہے ۔ ۔ ۔ 
حیرت صد حیرت یہ ہے  کہ شاعر موصوف نے  بعد از آں  خود پر ایک کتاب مرتب کرائی تو اس میں  جا بجا خود کو ’’پیروئے  میرؔ ‘‘ کہلوایا اور صدمے  کا مقام یہ ہے  کہ اس کے  مرتب کے  طور پر ہمارے  ایک نامور محقق، نقاد کا نام تھا جو اَب اس دنیا میں  نہیں  رہے، خدا مغفرت کرے !)
اردو غزل میں  مومن خاں  مومنؔ جیسا تخلص کا بھرپور، برملا استعمال کسی کو نصیب نہیں  ہوا، مگر جدید تغزل نے  بعض مستثنیٰ نام بھی ہمیں  عطا کیے، شبنم رومانی ان میں  نمایاں  ہیں، جنہوں  نے  محض مقطع ہی میں  شبنم افشانی نہیں  کی، بلکہ کہیں  کہیں  مطلع بھی ایسا کہہ گئے  کہ قدماء آج ہوتے  تو گلے  سے  لگالیتے :
ہم تِرے  حسن میں  بھی شانِ خدا دیکھتے  ہیں
پھول سے  جسم پہ شبنم سی قبا دیکھتے  ہیں 
(یہاں  ایک صوفی بزرگ کا مشہور واقعہ یاد آتا ہے  جنہوں  نے  کسی حسینہ کو نظر بھر کر دیکھا اور اس کی ناراضی پر وضاحت کی کہ بخدا  میں  تجھے  نہیں، خدا کے  حسنِ قدرت کو دیکھ رہا تھا اور خراجِ تحسین پیش کر رہا تھا)
’’ مثنوی سیرِ کراچی‘‘، ’ موزے  چلغوزے ‘ (منظومات برائے  اطفال)، ’ جزیرہ‘ اور ’ تہمت‘ سے  گزر کر ’’ دوسرا ہمالہ‘‘ پہنچنے  والے  سخنور نے  زندگی اور ادب میں  کوئی فرق رَوا نہ رکھا اور ہر وہ روپ پوری دردمندی سے ، بھرپور شعریت برتتے  ہوئے  بیان کر دیا جو بطور شاعر اُن پر قرض تھا۔ وہ اس فرسودہ الزام سے  مبرّا ہیں  کہ شاعر محض دور اَز کار اور لایعنی سخن طرازی سے  کوئی مقام پاتے  ہیں ۔ اس آخری مطبوعہ مجموعہ کلام سے ، خواہی نا خواہی، اقتباس دینے  سے  گریز کرتا ہوں ۔ ۔ ۔  اتنا ضرور کہوں  گا کہ جامعیت کے  قائل اور نجی گفتگو میں  عمل پیرا، یہ شاعر مختصر، جامع صنفِ سخن ہائیکو کا ابتداء سے  خیرمقدم کرنے  والا بڑا نام تھا۔ ۔ ۔  اولین مجموعہ کلام میں  شامل ایک مختصر نظم ’ تثلیث‘ (ثلاثی) سے  جامع گوئی کا اظہار کرنے  والے  شبنم صاحب نے  آخری مجموعہ کلام میں  ہائیکو کے  طبع زاد و مترجمہ نمونے  بھی پیش کئے  جو اس صنف سے  ان کی دلی وابستگی کا مظہر ہیں ۔ دل چسپ اَمر یہ ہے  کہ مرحوم نے  آخری بار جس مشاعرے  میں  شرکت کی وہ جاپانی کونسلیٹ کے  زیر اہتمام اردو ہائیکو مشاعرے  کا جشنِ سیمیں  تھا(۱۵مارچ ۲۰۰۸ء؁۔ کراچی)
راقم نے  ایک ادبی محفل میں  برملا یہ کہہ کر داد تحسین وصول کی کہ’’ بڑا شاعر ہونا کوئی کمال نہیں، ہاں  بڑا انسان ہونا کمال کی بات ہے ‘‘(تقریب پذیرائی ہائیکو انٹرنیشنل، وضاحت نسیم نمبر مؤرخہ ۲۸مئی ۲۰۰۰ء؁ بمقام مرکز انجمن سادات امروہہ، کراچی)۔ اگر یہ بات بالکلیہ دیکھی جائے  تو ادب میں  پسند ناپسند کے  معاملات پر لامتناہی بحث چھڑ جائے  گی، سو اس کو ایک اور حوالے  سے  محدود کر لیتے  ہیں ۔ مشفق خواجہ مرحوم سے  واحد اور نہایت سرسری ملاقات میں  اس مدیرِ پُر تقصیر نے  عرض کی:’’ شاعروں ، ادیبوں  کا کام معاشرے  میں  موجود منافقت کا پردہ چاک کرنا ہے، مگر وہ خود ہی بڑی منافقت میں  مبتلا ہوتے  ہیں ‘‘۔ ۔ ۔ تو منفرد طنز نگار نے  برجستہ جواباً سوال کیا:’’ تو پھر ملتے  ہی کیوں  ہیں ؟‘‘
حقیقت یہ ہے  کہ شبنم رومانی شعر و ادب اور زندگی میں  بہت سے  دیگر معاصرین کے  برعکس، منافقت کے  ہرگز قائل نہ تھے ۔ ۔ شبنم رومانی نے  بہت پہلے  میرے  ایک افسانے  کی تعریف کرتے  ہوئے  یہ صائب مشورہ دیا کہ ’اقدار‘ میں  اشاعت کے  لیے  طویل انتظار سے  بہتر ہے ، سیپ یا صریر میں  بھیج دیں (وہ افسانہ بہ لحاظ تحریر میرا تیسرا اور بہ لحاظ اشاعت پہلا افسانہ تھا جو ’ صریر‘ میں  شائع ہوا اور فہیم اعظمی نے  اسے  خوب سراہا)۔ ۔ ۔ یہ نہیں  کیا کہ منافقانہ روشِ عام کے  مطابق اسے  رکھ کر مجھے  انتظار کی سولی پر لٹکاتے ۔ یہ میرے ، ا ن کے  محدود تعلقات کا ابتدائی دور تھا اور بعد از آں  انہوں  نے  مجھے  ایک ادبی محفل میں  تنقیدی مضمون پیش کرنے  پر بے  جا ملامت سے  بچاتے  ہوئے ، صدارتی خطاب کے  آغاز میں  سراہا اور کہا کہ ’’ اچھا دوست وہ ہوتا ہے  جو آپ کے  منھ پر آپ کی خامی ظاہر کرے ۔ ۔ ۔  عزیزی سہیل احمد صدیقی نے  بالکل ٹھیک کیا۔ ۔ ۔ ‘‘
آخری ملاقات میں  انہوں  نے  راقم سے  ’’ مثنوی سیرِ کراچی‘‘ (کی اشاعتِ نو ) کے  طباعتی امور کی نگرانی کا مدعا ظاہر کیا  اور آخری ٹیلی فونک گفتگو میں  بڑے  پیار سے  گلہ کیا کہ پھر اس بابت کچھ کرنے  کے  لیے  میرے  گھر کیوں  نہیں  آئے ۔ ۔ ۔ شبنم رومانی محض اچھے  شاعر نہیں ، اچھے  اور بہت سوں  سے  برتر انسان بھی تھے۔ ۔ شارقؔ بلیاوی مرحوم کا یہ شعر اُن پر صادق آتا ہے :  جیسے  شبنم گلاب پر اترے 
اس طرح دل میں  وہ اترتا ہے 
٭٭٭٭٭
 

ابو کی یاد میں
فیصل عظیم

سر پر سایہ تھا
اور پھر اک دن دھوپ لیے
سورج آیا تھا

کتبے  پر شبنمؔ 
پیار کے  بکھرے  پھول بھی ہیں
مٹّی بھی ہے  نم

ابو  سوتے  ہیں
مصرعے  گیلی مٹّی پر
گھنٹوں  روتے  ہیں

خوب رہا پردہ
دیکھو پھول کی پتی پر
شبنم کا قطرہ

شبنم سا کردار  
فطرت سے  رومان کیا 
اور مٹّی کو پیار  
٭٭٭
 

شبنم رومانی صاحب کی یاد میں
اقبالؔ حیدر  

 شاعر با ایمان
شبنم صاحب کی پہچان
 ایک نفیس انسان

جاری کیا اقدار
دیدہ زیب اور معیاری
  اک ادبی شہکار


شبنم رؔ ومانی
نیک، شریف، مہذّب تھے
روح تھی رحمانی

خوش تھی خلقِ خدا
سب کے  ہی کام آتے  تھے
ملے  گا اس کا صلہ

گھور اندھیروں  میں
اجلی باتیں  کرتے  تھے
سچے  شعروں  میں

فیصل، سمن، صبا
خرم، سحر، کنول اور ہم
سب ہیں  محوِ دعا

کارِ محبت کو  
قائم کی اربابِ قلم  
ادب کی خدمت کو

ربِّ غفور اللہ
اپنی جوارِ رحمت میں 
ان کو بھی دے  جگہ

٭٭٭٭٭
 

 رخسانہ صبا

ہر پل حیرانی
پہنچے  خواب جزیرے  پر
شبنم رومانی

وضاحت نسیم

روز  یہ  دیکھیں  ہم
سورج کے  آنے  تک ہے
پتوں  پر  شبنم
 

روبینہ تحسین بیناؔ

شبنم رومانی
فکر و عمل میں  تھا
جھرنے  کا پانی

سہیل احمد صدیقی

پھولوں  پہ شبنم
اٹھتے  ہیں  یوں  دنیا سے  
شاعر ہیں  کم کم! 
٭٭٭٭٭
 

معروف اردو شاعر شبنم رومانی رحلت فرما گئے (رپورٹ)

’’مثنوی سیر کراچی‘‘ کے  خالق اور نامور اردو شاعر شبنم رومانی آج بروز منگل (۱۷ فروری ۲۰۰۹ء؁ مطابق ۲۱ صفر المظفر ۱۴۳۰ھ) صبح ساڑھے  سات بجے  کراچی کے  ایک اسپتال میں  طویل علالت کے  بعد دار فانی سے  کوچ کر گئے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون ۔ ان کا اصل نام میرزا عظیم احمد بیگ ولد میرزا اظہر احمد بیگ تھا۔ وہ ۳۰ دسمبر ۱۹۲۸ء؁ کو شاہجہاں  پور (ہندوستان) میں  پیدا ہوئے ۔ انہوں  نے  بریلی کالج سے  شعبہ تجارت میں  گریجویشن کے  بعد متعدد مقامات پر کچھ عرصہ ملازمت کی اور ۱۹۵۰ء؁ میں  پاکستان ہجرت کی۔ یہ معروف شاعر ابتداء میں  اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے  کچھ عرصہ وابستہ رہنے  کے  بعد، کنٹرولر آف ملٹری اکاؤنٹس میں  ملازم ہوئے  اور ۱۹۸۹ء؁ میں  سبک دوش ہو گئے ۔ 
شبنم رومانی نے  خاندانی روایات کے  برعکس، محض اپنے  شوق سے  میدان سخن میں  قدم رکھا اور جوانی میں  بطور شاعر شہرت حاصل کرنے  میں  کامیاب ہو گئے ۔ ان کی تصانیف میں  ’’مثنوی سیر کراچی‘‘، جزیرہ (شعری مجموعہ )، تہمت (غزلیات )، دوسرا ہمالہ، نسبت، ہائیڈ پارک، موزے  چلغوزے  شامل ہیں۔ وہ معدودے  چند بزرگ شعراء میں  شامل تھے  جنہوں  نے  نظم آزاد اور غزل کو اعتبار عطا کرنے  کے  ساتھ ساتھ جاپانی صنف سخن ہائیکو کو نہ صرف اپنایا، بلکہ معیاری کلام بھی اس صنف کے  ذریعے  پیش کیا۔ گزشتہ سال جاپانی ثقافتی مرکز کے  زیر اہتمام منعقد ہونے  والے  پچیسویں  سالانہ ہائیکو مشاعرے  میں  انہوں  نے  آخری مرتبہ (ضعف کے  باوجود ) شرکت فرمائی ۔ ان کا جاری کردہ منفرد ادبی جریدہ ’اقدار ‘ مدتوں  ادبی حلقوں  میں  کلاسیکی اقدار کے  فروغ کے  لیے  کوشاں  رہا اور پھر ان کی کہنہ سالی و ناسازی طبع کے  باعث بند ہو گیا۔ ان کے  فرزند دلبند فیصل عظیم بھی اچھے  جواں  سال شعراء میں  شامل ہیں  اور اعلیٰ تعلیم کے  بعد بغرض ملازمت پہلے  امریکا، پھر کینیڈا جا بسے ۔ 
شبنم رومانی ہماری شاندار تہذیب کے  علم بردار بزرگوں  میں  شامل تھے ،جنہوں  نے  اپنے  خورد شعراء کی حوصلہ افزائی میں  کنجوسی نہیں  کی۔ ایک محفل میں  راقم کے  تنقیدی مضمون میں  صاحب کتاب شاعر کی تحسین کے  بعد بعض خامیوں  کے  ذکر پر ایک نام نہاد نقاد نے  برہمی کا اظہار کیا (نیز تقریب کے  اختتام پر کرتا دھرتا شاعر نے  مزاحاً  دھمکی  دی ) تو ایسے  میں  علالت کے  باوجود صدارت کی کرسی پر جلوہ افروز شبنم صاحب تقریر کو تشریف لائے  اور برملا کہا کہ عزیزی سہیل احمد صدیقی نے  جو کچھ کہا، بالکل درست اور مبنی بر خلوص ہے  اور آپ کا اچھا دوست وہی ہے  جو آپ کی خامیاں  آپ کے  منھ پر بیان کر دے  تاکہ آپ ان سے  واقف ہو کر اپنی اصلاح کر سکیں۔ کسی خورد سے  محض رسمی ملاقات کے  باوجود ایسی حوصلہ افزائی بہت کم اہل ظرف کیا کرتے  ہیں۔ راقم سے  آخری ملاقات میں  انہوں  نے  اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں  ’’مثنوی سیر کراچی‘‘ کے  نظر ثانی شدہ ایڈیشن کے  تکنیکی معاملات کی خود نگرانی کروں ۔ 
نمونہ کلام: ناز تھا تم کو کسی کے  پیار پر  
  اب مناؤ جشن اپنی ہار پر  
اب کے  بارش ایک ساتھی دے  گئی  
ایک چہرہ بن گیا دیوار پر
لمحوں  کا پتھراؤ ہے  مجھ پر، صدیوں  کی یلغار  
  میں  گھر جلتا چھوڑ آیا ہوں  دریا کے  اس پار

بند آنکھوں  میں  کانپ رہے  ہیں  سب اَن دیکھے  خواب  
سر پر جھول رہی ہے  کیسی نادیدہ تلوار
  پھول ہیں  گملوں  کے 
  ہم خود بھی تو مجرم ہیں 
  خودکش حملوں  کے  (آخری ہائیکو مشاعرے  میں  پیش کی گئی ایک ہائیکو)
 


گوشہ رفتگاں  
شارق بلیاوی کی رحلت(خبر)

  ممتاز شاعر شمس الدین شارقؔ بلیاوی طویل علالت کے  بعد ہفتہ ۳۰اگست ۲۰۰۸ء؁ کو کراچی میں  انتقال کر گئے۔ ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ وہ ۱۹۳۶ء؁ میں  سکھی پورا، ضلع بلیا (ہندوستان) میں  پیدا ہوئے ۔ ترقی پسند تحریک میں  فعال کردار ادا کرنے  والے  شارقؔ ، ادب پر کسی ’لیبل‘ کے  شدید مخالف تھے  اور بلا امتیاز مکتب فکر، ادبی تقاریب میں  شرکت کرتے  تھے ۔ ان کی تنقید بر محل اور بے  باک ہوا کرتی تھی۔ شارقؔ بلیاوی مرحوم راسخ العقیدہ مسلمان تھے  اور کسی ’ ازم‘ کے  قائل نہ تھے ۔ ان کے  تین مجموعہ ہائے  کلام ’ زخم کی خوشبو‘، ’آس بے  آس‘ اور’ یادوں  کے  عکس‘ شائع ہوئے  اور مزید منتظر اشاعت ہیں ۔ ۔ مرحوم کی فرمائش پر راقمِ سطور نے  ان کے  مجموعہ کلام  ’آس بے  آس‘ پر مضمون لکھا جو ایک نئے  ادبی جریدے  کینوس میں  زیر اشاعت ہے  نیز انہوں  نے  اپنا آخری مطبوعہ مجموعہ عطا کر کے  اس پر خامہ فرسائی کی تاکید کی تھی جو ہنوز تشنہ تکمیل ہے ۔ 
  نظم، غزل اور رباعی میں  طاق،شارق مرحوم ان بزرگ شعرائے  کرام میں  شامل تھے  جنہوں  نے  ہائیکو انٹرنیشنل کے  زیر اثر مختصر جاپانی صنف سخن ہائیکو میں  طبع آزمائی شروع کی۔ ۔ راقم نے  ان سے  گزارش کی کہ اس صنف کو بھی اعتبار بخشتے  ہوئے  ایک مجموعہ کلام مرتب کیجئے ، مرحوم نے  نیم رضامندی ظاہر کرتے  ہوئے  اپنی نامساعد حالت کا ذکر کیا۔ ۔ ۔  حقیقت یہ ہے  کہ کسی لابی کے  ٹھپے  سے  محروم یہ سخنور اپنا سارا کلام بہ عجلت تمام از خود شائع کرنے  کی کاوش میں  مختلف مسائل کا شکار رہا اور اس شہر نا پرساں  میں  کسی ادبی وڈیرے  یا شعبدے  باز کو اُن کی مدد کا خیال نہیں  آیا۔ 
نمونہ کلام:
  دنیا ہے  مہکار
  خوشبو کے  سب لوبھی ہیں
  پھولوں  سے  کب پیار

سو سو غم کھائے
موجوں  کو جو لوری دے
ساحل کہلائے

شبنم بن کر مل
پھولوں  سے  بھی نازک ہے
انسانوں  کا دل

مت دیکھو قانون
کل تک پانی سستا تھا
اب سستا ہے  خون
٭٭٭٭٭
امداد نظامی جہان فانی سے  کوچ کر گئے (رپورٹ)

بزرگ شاعر اور صحافی امداد نظامی۱۴اپریل ۲۰۰۸ء؁ کو لاہور میں  انتقال فرما گئے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۷۲ سال سے  متجاوز تھی۔ انہوں  نے  ۱۹۶۰ء؁ کی دہائی میں  صحافت سے  اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس سے  قبل وہ تحریک پاکستان اور تحریک نفاذ اردو کے  پر جوش کارکن کی حیثیت سے  سرگرم عمل رہے ۔ انہیں  بعض دیگر مشاہیر سخن کے  علاوہ بابائے  اردو سے  قربت حاصل رہی۔ کراچی اور کوئٹہ میں  طویل عرصے  تک قیام پذیر رہنے  والے  نامور سخنور نے  اپنا بچپن مٹھن کوٹ میں  گزارا ۔ ان کے  والد صاحب کشف بزرگ تھے۔ اردو کے  ساتھ ساتھ انگریزی اور فارسی پر بھرپور دسترس کے  حامل شاعر موصوف سرائیکی پر اہل زبان سے  زیادہ گرفت رکھتے  تھے ۔ ایک طرف انہوں  نے  سعدی اور حافظ کے  منظوم تراجم کیے  تو دوسری جانب وہ خواجہ غلا م فرید کے  ایسے  سچے  عاشق تھے  کہ طویل عرصے  تک تحقیق کے  بعد ان کا کلا م عروض اور موسیقی کی بنیاد پر جمع اور پرکھنے  کے  بعد کتابی شکل میں  شائع کیا۔ انہیں  یقیناً پنجابی سے  علاقہ تھا، مگر ان کی وفات کی خبر میں  ایک اخبار نے  انہیں  پنجابی کا شاعر لکھا ہے  جو غالباً غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔ 
	امداد نظامی مرحوم کی پہلی شعری تصنیف حیرت انگیز طور پر کوئی دیوان غزلیات و منظومات نہ تھا، بلکہ انہوں  نے  ۲۰۰۲ء ؁ میں  سب سے  پہلے  اپنا مجموعہ ہائیکو ’’ سورج تھا سو ڈوب گیا‘‘ شائع کیا اور نہ صرف اس کے  پیش لفظ میں  ہائیکو کے  فروغ میں اس خاکسار کی مساعی کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا، بلکہ اس کتاب پر بصد اصرار تبصرہ بھی لکھوایا جو سہ ماہی ’لوح ادب‘ (حیدرآباد) میں  شائع ہوا۔ (یہ ان کی اعلیٰ ظرفی کی بین دلیل ہے، ورنہ مشاہیر میں  کئی حضرات اپنے  پورے  پورے  مجموعوں  پر اس ہیچ مداں  سے  نظر ثانی و اصلاح، مشاورت اور ہر قسم کے  تعاون کے  بعد سب سے  پہلے  اسی کا نام یکسر غائب کر چکے  ہیں )۔ اس کے  بعد ان کے  یکے  بعد دیگرے  تین مجموعہ ہائے  کلام ’’زرِ سنگ‘‘، سنگ و آہنگ اور چشمۂ کوہسار شائع ہوئے ۔ امداد نظامی مرحوم کی دوسری اہم کتب میں  اقبالیات کے  موضوع پر ’’ اقبالؔ کے  کولمبس‘‘ (سال اشاعت :سال اقبالؔ ،۲۰۰۲ء؁)، دوستوں  کے  درمیاں (سفرنامہ چین)،آبگینۂ دل(امراض قلب کے  بارے  میں  معلوماتی کتاب)اور زیر طبع کتاب ’’چند شاہکار ناول‘‘ شامل ہیں ۔ ( ان سے  قبل معروف غزل گو شعراء میں  سہیل غازی پوری، آفتاب مضطرؔ ،بقاءؔ صدیقی اور رئیس باغیؔ نے  اہل نقد کے  اعتراضات کی پروا کیے  بغیر پہلا مجموعہ صرف ہائیکو کلام پر مشتمل شائع کیا تھا۔ ان بزرگوں  کے  بعد سہیل احمد صدیقی نے  بھی یہی جرأت رندانہ کی ہے)
مرحوم نے  میری فرمائش پر میری چند منتخب ہائیکو کا منظوم سرائیکی ترجمہ کیا اور ایسا بھرپور کیا کہ جو دیکھتا داد دیے  بغیر نہ رہتا، پھر میری فرمائش پر انہوں  نے  طبع زاد سرائیکی ہائیکو بھی عنایت کیں۔ یہ دونوں  تبرکات میرے  رسالے  ہائیکو انٹرنیشنل شمارہ ہشتم میں  شائع ہو چکے  ہیں ۔ مجھے  ان کی اردو ہائیکو بھی متعدد بار شائع کرنے  کا اعزاز حاصل ہوا۔ 
امداد نظامی مرحوم اپنی لائق فائق زوجہ محترمہ یاسمین سے  والہانہ لگاؤ رکھتے  تھے  جسے  شاید عشق کا روایتی نام دیا جا سکتا ہے ۔ مرحومہ نے  ان کی تمام شعری تصانیف کی کمپیوٹر پر کتابت کی اور چند سال قبل ان کی وفات کے  بعد امداد صاحب یکایک بوڑھے  معلوم ہونے  لگے  تھے، ان کے  لہجے  میں  شکست کا پہلو نمایاں  نظر آتا تھا۔ ۔ ۔  میں  نے  بعض خواتین کو 
 اپنے  ہمدم کے  انتقال پر یوں  خزاں  رسیدہ ہوتے  دیکھا اور ایک مدت تک حیران رہا، مگر ایک شاعر، مضبوط اعصاب کے  مالک، دبنگ لہجے  کے  حامل شخص کی ایسی شکست و ریخت میرے  گمان میں  نہ تھی۔ انہی کی حوصلہ افزائی کے  طفیل ان کی خواہر نسبتی محترمہ رخسانہ صبا نے  میدان سخن میں  پیش رفت کی اور آج وہ کراچی کی معروف اور اصیل شاعرات میں  شمار ہوتی ہیں ۔
  ٭٭٭٭٭
 

محسنؔ بھوپالی ۔ کچھ یادیں  کچھ باتیں 

  زیست ہمسائے  سے  مانگا ہوا زیور تو نہیں ::  ایک دھڑکا سا لگا رہتا ہے  کھو جانے  کا
  اور  
  فراقِ زیست کا دھڑکا لگا رہا محسنؔ : :تمام عمر جئے  مرگِ ناگہاں  کے  لیے 
جیسے  بہت سے  منفرد اشعار کے  خالق ، مقبول اردو شاعر ، نثر نگار ، اردو ہائیکو نگاری کے  مربی و سرپرست محترم محسن بھوپالی نے  ۱۷ جنوری ۲۰۰۷ ء بروز بدھ، کراچی کے  ایک اسپتال میں  داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی نماز جنازہ جامع مسجد ، ہادی مارکیٹ ناظم آباد نمبر ۴ میں  ادا کی گئی اور انہیں  پاپوش نگر کے  قبرستان میں  دفن کیا گیا۔ ان کا اصل نام عبد الرحمن ولد محمد عبدالرزاق تھا۔ وہ ۲۹ ستمبر ۱۹۳۲ء ؁ کو قصبہ سہاگ پور، ضلع ہوشنگ آباد (بھوپال) میں  پیدا ہوئے ۔ مقبول شاعری کے  بارے  میں  عام تاثر یہی ہے  کہ اس میں  بڑی شاعری کے  امکانات کم ہوتے  ہیں ، مگر جگرؔ مراد آبادی، بہزادؔ لکھنوی، شکیل بدایونی اور قمرؔ جلالوی کی طرح حمایت علی شاعرؔ ، قابلؔ اجمیری اور محسنؔ بھوپالی نے  اس تأثر کو بڑی حد تک زائل کر دیا ہے ۔ 
محسنؔ صاحب نے  حبیبیہ مڈل اسکو ل اور الیکزنڈرا ہائی اسکو ل (بھوپال)  سے  ابتدائی تعلیم حاصل کی، ستمبر ۱۹۴۷ء؁ میں  پاکستان ہجرت کے  بعد گورنمنٹ ہائی اسکول ، لاڑکانہ سے  ۱۹۵۱ء میں  میٹرک اور گورنمنٹ کالج ،لاڑکانہ سے  ۱۹۵۴ء  میں  انٹر کا امتحان پاس کیا۔ بعد از آں  انہوں  نے  گورنمنٹ این ای ڈی کالج سے  ڈپلوما (انجینئرنگ)، سندھی زبان کا محکمہ جاتی امتحان ، بی۔ اے  اور ایم ۔ اے  (اردو) کے  امتحانات پاس کئے ، جبکہ ایم ۔ اے  صحافت (سال اول) کے  بھی طالب علم رہے ۔ 
عبد الرحمن نے  اپنے  ایک دوست محسن کی محبت میں  محسنؔ بھوپالی تخلص اختیار کیا، جبکہ ان کا ایک قلمی نام ابو راشد (اپنے  بڑے  فرزند کے  نام پر) بھی تھا۔ انجینئرنگ سے  وابستگی کے  ساتھ ساتھ شعر و سخن کا شغل جاری رکھنے  والے  محسنؔ بھوپالی نے  نامور اساتذہ سیمابؔ اکبر آبادی اور صباؔ متھراوی سے  رشتہ تلمذ استوار کیا۔ ان کی نثری و شعری تصانیف و تالیفات کی تعداد انیس(۱۹) ہے  جن میں  تین ابھی غیر مطبوعہ ہیں ۔ ۔ ۔  وہ اردو ہائیکو کے  فروغ میں  کوشاں  بزرگ ترین شعراء میں  شامل اور کئی اہل دانش سے  زیادہ فعال تھے ۔ انہوں  نے  ۱۹۶۳ء؁ میں  اپنے  دوست اور سندھی ہائیکو نگاری کے  بانی ڈاکٹر تنویر عباسی کی ہائیکو کے  اردو تراجم سے  اس صنف کے  فروغ کی بنیاد رکھی۔  ( دل چسپ بات یہ ہے  کہ ڈاکٹر تنویر عباسی نے  اپنے  دوستوں  شیخ ایاز اور آفاق صدیقی کے  ہمراہ اولین طبع زاد اردو ہائیکو نظم کرنے  کا شرف بھی حاصل کیا)
ہائیکو انٹرنیشنل کے  اجراء کے  وقت سے  ہی مرحوم اس کے  قلمی معاونین میں  شامل تھے ۔ انہوں  نے  بطور خاص اس منفرد جریدے  کے  خصوصی نمبروں  کے  لیے  اپنی نگارشات سے  بھی نوازا۔ ۱۹۹۹ء ؁ میں ہائیکو انٹرنیشنل (کراچی )نے  اپنے  تیسرے  شمارے  کو ’محسنؔ بھوپالی نمبر‘ کے  طور پر (بغیر کسی مالی امداد / منفعت کے ) شائع کیا، جس میں  راقمِ حروف نے  ان کے  فن و شخصیت پر ایک مضمون بزبان انگریزی تحریر کیا۔ مرحوم کو وہ مضمون اس قدر پسند تھا کہ جب اپنا آخری مجموعہ کلام ’چیری سے  چنبیلی تک‘ (ہائیکو ، واکا) شائع کیا تو اس کا اقتباس اس میں  شامل کیا اور علالت کے  باوجود یہ مجموعہ ارسال کر کے  فرمائش کی کہ اس کتاب کے  حوالے  سے  تازہ مضمون بزبان انگریزی تحریر کروں ۔ ۔ ۔  راقم نے  یہ کام شروع کیا تو اتفاق سے  شدید بیمار پڑ گیا، بہر حال ان سے  وعدہ اسی حال میں  پورا کر کے  اسے  ’حریم ادب‘ (بورے  والا) کو ارسال کیا جو جنوری ۲۰۰۶ء؁ سے  تا دم تحریر، منتظر اشاعت ہے ۔ مرحوم نے  اس مضمون کی بھی بہت توصیف فرمائی اور اس میں  ان کے  مجموعہ کلام میں  راہ پا جانے  والی ایک نمایاں  غلطی کی نشان دہی پر، اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے  ہوئے ، اسے  قبول کیا۔ ( اس معاملے  سے  قطع نظر ہائیکو انٹرنیشنل (کراچی ) نے  اس یادگار مضمون کی اشاعت شمارہ نہم کے  ذریعے  ممکن بنائی جو آن لائن دستیاب ہے )۔ محسن بھوپالی مرحوم نے  اس راقم کی فرمائش پر زندگی میں  پہلی (اور غالباً آخری) بار سندھی میں  طبع زاد ہائیکو تحریر فرمائیں  جو ہائیکو انٹرنیشنل میں  شائع بھی ہوئیں ۔ مرحوم نے  ایک موقع پر مدیر ہائیکو انٹرنیشنل کے  ایک سندھی خط پر کچھ اصلاح بھی فرمائی تھی جو مشہور سندھی رسالہ ’سوجھرو‘ میں  شائع ہوا۔ ۔ 
  محسنؔ بھوپالی کی ثقافتی سرگرمیوں  میں  کچھ اسٹیج ڈرامے  بھی شامل ہیں ۔ بہت کم لوگ یہ جانتے  ہیں  کہ انہوں  نے  خواجہ معین الدین کے  مشہور زمانہ ڈرامے  ’’تعلیم بالغاں ‘‘ میں  (دو مختلف ادوار میں  ،دو مختلف شہروں  میں ) دو مرتبہ اداکاری کی نیز ۲۱ دسمبر ۱۹۵۹ء؁ کو حیدرآباد (سندھ) میں  مشہور صداکار و اداکار سید ارشاد علی کے  اسٹیج ڈرامے  ’’ اندھیرے  اجالے ‘‘ میں  معروف فلمی اداکار محمد علی کے  ساتھ اپنے  فن کا مظاہرہ کیا تھا۔ 
بہت سے  معروف شعراء کے  برعکس محسنؔ بھوپالی راسخ العقیدہ مسلمان تھے  اور اپنے  خورد شعراء و ادباء کی حوصلہ افزائی میں  کنجوسی نہیں  کرتے  تھے ۔ ایک مرتبہ انہوں  نے  ایک مشاعرے  میں  راقم کو (مدعو شعراء کی فہرست میں  شامل نہ ہوتے  ہوئے  بھی) بصد اصرار اسٹیج پر آنے  کی دعوت بذریعہ معلن دی تھی اور جب اس نے (مشاعرے  کی مشاورت میں  شامل ہونے  کے  باوجود) منتظم اور معلن کی بد انتظامی کے  خلاف احتجاجاً کلام پیش نہ کیا تو ناشتے  کے  وقت اس بات کا انکشاف کر کے  خفگی ظاہر کی کہ یہ میری خواہش تھی، پھر آپ نے  کلام کیوں  پیش نہ کیا۔ 
بہت سے  دیگر شعراء کی طرح محسن بھوپالی مرحوم کی وفات کے  بعد بھی یہ معاملہ دیکھنے  میں  آیا کہ اولاد نے  ان کے  ادبی سرمائے  کی مزید اشاعت میں  کوئی خاص دل چسپی ظاہر نہ کی۔ اس مدیر پُر تقصیر نے  ہائیکو انٹرنیشنل شمارہ نہم کے  سرورق پر محسن مرحوم سمیت بعض مرحوم شعراء کا قلمی کلام مع تصویر اور دستخط  شائع کئے ۔ رسالہ مرحوم کے  بڑے  صاحبزادے  کے  نام ارسال کیا، ایک مختصر رسمی خط کے  ہمراہ، مگر جواب ندارد۔ ۔ ۔  اگر وہ کسی قابل سمجھتے  تو اس سے  اگلے  مرحلے  میں  مرحوم کی خط و  کتابت کو شائع کرنے  کی بات کی جاتی جو ظاہر ہے  کہ کسی مالی منفعت کا معاملہ نہ تھا۔ بشرط زیست و دستیابی وسائل یہ ہیچ مداں  اس یادگار کو یادگار بنانے  کی سعی کرے  گا(ان شاء اﷲ)
٭٭٭٭٭
 

نامور شاعر اور براڈکاسٹر الیاس عشقی انتقال فرما گئے  (خبر)

 حیدرآباد( سندھ) کے  بزرگ اردو شاعر،  صحافی اور سہ ماہی لوح ادب انٹرنیشنل کے  سرپرست محترم الیاس عشقی جمعہ ۱۲ جنوری ۲۰۰۷ء؁ کو سعودی عرب میں  رحلت فرما گئے ۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون۔ ان کی عمر ۸۴ برس تھی۔ وہ معروف شاعر علامہ رزیؔ جے  پوری کے  صاحبزادے  تھے ۔ محترم عشقی صاحب ان دنوں  اپنے  فرزند کے  پاس مقیم تھے ۔ ان کی وفات سے  سندھ کی ادبی تاریخ کا اہم باب بند ہو گیا۔ 
مدیر ہائیکو انٹرنیشنل کو یہ اعزاز حاصل ہے  کہ اس نے  اقبال حیدر صاحب کے  حوالے  سے  محترم الیاس عشقی کی ایک یادگار تحریر  پہلے  جدید ادب (جرمنی )میں شائع کرائی(جب ہائیکو انٹرنیشنل کی اشاعت معطل تھی) اور بعد از آں اسے  ہائیکو انٹرنیشنل شمارہ ہشتم میں  شائع کیا۔ اس صنف سے  پوری طرح آگاہ نہ ہونے  کے  باوجود مرحوم اس سے  دل چسپی رکھتے  تھے ۔  

٭٭٭٭٭
 

نامۂ خاص

۲ اگست ۲۰۰۸ء؁
  مادام شبہ طراز صاحبہ

  آداب
  اس مرتبہ ’تجدید نو‘ کا تازہ شمارہ میری بجائے  کسی صاحب ذوق قاصد کی نذر ہو گیا۔ ۔ ۔  اسی لیے  بزرگ کہہ گئے  ہیں  کہ ہر کام میں  پیش بندی لازم ہے ۔ آپ کو چاہیے  کہ اپنے  چچا اظہر جاوید کی طرح محکمہ ڈاک میں  با ذوق ادبی قارئین کی تعداد (کم از کم اپنے  علاقے  میں ) معلوم کر کے  ان کے  لیے  کچھ اعزازی نسخے  مختص کر دیں ۔ ۔ ۔ پھر شاید یہ شکایت نہ ہو۔ 
  محترمہ وضاحت نسیم کی عنایت سے  ایک مطبوعہ مضمون ’’بعنوان ہائیکو شاعری اور اس کے  متعلقات‘‘ از جناب خاور اعجاز موصول ہوا(عکسی نقل)، جس کے  مطالعے  نے  انہی کی طرح مجھے  بھی بعض نکات اٹھانے  پر مجبور کر دیا۔ سب سے  پہلی بات تو یہ کہ فاضل مضمون نگار بہت عجلت میں  دکھائی دیتے  ہیں ، جبھی انہوں  نے  تمام متعلقات کو سرسری بیان کر دیا۔ ۔ ۔  ورنہ  ؂  ہر جا جہان دیگر تھا!
مذکورہ مضمون میں  ابتداء ہی سے  یہ بات نمایاں  ہے  کہ موصوف نے  میرے  جریدے  ’ہائیکو انٹرنیشنل ‘ سے  بھرپور استفادہ کیا، مگر پورے  مضمون میں  (ماسوائے  دو مضامین کی نشان دہی کے  )کہیں  اس کا حوالہ دینا موزوں  نہ سمجھا۔ ۔  ناواقفین پر یہی تاثر مرتب ہو گا کہ شاید اردو میں  انہی چند کتب اور مضامین پر اس صنف کے  فروغ کا دارومدار ہے  اور تمام متعلقات بھی ان میں  مندرج ہوں  گے ۔ محض ان جیسے  اہل قلم کی یادداشت کے  لیے  دہراتا ہوں  کہ جنوبی ایشیا میں  اس صنف کے  فروغ کے  لیے  کوشاں  اولین اور واحد کثیر لسانی جریدے  نے  ۱۹۹۸ء؁  تا  ۲۰۰۷ء؁  نو (۹) برس میں  محض نو(۹)شماروں  میں  پچیس (۲۵) ملکی و غیر ملکی زبانوں  میں  مواد شائع کر کے  عالمی ریکارڈ قائم کیا۔  ’ہائیکو انٹرنیشنل‘ کے  شمارہ پنجم یعنی ’’اقبال حیدر نمبر‘‘ میں  پندرہ زبانوں  میں  مواد شامل تھا اور اس کے  دو ایڈیشن شائع ہوئے  جن کی تقریب رونمائی علی الترتیب پرل کانٹی نینٹل ہوٹل،کراچی اور اکادمی ادبیات، کوئٹہ میں  منعقد ہوئی۔ یہ رسالہ دنیا صنف کے  فروغ کے  لیے  کوشاں  اولین اور واحد کثیر لسانی جریدے  نے  ۱۹۹۸ء؁  تا  ۲۰۰۷ء؁  نو (۹) برس میں  محض نو(۹)شماروں  میں  پچیس (۲۵) ملکی و غیر ملکی زبانوں  میں  مواد شائع کر کے  عالمی ریکارڈ قائم کیا۔  ’ہائیکو انٹرنیشنل‘ کے  شمارہ پنجم یعنی ’’اقبال حیدر نمبر‘‘ میں  پندرہ زبانوں  میں  مواد شامل تھا اور اس کے  دو ایڈیشن شائع ہوئے  جن کی تقریب رونمائی علی الترتیب پرل کانٹی نینٹل ہوٹل،کراچی اور اکادمی ادبیات، کوئٹہ میں  منعقد ہوئی۔ یہ رسالہ دنیا بھر میں  مختلف مقامات پر براہ راست یا بالواسطہ پہنچا نیز اس کا حوالہ متعدد بین الاقوامی ویب سائٹس پر موجود ہے ۔ اس جریدے  نے  اردو میں  کم و بیش سو(۱۰۰)ہائیکو نگار شعراء کا اضافہ کیا، جبکہ ۲۰۰ سے  زائد ہائیکو نگار شعراء اسی کے  حوالے  سے  بیرونی دنیا سے  متعارف ہوئے ۔ مختصر یہ کہ اس جریدے  نے  اردو اور اس خطے  میں  ہائیکو کی سب سے  زیادہ خدمت کی۔  ٭
(’ہائیکو انٹرنیشنل‘ کے  بانی مدیر کو ۲۰۰۰ء؁ میں  عالمی ہائیکو فیسٹیول، برطانیہ میں  نامور امریکی نقاد بل ہگنسن کی تجویز پر شرکت کے  لیے  مدعو کیا گیا، اس کی  انگریزی ہائیکو اس اہم میلے  کے  منتظم ورلڈ ہائیکو کلب کے  چئیرمین ساسومو تاکی گوچی کے  مرتبہ عالمی ہائیکو انتخاب میں  دیگر ۲۲۴ عالمی شعراء کے  ساتھ شامل کی گئیں (پوری اردو دنیا سے  یہ خاکسار واحد تھا)۔ ۔ ۔  اس سے  قبل بھی اس مدیر پُر تقصیر کی بعض انگریزی منظومات تین عالمی انتخاب میں  شامل کی گئیں  جو تمام ریاست ہائے  متحدہ امریکا سے  شائع ہوئے ۔)
جناب خاور اعجاز نے  ابتدائے  کلام میں  ذکر کیا سید حسن عابد جعفری کے  مضمون ’’ جاپانی شاعری پر ایک نظر ‘‘ مطبوعہ ماہنامہ ’نگار‘ شمارہ بابت دسمبر ۱۹۲۲ء؁ کا، تو جناب یہ مضمون بھی اسی (۸۰)سال بعد ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے  بازیاب کر کے  راقم کے  حوالے  کیا کہ ’ہائیکو انٹرنیشنل‘ میں  شائع کریں ، چناں  چہ یہ مضمون ہمارے  شمارہ ہفتم بابت اکتوبر تا دسمبر ۲۰۰۱ء؁ میں  شائع ہوا۔ اتنی اہم بات کا ذکر فاضل دوست نے  کیوں  نظر انداز کیا، کیا مجبوری حائل تھی، انہی سے  استفسار کیا جا سکتا ہے ۔ یہاں  ایک جملہ معترضہ کے  طور پر یہ بھی جان لیں  کہ اکثر اہل قلم ۱۹۳۶ء؁ کے  ساقی ’’ جاپان نمبر‘‘ کا  حوالہ تو دیتے  ہیں ، مگر عموماً اس کی زیارت سے  محروم ہیں، اس ہیچ مدآں  نے  اس تبرک کی ایک سے  زائد بار زیارت کی اور یہ پایا کہ اس میں  اس قدر کافی مواد نہیں  کہ اسے  بنیادی حوالہ قرار دیا جائے ۔ جعفری صاحب کے  مضمون میں  بھی کوئی خاص تفصیل کا اہتمام نہیں !
جو فہرست شعرائے  کرام خاور اعجاز صاحب نے  ہائیکو انٹرنیشنل سمیت مختلف ذرائع سے  حاصل کر کے  شامل مضمون کی، ان میں  بھی متعدد نام توجہ طلب ہیں ۔ کراچی کے  شعراء میں  ابوالخیر کشفی مرحوم کا نام شامل ہے  جو کبھی بھی اپنی شاعری کے  سبب ممتاز نہ رہے  (بلکہ اکثر احباب تو ان کی شاعری سے ،سرے  سے  ناآشنا ہیں )، البتہ انہی کی تحریک سے  جاپانی ثقافتی مرکز (جاپانی کونسلیٹ) نے  ہائیکو مشاعروں  کی بناء ڈالی۔ احمد علی احمد کون شاعر گزرے  ہیں، بخدا بندہ واقف نہیں، اگر ان سے  مراد معروف ادیب پروفیسر احمد علی ہیں  تو ان کی ہائیکو نگار ی ابھی تک میری نگاہ سے  اوجھل ہے ۔ میرے  خاندانی بزرگ احمد ہمدانی نے  ممکن ہے  کہ ۱۹۸۳ء؁ کے  اولین مشاعرے  کے  لیے  کچھ ہائیکو نظم کی ہوں (کیوں  کہ اس وقت میں  قلم برداشتہ لکھ رہا ہوں  اور میری اکثر کتب ایک  بزرگ شاعر کے  مقالے  کے  سلسلے  میں  ان کے  پاس مستعار ہیں )، مگر مجھ سے  ملاقات میں  انہوں  نے  اس صنف سے  لاتعلقی کا اظہار فرمایا جسے  سخت الفاظ میں  ناپسندیدگی بھی کہہ سکتے  ہیں ۔ محترمہ ادا جعفری کا معاملہ بھی ابتدائی مشاعرے  سے  آگے  نہیں  بڑھا، اقبال عظیم کی ہائیکو مجھے  عنایت کیجئے ، بڑی عنایت ہو گی۔ اصغر مہدی صاحب اور  ان کی بیگم عذرا اصغر صاحبہ اس وقت کراچی میں  مقیم ہیں ، مگر جب آپ تاریخ کے  تناظر میں  لکھتے  ہیں  تو تقویم کے  پیش نظر انہیں  اسلام آباد کا شاعر ہی کہنا مناسب ہو گا، اسی طرح آگے  چل کر اقبال حیدر کو امریکا کا شاعر لکھا گیا، جبکہ وہ کراچی کے  سینئیر شعراء میں  شامل اور گزشتہ کچھ برس سے  مستقل بنیاد پر وہاں  مقیم ہیں ۔ یہ بدر کون صاحب ہیں، کیا شاہین بدر مراد ہیں ؟۔ ۔ ۔ کراچی کے  ممتاز ہائیکو نگار شعراء میں  جناب احمد صغیر صدیقی کا نام خود ان سے  زیادتی ہے  جو شروع میں اس صنف کے  مخالف تھے  اور پھر (اس راقم کے  بار بار اعزازی کاپی نذر کرنے  کے  بعد) محض دو مرتبہ اس طرف راغب ہوئے، ایک مرتبہ ان کا کلام شائع کیا گیا ۔ ۔ ۔  دوسری مرتبہ تکنیکی معاملہ درپیش تھا۔ حبیب سحر، زیڈ اے  بخاری، سلیم احمد، سلیم فوز شمیم اختر شیخ،شہزاد ساگر،قمر جمیل،کیف بنارسی، منظر علی خاں  منظر، نصیر کوٹی، ن۔ م۔ دانش،محمد حامد صدیق،محمد حنیف،ممتاز عارف، نصیر خان، نعمان منظور اور واصل عثمانی کی ہائیکو نگاری کے  لیے  حوالے  درکار ہیں،(کم از کم مجھے  اس وقت یاد نہیں ) البتہ سلیم کوثر وہ شاعر ہیں  جنہوں  نے  ابتداء میں  کچھ ہائیکو نظم کیں  اور پھر اس صنف سے  دست کُش اور متنفر ہو گئے  (آپ ان کو میرا حوالہ دے  کر، کراچی ٹیلی وژن سینٹر فون کر کے ، تصدیق کر سکتے  ہیں )۔ میری اطلاع کے  مطابق دلاور فگار نے  باقاعدہ ہائیکو نگار ی نہیں  کی، وہی چند جرعے  والا معاملہ تھا، ورنہ یہ نہ کہتے  :  ؂ خود اپنی ’کو‘ نہیں  آتی، پرائی کو لکھیں 
افتخار عارف نے  بھی ہائیکو پر کرم فرمایا، میرے  علم میں  نہیں ۔ علی محمد فرشی سے  میری بالمشافہ ملاقات ہو چکی ہے ، وہ بھی ابتداء میں  بہت سرگرم تھے ، مگر اب اس صنف کے  قائل نہیں ۔ ۔ ۔  خود مدیرہ کا نام انہی کے  رسالے  میں  دو پارہ ہو گیا ہے، کیا کہیں ؟
آگے  چلتے  ہیں ، ضیاء الحق قاسمی نے  بطور شاعر کراچی میں  (نہ کہ لاہور میں  ) شہر ت پائی، مگر محض چند ہائیکو لکھ کر ہمیشہ جاپانی ثقافتی مرکز کی نا اہلی کا مجھ سے  ذکر فرماتے  تھے ۔ ہمارے  کرم فرما منصور ملتانی(نہ کہ ملتان) اب عارف منصور ہو چکے  ہیں  اور ان کا ہائیکو سے  تعلق بھی کبھی کبھار کا ہے ۔ نوشہر ہ میں  سیدہ حنا کے  ماہیے  (بقول حیدر قریشی ’حنائیے ‘) مشہور ہوئے ، مگر خود انہوں  نے  مجھے  کبھی اپنا ہائیکو کلام عنایت نہ کیا، نہ معلوم کیوں ۔ اس فہرست میں  شامل کئی حضرات کی طرح ہندوستان کے  معروف دوہا نگار شاعر جناب بھگوان داس اعجازؔ نے  بھی ہائیکو انٹرنیشنل کی تحریک پر ہائیکو نگاری فرمائی اور ان کا سارا کلام اب تک اسی جریدے  نے  شائع کیا، بنگلہ دیش کے  ایوب جوہر مرحوم کا معاملہ بالکل یہی تھا اور اس ہمسایہ ملک کے  پہلے  ہائیکو نگار مرحوم احمد سعدی کا بھی، جنہیں  آپ بھول گئے، پھر اس فہرست میں  بزرگ شاعر سید انعام نادر شامل ہیں ، جنہوں  نے  ہائیکو انٹرنیشنل سے  ترغیب پا کر، مجھے  از راہ کرم اپنی کچھ ہائیکو برائے  اشاعت عطا فرمائیں  اور اس بابت استفسار کیا کرتے  تھے ۔ ۔ ۔  ( اس زمرے  میں  اطہر نادر مرحوم، معراج جامی، روبینہ تحسین بینا، شہزاد نیاز،عمران فرحت، انجم شادانی جیسے  متعدد اسماء شامل ہیں  )۔ شفیق الدین شارقؔ مرحوم نے  محض چند مذہبی نوعیت کی ہائیکو نظم کی تھیں ۔ ۔ ۔  اس فہرست میں  مظہر امام کا نام غلطی سے  شامل ہے، وہ پاکستان نہیں  بلکہ ہندوستان میں  مقیم اور آزاد غزل کے  بانی ہیں، اگر کبھی اس طرف قدم رنجہ فرمایا ہو تو حوالہ درکار۔ ۔ ۔  اسی طرح آپ نے  مظفر حنفی صاحب کا نام لیا جو ہندوستان کے  معروف شاعر اور نقاد ہیں  اور مجھ سے  ذاتی طور پر (میری نظموں  کی محفل میں  داد دینے  کے  بعد) ہائیکو سے  بیزاری کا اظہار کر چکے  ہیں ۔ ۔ ۔ ادریس غازی میرا دوست میری فرمائش پر میمنی بولی(شاخِ گجراتی زبان) میں  مسلسل ہائیکو طبع زاد و تراجم عنایت کرتا ہے ، اس کی اردو ہائیکو شاید ہی کہیں  اور شائع ہوئی ہوں ۔ عزیز احسن صاحب نعت گو اور نعت کے  نقاد ہیں ، جنہوں  نے  تبرکاً کچھ نعتیہ ہائیکو کہیں ۔ ۔ ۔ اسی طرح برادرم طاہر سلطانی بھی محض حمد و نعت تک محدود ہیں۔ 
جناب خاور اعجاز نے  ہر شاعر کی ہائیکو نگاری پر یک سطری تبصرہ فرما کر خود انہیں  کچھ نہ کچھ کہنے  کا موقع دے  دیا، اس سے  بہتر تھا کہ تبصرہ نہ ہوتا۔ ۔ ۔  شاید وہ مجھ سے  بطور شاعر واقف نہیں، ہائیکو انٹرنیشنل کے  علاوہ اردو دنیا کے  مختلف جرائد بشمول تجدید نو میں  میری ہائیکو شائع ہو چکی ہیں، میرا مجموعہ ہائیکو ’’ خوش کن ہے  پت جھڑ‘‘ ۲۰۰۶ء؁ میں  شائع ہوا اور کسی قسم کی خوش فہمی یا غلط فہمی سے  قطع نظر، محض ریکارڈ کے  لیے  عرض کروں  کہ بہت سے  شعرائے  کرام سے  خورد،یہ شخص، اس صنف میں  ان سے  بہت سینئیر اور کئی کے  پورے  پورے  مجموعہ کلام پر نظر ثانی کا اعزاز حاصل کر چکا ہے ۔ ۔ ۔  اسے  خود ستائش نہ سمجھیں ۔ 
فاضل مضمون نگار نے  یہ کہہ کر از خود تنازع کھڑا کر دیا :’’ ہائیکو کے  لیے  ۵۔ ۷۔ ۵ یا سترہ اصوات کی پابندی اب ایک  فضول سی بات لگتی ہے ۔ یورپ میں  بھی جاپانی ہئیت کی تقلید نہیں  کی گئی۔ ۔ ۔ ‘‘میں  یہاں  تفصیلی مقالہ لکھنے  کی بجائے  ان سے  صرف یہی کہوں  گا کہ براہ کرم اپنا مطالعہ تازہ کار کریں،جاپان میں  یا کہیں  بھی ہونے  والے  تجارب سے  قطع نظر جمہور کی رائے  میں  یہی ۵۔ ۷۔ ۵ یا سترہ اصوات  ہائیکو کی بنیاد ہیں ۔ ۔ ۔  انگریزی سے  سند نہ لائی جائے  تو بہتر ہو گا کیوں  کہ ان کے  یہاں  ہماری طرح محض شوقیہ اور بحث برائے  بحث کے  لیے  کئی قسم کی سہ مصرعی اصناف ایجاد نہیں  کی گئیں کہ انہیں  ممیز کرنا عام قاری کے  لیے  ممکن نہ ہو۔ ۔ ۔ میرے  محترم کرم فرما ڈاکٹر محمد امین صاحب بھی نجی گفتگو میں  اپنے  سابق موقف سے  رجوع کر چکے  ہیں ۔ ٭٭اسی مضمون کے  نکات کے  حوالے  سے  بطور اضافہ عرض کرتا ہوں  کہ اب اردو میں  شائع ہونے  والے  ہائیکو مجموعہ ہائے  کلام کی تعداد پچاس(۵۰) سے  متجاوز ہو چکی ہے ، جن میں  تقریباً ۴۵ پاکستان سے  شائع ہوئے، جبکہ مقامی زبانوں  میں  بھی کل ملا کر اتنے  ہی مجموعہ ہائے  کلام شائع ہو چکے  ہیں ، یہ تعداد ان مجموعہ ہائے  کلام کے  علاوہ ہے  جن میں  ہائیکو نگاری کے  چند نمونے  شامل ہیں ۔ 
پشتو شعرائے  کرام میں  اہم نام سرور سودائی رہ گیا ہے ،انگریزی اور جاپانی میں  بیک وقت لکھنے  والوں  میں  ڈاکٹر محمد امین(جاپانی میں  واحد مجموعہ ہائیکو ) اور محترمہ وضاحت نسیم کے  علاوہ بطور نثر نگار (واحد) شہزاد نیاز کا نام قابل شمولیت ہے  جں  نے  ہائیکو انٹرنیشنل کے  لیے  تین مضامین جاپانی میں  تحریر کئے ( رسالے  کا تعارف، پروفیسر محمد رئیس علوی اور اس راقم کی ہائیکو نگاری) اور امین صاحب کے  جاپانی کلام پر نظر ثانی کی۔ ۔ ۔  علاوہ ازیں  خاور اعجاز صاحب کی اطلاع کے  لیے  عرض ہے  کہ حمد و نعت و منقبت کو حقیقی معنوں  میں  ہائیکو بنانے  کے  لیے  میری تحریک پر بعض شعراء نے  فطر ت نگاری کا التزام کیا اور بعض نے  میری تقلید !  مدیرہ صاحبہ سے  گزارش ہے  کہ موضوع کی اہمیت کے  پیش نظر اس خط کو جوں  کا توں  شائع کر کے  ممنون فرمائیں ۔  طالب خیر
  سہیل احمد صدیقی
٭  سہ ماہی تجدید نو (لاہور) بابت جولائی تا ستمبر ۲۰۰۸ء ؁ میں خط کی اشاعت بھی ہو چکی تو یاد آیا کہ خود خاور اعجاز کی مساوی الاوزان ہائیکو، ہائیکو انٹرنیشنل کے  توسط سے  دنیا بھر میں  پہنچی ہیں ۔ 
٭٭مساوی الاوزان کے  ایک اہم وکیل،کرنل(ر)دل نواز دلؔ نے  تجدید نو کے  اگلے  ہی شمارے  میں  اس کی تردید کی، جبکہ میرے  پاس ڈاکٹر محمد امین صاحب کا خط موجود ہے  جس میں  انہوں  نے  لکھا کہ میں  جاپانی آہنگ میں  ۵۔ ۔ ۷۔ ۵ کے  صوتی ارکان پر مشتمل ہائیکو لکھتا ہوں ۔ یہ بات قلم برداشتہ، نامہ بنام مدیرہ تجدید نو لکھتے  ہوئے  یاد نہیں  تھی۔ ۔ ۔  ریٹائرڈ کرنل صاحب کا  ایک پرانابیان ہے  کہ’’ اس صنف پر میرا لکھا ہوا حرفِ آخر ہے ‘‘۔ ۔ ۔  تعجب نہیں  صدمے  کا مقام ہے  کہ جو شخص یہ بھی نہ جانتا ہو کہ جاپانی زبان میں  کون سی مخصوص اصوات نہیں  ہوتیں ، اس طرح کے  حکم صادر کرتا ہے !  ٭٭٭٭٭
  
  علاقائی زبانوں  کا گوشہ  
 علاقائی زبانوں  میں  ہائیکو کی تحریر اور ہائیکو انٹرنیشنل میں  اشاعت کا سلسلہ اولین شمارے  سے  جاری ہے ۔ ۔ ایک دل چسپ بات یہ ہے  کہ اردو میں  پہلی مرتبہ ہائیکو کہہ کر شائع کرانے  والے  کئی شعراء کی مادری زبان اردو نہیں  ہوتی، اس ضمن میں متعدد اسماء کے  علاوہ، سرائیکی شاعر شہزاد نیاز کے  بعد، موجودہ شمارے  میں  شامل ظہیر ظرفؔ اور میر ساگر رحمن پہلی مرتبہ اردو ہائیکو کے  افق پر نمودار ہو رہے  ہیں  اور ان حضرات کی مادری زبان بلوچی ہے ۔ 
  اس مرتبہ ہم نے  کوشش کی کہ کچھ مواد ایسا حاصل کیا جائے  جس سے  محض شاعری کا ہی مطالعہ نہ ہو بلکہ علمی سطح پر کچھ گفتگو کا آغاز بھی ہو۔ اس ضمن میں  ہائیکو انٹرنیشنل کو برا ہوی اکادمی، کوئٹہ کے  روح رواں  محترمین عزیز مینگل، افضل مینگل اور افضل مراد،بلوچی کے  باب میں  ڈاکٹر محسن بالاچ، سرائیکی میں  عزیزم شہزاد نیاز کا بھرپور تعاون حاصل ہوا ۔ ان حضرات نے  بعجلت تمام یہ علمی مواد ہمیں  ارسال کر کے  ممنون کیا۔ ان زبانوں  کے  اہل قلم اور قارئین کرام سے  گزارش ہے  کہ ہمیں  اس باب میں  اپنی رائے  اور تنقید سے  مستفید کریں ۔ پشتو کے  ضمن میں  محترم سرور سودائی باوجود متعدد بار یاددہانی کے،اپنے  کچھ نجی مسائل کے  سبب،اپنا مقالہ ارسال نہ کر سکے ۔ بہرحال انہی کے  تعاون سے  ہماری رسائی محترمین عزیز مینگل اور افضل مینگل تک ہوئی،جس کے  لیے  ہدیہ تہنیت پیش کیا جاتا ہے ۔ 
 

گوشہ سرائیکی  
  سرائیکی ہائیکو: 
شہزاد نیاز ۔ کراچی

  ڈاڈھا تڑپاون
  تیڈے  نال گزارے  پل
  میکوں  یاد آون

ہُنڑتئیں  ہِن بے  حال
اکتوبر دے  اٹھویں  ڈیہنہ
آیا ہئی بھونچال

مُلک دے  ہن خادم
ایجھے  کم ا نہاں  دے  ہن
قوم تھیوے  نادم

٭٭

  کیجھی رت آئی
  جی کوں  آپنڑاں  جانڑاں  میں
  بنڑویندے  ہرجائی

جیونڑدے  ڈینہہ چار
ڈکھ ڈیسو تاں  کیا ملسی
خشیاں  ونڈو یار
  
  ٭  ٭

 
گوشہ برا ہوئی
 برا ہو ئی زبان میں  ہائیکو نگاری ۔ ۔ ۔ ایک جائزہ
افضل مینگل ٭

  برا ہو ئی زبان میں  ہا ئیکو نگاری پر لکھنے  سے  پہلے  ہم قدیم برا ہو ئی لوک گیتوں  پر نظر دوڑاتے  ہیں۔ لوک گیت پر تہذیب و ثقافت کے  بنیادی عنصر ہیں  جو کئی صدیوں  کے  بعد تہذیبی عمل سے  ترتیب پاتے  ہیں۔ ان لو ک گیتوں  کے  خالق چروا ہے، ساربان، کسان،سادہ لو ح دیہاتی اور خواتین ہوتی ہیں۔ ان لوک گیتوں  میں  سادگی،روانی، دلکشی کے  کے  علاوہ فطرت نگاری اور موسمی احوال کے  ساتھ ساتھ منظر کشی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی ہمیں  ملتا ہے ۔ اس میں  تہذیب و ثقافت کی تاریخ بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ رسوم و قیود،رزم و بزم اور دیگر احوال کا ذکر بھی نمایاں  ہوتا ہے ۔ برا ہو ئی لوک گیت دراصل قدرتی ماحول، فطری حسن، بے  آب و چٹیل میدانوں، پہاڑوں  ٬گدانوں ،اور وادیوں  میں  تخلیق ہوتے  ہیں ۔ برا ہو ئی لوک گیتوں  میں  ایک صنف لئیکو ہے  جو عموماً تین مصرعوں  پر مشتمل ہوتی ہے۔ ٭٭لئیکو کے  الفا ظ انتہا ئی پر سوز ہوتے  ہیں ۔ لئیکو کی بندش تین مصرعوں  پر مشتمل ہونے  کی وجہ سے  جاپانی ہا ئیکو سے  قریب تر ہے۔ شادی کا بندھن جہاں  خوشی کا موقع ہے ،وہاں  اپنوں  سے  دوری کی اداسی بھی ہے۔ اس اداسی کا اظہار خواتین گھریلو  کام کا ج کے  دوران لئیکو گا کر کرتی ہیں۔ یا۔ ساربان سفر کے  موقع پر اپنوں  کو یاد کر کے  لئیکو گا تے  ہیں۔ کچھ لئیکو درج ذیل ہیں  :
  برا ہو ئی لئیکو			  اردو ترجمہ 
  شارے  قلا ت نا 			  شہر قلات ہے  
  زیبل جان زو برک کان 		  اے  دوست آجلدی چلیں 
وختے  صلٰوۃ نا			  صبح ہونے  کو ہے  
  ٭
دیرے  دم سرنا 			دم سر کا پانی ہے  
زیبل جان زو برک کا ن 		اے  دوست آ جلدی چلیں  
گوازی ہمسر نا 			پیارا ہے  کھیل ہمجولیوں  کا 
  ٭
جل ئَ نادیرے  			  ندی کا پانی ہے  
زیبل جان زوبرک کان 		اے  دوست آ جلدی چلیں  
است کہ زہیرے  			دل بہت اداس ہے  
	برا ہو ئی لوک شاعری میں  لئیکو  کا درمیانی مصرع بار بار دہر ا یا جاتا ہے  جبکہ پہلا اور تیسرا مصر ع مختلف اور ہم وزن ہوتے  ہیں ۔ اس طرح ایک اور لئیکو کے  مصرعے  اس طرح ہیں  :
جھمرتفینے  				گھٹائیں  چھا ئی ہیں  
اللہ ساہ کنا تینا 			اللہ کی شان میرے  محبوب نے  
کا ٹم گوفینے 			  گیسو سنوارے  ہیں  
	  ٭
جھمر خیسونے  			سنہری گھٹائیں  ہیں  
اللہ سا ہ کنا تینا 			اللہ کی شان! میرا  محبوب 
طوقے  ایسونے  			 گلے  کا زیور لا یا ہے  
	  ٭
جھمر پھل تفے  			چھا گئے  ہیں  بادل 
اللہ ساہ کنا تینا	 		اللہ کی شان میرے  محبوب نے  
خوا ئِ ارفے  			  مشکیزہ اٹھا یا ہے  
اس طرح اور بھی لئیکو ہیں۔ جو ہا ئیکو سے  مشابہ ہیں۔ بلو چستان میں  ہا ئیکو نگاری کو متعارف کرانے  میں  اقبال حیدر کا نام سامنے  آتا ہے۔ اقبال حیدر جن دنوں  پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن،کوئٹہ میں  بطور پروڈیوسر ٹرانسفر ہو کر آئے،تو انہوں  نے  ہا ئیکو کی  نشستیں  رکھیں  اور ہا ئیکو کے  اوزان بھی بتائے۔ چونکہ ان کے  حلقہ احباب میں  بلو چستان کے  مختلف زبانوں  سے  تعلق رکھنے  والے  شاعر حضرات تھے۔ اسلئے  مختلف مشاعروں  میں  پہلے  کچھ ہا ئیکو سناتے  تھے۔ جب براہوئی شعرا نے  اس صنف میں  طبع آزما ئی شروع کیں  تو انہیں  ایسا محسوس ہوا کہ یہ صنف برا ہو ئی ادب میں  نئی نہیں  ہے ،اس لیے  ابتداء میں ،برا ہو ئی شعرا ء کی،بلو چستان میں  دوسری زبانوں  کی نسبت زیادہ کتب چھپیں ۔ 
اس وقت برا ہو ئی میں  چار شعرا ء کی چھے  ہا ئیکو کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پروفیسر عز یز مینگل کی ہا ئیکوپر مشتمل، مندرجہ ذیل تین کتابیں  چھپی ہیں  :
جھمر خیسونے  			سنہری گھٹائیں  ہیں  
	اللہ سا ہ کنا تینا 			اللہ کی شان! میرا  محبوب 
	طوقے  ایسونے  			 گلے  کا زیور لا یا ہے  
	  ٭
	جھمر پھل تفے  			چھا گئے  ہیں  بادل 
	اللہ ساہ کنا تینا	 		اللہ کی شان میرے  محبوب نے  
	خوا ئِ ارفے  			  مشکیزہ اٹھا یا ہے  
اس طرح اور بھی لئیکو ہیں۔ جو ہا ئیکو سے  مشابہہ ہیں۔ بلو چستان میں  ہا ئیکو نگاری کو متعارف کرانے  میں  اقبال حیدر کا نام سامنے  آتا ہے۔ اقبال حیدر جن دنوں  پاکستان ٹیلی وژن کارپوریشن،کو ئٹہ میں  بطور پروڈیوسر ٹرانسفر ہو کر آئے،تو انہوں  نے  ہا ئیکو کی  نشستیں  رکھیں  اور ہا ئیکو کے  اوزان بھی بتائے۔ چونکہ ان کے  حلقہ احباب میں  بلو چستان کے  مختلف زبانوں  سے  تعلق رکھنے  والے  شاعر حضرات تھے۔ اس لئے  مختلف مشاعروں  میں  پہلے  کچھ ہا ئیکو سناتے  تھے۔ جب برا ہو ئی شعرا نے  اس صنف میں  طبع آزما ئی شروع کیں  تو انہیں  ایسا محسوس ہوا کہ یہ صنف برا ہو ئی ادب میں  نئی نہیں  ہے ،اس لیے  ابتداء میں ،برا ہو ئی شعرا ء کی،بلو چستان میں  دوسری زبانوں  کی نسبت زیادہ کتب چھپیں ۔ 
اس وقت برا ہو ئی میں  چار شعرا ء کی چھے  ہا ئیکو کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ پروفیسر عز یز مینگل کی ہا ئیکوپر مشتمل، مندرجہ ذیل تین کتابیں  چھپی ہیں  :

اس وقت برا ہو ئی میں  چار شعرا ء کے  چھے  ہا ئیکو کے  کتب منظر عام پر آ چکے  ہیں۔ پروفیسر عز یز مینگل کی ہا ئیکو پر مشتمل، مندرجہ ذیل تین کتابیں  چھپی ہیں  :
	۱۔ شمشاک:	  اس کتا ب میں  510ہا ئیکو ہیں  
	۲۔ بر فیچ :	  اس کتا ب میں  516ہا ئیکو ہیں  
	۳۔ جلشکہ: 	  اس میں  502ہا ئیکو ہیں  
اس طرح عزیز مینگل،ڈیڑھ ہزار سے  زائد ہا ئیکو  لکھ چکے  ہیں ،اور باقی کتابت کے  مراحل سے  گزر رہی ہیں۔ 
	عزیز مینگل جب اردگرد نظر دوڑاتا ہے  تو اس سے  غریبوں  کی بدحالی، دکھ درد،دیکھا نہیں  جاتا ۔ وہ ایک حساس دل کا مالک ہے ۔ یہ حالت دیکھ کر اس کا دل اداس ہو جاتا ہے ۔ اپنے  معاشرے  میں  جب ظلم،جبرا ور جہالت دیکھتا ہے  تو اس کے  جذبات بے  قابو ہو جاتے  ہیں اور وہ بے  اختیار قلم کاغذ اٹھا کر اپنے  خیالات و احساسات شعر کے  سانچے  میں ڈالتا ہے  اور پکار اٹھتا ہے۔ 
برا ہو ئی ہا ئیکو 			اردو ترجمہ 
زند تہارا لد			یہ زندگی ایک تاریک جنگل ہے  
جو روجبر وجہالت 			جس میں  ظلم،جبرا ور جہالت نے  
بٹے  ننے  پد 			ہمیں  پسماندہ رکھا ہے  
عز یز مینگل ایک مصور بھی ہے۔ اسے  رنگوں  سے  پیار ہے ،لڑائی جھگڑے  سے  بے  زاری کا اظہار کرتا ہے ۔ وہ اس زمین کو جنت اور امن کا گہوارہ دیکھنا چاہتا ہے۔ اسے  بدلے  کی آگ میں  جلنے  والے  پسند نہیں :
جنگ ونہ بیر ئِ 			لڑائی اور بدی نہیں  چاہتے  
سر زمین آخدانا 			اللہ کی زمین پر 
خوانہ نن خیر ئِ 			ہم امن چاہتے  ہیں  
عریز مینگل کی ہا ئیکو نگاری میں  لو گوں  کو امن محبت دینے  کا درس نمایاں  ہے ،مگر فطرت سے  شاعر کہاں  تک دور رہ سکتا ہے ۔ ۔ ۔  عزیز مینگل نے  جا پانی ہا ئیکو کی طرح فطرت کی منظر کشی کی ہے  :
	برا ہو ئی ہا ئیکو 			اردو ترجمہ 
کتّی کیرہ نے  			تمہیں  اشارے  کر رہے  ہیں  
گوش و گلاب و زباد 			نسیم،گلاب اور مہک 
دیرا دیرہ نے  			 کس کی اور (سمت )تمہیں  لئے  جا رہے  ہیں  
	  ٭
	
خنان داصنم 			ہم نے  تو اے  صنم یہ دیکھا 
پھلا ک کر یر بشخندہ 			گل مسکرا رہے  تھے  
اوغان ئِ شبنم 			اور رو رہی تھی شبنم 

لعل و خیسن دُر			طلاء،لعل و جواہر
آپڑس خت و تاغذان		اشجار ہیں گو نے  کونے  میں 
مشک و ننا پُر			جس سے  ہما رے  کوہسار بھرے  پڑے  ہیں 

	عزیز مینگل کی ہا ئیکو نگاری کا اگر ہم جائزہ لیں  تو فطرت کی خوبصورت مناظر، چشموں  کا پانی،گرم سر د ہو اؤں  کا ذکر، مو سم بہار کی آمد کے  ساتھ ساتھ پہاڑوں  کا حسن، اس میں  بسنے  والی محنت کش خواتین،ظلم و جبر کے  خلاف آواز،بے  کس لا چار لو گوں  کو ایک امید کی کرن جیسے  موضوعات ہمیں  ملتے  ہیں ۔ غرض عزیز مینگل کی شاعری میں  فطرت کے  علا وہ سماجی اور معاشرتی پہلوؤں  کا بھی بغور جائزہ لے  کر اسے  بڑی  خوبصورتی سے  پیش کیا گیا ہے۔ 
	برا ہو ئی زبان میں  ہا ئیکو کے  حوالے  سے  ایک اور معتبر نام افضل مراد کا ہے  جو اقبال حیدر کے  حلقہ احباب میں  سے  ہیں، جنہوں  نے  ہا ئیکو کی ترقی میں  بہت کام کیا ہے ۔ افضل مراد کی برا ہو ئی ہا ئیکو کی ایک کتاب’ بادام ناپھل‘ چھپی ہے ۔ اس کتاب میں  294ہا ئیکو ہیں ۔ افضل مراد کے  ہا ئیکو میں  مختلف موضوعات شامل ہیں  مگر ان کی ہا ئیکو نگاری میں  فطرت کا حسن نظر آتا ہے۔ ویسے  تو افضل مراد نظم، آزاد نظم اور غزل کا ایک اچھا شاعر ہے  مگر اس کی کتاب’ بادام ناپھل‘ ہا ئیکو کا ایک اچھا مجموعہ ہے ۔ افضل مراد کے  کچھ ہا ئیکو درج ذیل ہیں :
دجوانی کتو 			موسم نے  اچھا سلوک نہیں  کیا 
بادام نا نازرک آپھل 		بادام کے  نا زک پھول پہ 
ورنا ئی کتو 			بالید گی نہ آ سکی 
	  ٭

تر ہ کرنے  ہلی 			گڑا بدک گیا ہے  
انگوری آباغ ٹی 			انگور کے  باغ میں  
گم مس پھلی 			نتھ کھو گئی ہے  
  ٭
مونجا ئِ دے  نن			دن رات رنجیدہ ہیں  
نے  آن بید س سنگت دا 		تیرے  بغیر اے  دوست 
پھل وبوچ وپن 			پھول پتے  اور جھا ڑیاں 
	  ٭
ول و ل آبولان 		  	یہ پر پیچ  بولان
ای بیر ے  آتے  چنڈاٹہ		میں  بیری کے  درخت کو ہلائے  جاتا ہوں 
اونا گدتالان 			وہ چادر بچھائے  ہوئے  ہے  
	بولان کی پر پیچ وادی صدیوں سے  برا ہو ئی لوک شاعری میں  اضافہ کرتی رہی ہے۔ برا ہو ئی لوک شاعری کی صنف لیلی مور ہویا برناز نا ان سب میں  بولان کے  سفر کا حسن جھلکتا نظر آتا ہے۔ اسی طرح افضل مراد نے  بھی بولان میں  بیری پکنے  کے  وقت دوست کے  چادر بچھانے  کا ذکر کر کے  ہا ئیکو میں  حقیقت کا رنگ بھر دیا ہے ۔ ۔ افضل مراد کی کچھ مزید ہا ئیکو یوں  ہیں  :
پھل آتیا بے  غم 			پھولوں  پہ تفکر ات سے  آزاد 
لگیرہ زیبا  او جوان 			کتنے  خوبصورت لگتے  ہیں  
پرک اوشونم			برسات اور شبنم 
  ٭
دا بھلا شال 		  یہ بڑی شال
پھل و گواڑخ رنگ آتیان		  پھل اور گل لالہ کے  رنگوں  سے  بہتر 
زیبا نا جمال 		  تیرا ہے  جمال
	ہا ئیکو نگاری میں  ایک اور نام اعظم مشتاق کا ہے ۔ اعظم مشتاق کی کتاب سیبو 1996 میں  چھپی، جس میں  404 ہا ئیکو ہیں۔ اس کتاب میں  بھی مختلف مو ضوعات شامل ہیں ،جن میں  فطرت کے  مناظر، وطن دوستی،رومان اور عشق و محبت کے  علا وہ عارفانہ رنگ بھی ہے۔ اعظم مشتاق کی ہا ئیکو نگاری کے  کچھ نمونے  درج ذیل ہیں  :
	زیبا زمین ئِ			پیار ی ہے  یہ زمین 
	مش و میدان و دریاب 	یہ پہاڑ، میدان اور  دریا 
	آسمان حسین ئِ		آسمان بھی حسین ہے  
  ٭
	ای نا خیر خواہ اٹ 	  میں  تیرابہی خواہ ہوں  
	نی بے  گناہ اس جاناں  	توبے  گناہ ہے  جان من 
	ای نا گواہ اٹ 		  جس کی میں  گواہی دیتا ہوں  

	حسن و شباب نا 		یہ تیرا حسن و شباب 
	مسنو  با غ و چمن 		یہ با غ و چمن بھی تیرے  ہیں  
	سو سن گلا ب نا 		یہ سوسن و گلاب بھی تیرے  ہیں  
	برا ہو ئی ادب میں  خواتین کا بڑا حصہ رہا ہے  لوک ادب سے  لے  کر جدید ادب تک خواتین اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔ حمیرہ صدف سے  پہلے  کئی خواتین، برا ہوئی ادب میں  پا بندیوں کے  باوجود، جرات مندانہ قدم اٹھا تی رہی ہیں ۔ عورت پر ظلم و جبر دیکھ کر خواتین بھی احتجاج کئے  بنا نہیں  رہ سکیں۔ ماہی تاج بانو، حیات النسا ء کے  علا وہ دوسری  خواتین مرحومہ آمنہ یوسف موج،پروفیسر طاہر ہ احساس جتک،نیلم مومل اور جہاں  آرا تبسم بھی نثر اور نظم میں  خواتین کے  مو ضوع پر لکھتی رہی ہیں۔ پروفیسر طاہر ہ احساس جتک کی برا ہو ئی میں  شاعری اور افسانے  کی کتابیں  چھپ چکی ہیں  اب ان کی صاحبزادی پروفیسر حمیرہ صدف حسنی کی ہا ئیکو کی کتاب ’’چکل ‘‘کے  نام سے  منظر عام پر آ چکی ہے ،جس میں 207ہا ئیکو ہیں ۔ حمیر ہ صدف کی ہا ئیکو نگاری میں  بھی مختلف موضوعات شامل ہیں ،ان کی شاعری میں  سادہ اور آسان الفاظ کا استعمال ہے ، فطرت کے  ساتھ ساتھ دوسرے  موضوعات پر بھی ہا ئیکو شامل ہیں ۔ ان کے  کچھ ہا ئیکو درج ذیل ہیں :
	ہو رہ گروکے  			بجلیاں  ہیں  اور بادل گرج رہے  ہیں  
	پڑچ آتے  کورہ ذواس 		چٹائیاں  جلدی سمیٹئے 
	جمر تفوکے  			بادل گہرے  چھائے  ہیں 
  ٭
	بخت نا استار 		میری قسمت  کا ستارہ
	کرپاش طوبے  ولدا 		اے  چاند پھر نظر آ
	جمراک کشکار 		بادل چھٹ گئے  ہیں  
	  ٭
	چکاتا توار ئِ			پرندوں  کی چہچہا ہٹ ہے  
	تالان آگواڑخاک دا			یہ دور  تک پھیلے  گل لالہ 
	موسم بہار ئِ 			موسم بھی بہار  کا  ہے  
حمیرہ صدف کا تعلق خضدار سے  ہے۔ ا۔ س نے  دیہی خواتین کے  مسائل کو قریب سے  دیکھا ہے۔ ان کی بدحالی،غربت،محنت اور جفا کشی کو دیکھ کر اپنے  جذبات کو قابو میں  نہیں  رکھ سکتی تو انہیں ہا ئیکو کے  سانچے  میں  ڈال کر یوں  پیش کرتی ہے :
	  ہبو گودی ئِ		  وہ تو شہزادی جیسی ہے  
	بئے  روتنگ کہ ہِننگ ئِ	گھاس کاٹنے  جا رہی ہے  
	لشی دوٹی ئِ 		  ہا تھ میں  درانتی ہے  
	  ٭
	نیاڑی نا بخت ئِ			عورت کے  نصیب میں  
	سگک دڑدو غم تے  بھاز 	 	 دکھ درد سہتی ہے  
	صبر ئَ ٹی سخت ئِ 			پھر بھی صبر کا دامن نہیں  چھوڑتی 
  برا ہو ئی کے  کچھ اور ہائیکو نگاروں  کے  کلا م کے  نمونے  
  ڈاکٹر عبدالرزاق صابر
	برا ہو ئی ہا ئیکو 			اردو ترجمہ 

	زیبا غاباغاکو 			حسین و جمیل باغات ہیں  
	نم آتیان شونم نا 			شبنم کے  دکھ درد سے  
	پھل آدا غاکو 			پھول کے  دل بھی داغدار ہیں 
  ٭
	مشتا انجیراک 			گھا ٹیوں  کے  انجیر 
	خلو کو چٹ اٹ دھنکہ 		دھاگے  میں  پروئے  ہوئے  جیسے  
	نت تا زنجیراک 			پا ؤں  کی بیڑیاں  

  جو ہر برا ہو ئی 		
	برا ہو ئی ہا ئیکو 			اردو ترجمہ 
	خو شہ اور خولم 			یہ گند م کے  خوشے  
	کنے  مزہ تتنے  			مجھے  نہیں  بھاتے  
	دتر ی آسم 				یہ خون آلو دگو لیاں  
	  ٭
	استاکو ملاس 			من پیا سے  ہیں  
	تارا تینا زلفاتا 			اپنی زلفوں  کے  تار تار پہ 
	استاتے  ہیلا س 			تو نے  دل پھیلا رکھے  ہیں  
ؑ	 برا ہو ئی میں  بے  شمار شعرا ء کرام نے  ہا ئیکو لکھی ہیں اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے  نیز عنقریب کئی کتب کی اشاعت متوقع ہے ۔ چونکہ برا ہو ئی بولنے  والے  بیشتر ۔ صحراؤں  اور کوہساروں  میں  بود و باش رکھتے  ہیں  اور ان کا سب سے  بڑا ذریعہ معاش گلہ بانی ہے،مو سموں  کی شدت سے  بچا ؤ کے  لیے  قافلوں  کی صورت میں  گرم علاقوں  کی طرف ان کا آنا جانا صدیوں  سے  تا حال جاری ہے  اور ا س طرح برا ہو ئی کی اصناف  لیلی مور اور  لئیکو  بھی زیادہ تر ایسے  ہی مناظر اور حالات کی منظر کشی کرتے  ہیں  اور اس میں  پیار الفت،دکھ درد،سفر کی صعوبتیں  اور رز م و بزم کے  سلسلے  بھی وقوع پذیر ہوتے  ہیں ،لہٰذا  ہائیکو کہ جاپانی زبان سے  ہوتی ہو ئی، اردو اور دیگر عالمی زبانوں  میں  مقبولیت کے  بعد برا ہو ئی میں آئی تو بہت ہی اخلاص اور کھلے  دل سے  اسے  شرف قبولیت ملا اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو لوک شاعر ی کی طرح یہ بھی اپنے  آسان اوزان کی وجہ سے  مزید مقبولیت حاصل کر کے  نہ صرف ا برا ہو ئی میں  مقبول ہو جائے  گی، بلکہ شاید یہ دوسری اصناف کے  ہم پلہ قبولیت بھی حاصل کرے  گی۔ برا ہو ئی شعراء کرام کو چاہئیے  کہ وہ دیگر زبانوں  خاص کر جاپانی ہا ئیکو کو اگر برا ہو ئی میں  ترجمہ کر کے  برا ہو ئی شعری ادب میں  اضافہ کریں  تو نہ صر ف ہمیں  نئے  خیالات و افکار سے  واقفیت ہو گی بلکہ ساتھ ساتھ گنجینہ ئِ ادب میں  بھی اضافہ ہو گا۔ ٭ محترم افضل مینگل صاحب ادب کی قد آور شخصیت ہونے  کے  ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی وژن، کوئٹہ سینٹر سے  بحیثیت اسکرپٹ ایڈیٹر وابستہ ہیں ۔ 
٭٭ ہائیکو انٹرنیشنل شمارہ پنجم’ اقبال حیدر نمبر‘ میں  لئیکو کے  نمونے  مع تراجم شائع ہو چکے  ہیں ۔ 
 

برا ہوئی زبان میں  ہائیکو نگاری ( ایک مختصر مضمون)
 افضل مراد٭

برا ہوئی زبان میں  ہائیکو کی صنف چند برسوں  میں  ایسی رچ بس گئی ہے  کہ اندازہ ہی نہیں  ہوتا کہ یہ کوئی نوخیز صنف ہے  اور ابھی ابھی وارد ہوئی ہے ۔ میں  نے  جب ہائیکو کا پہلا مجموعہ ’بادام ناپھُل‘ مکمل کی تو میرے  ذہن میں  کئی خدشات تھے ۔ پتہ نہیں  اس صنف کا مذاق نہ اڑایا جائے ، اسے  رد نہ کیا جائے۔ ۔ ۔  بہرحال جب ماحول سازگار ہو، پبلشر تیار ہو تو کون کم بخت صاحبِ کتاب نہیں  ہونا چاہتا۔ ۔ ۔  کتاب شائع ہونے  کے  بعد دوستوں  نے  بے  تحاشہ تعریف کی، میں  حیرت کی تصویر بنا، یہ سارے  تبصرے  دیکھتا رہا اور اَب میں  یہ بات فخریہ کہہ رہا ہوں  کہ برا ہوئی واحد زبان ہے  جس میں  ہائیکو کے  سب سے  زیادہ مجموعے  شائع ہوئے  ہیں ۔ ٭ ان ہائیکو نگاروں  میں  پروفیسر عزیز مینگل، اعظم مشتاق، قیوم بیدار، شاہ بیگ شیدا، حمیرہ صدف حسنی کا تذکرہ خاص طور پر کرنا چا ہوں  گا، جن کی توجہ، محنت اور دل چسپی نے  برا ہوئی زبان میں  ہائیکو کی صنف کو رواج دینے  میں  اہم کردار ادا کیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ 
  برا ہوئی زبان(میں ہائیکو کی) خوبصورتی کا سبب،ہماری لوک اصناف میں  شامل مقبول صنف لئیکو بھی ہے  جو ارکان۔ ۔ یا۔ Syllables، اور موضوعی اعتبار سے  ہائیکو کے  قریب ہے ۔ لئیکو صدیوں  کا سفر طے  کر کے  ہم تک پہنچی ہے  اور اپنی غنائیت اور جاذبیت کے  لحاظ سے  ایک بھرپور صنف ہے۔ اس بنیاد پر ہائیکو شاعری ہمیں  اجنبی صنف کا احساس نہیں  ہوتا(یعنی اجنبیت کا احساس نہیں  ہوتا۔ مدیر)۔ ۔ ۔  اب تو مشاعروں  میں  اکثر شعرائے  کرام اپنی غزل یا نظم سے  پہلے  چند ہائیکو پیش کرتے  ہیں  اور داد وصول کرتے  ہیں ۔ نوجوان لکھنے  والے  ایک بڑی تعداد میں  ہائیکو کی صنف میں  دل چسپی لے  رہے  ہیں ۔ توقع ہے ، یہ سلسلہ مستقبل میں  ایک اہم صنف کی حیثیت اختیار کرے  گا اور اپنی جگہ بنانے  میں  کامیاب ہو گا۔ یہاں  برا ہوئی کی چند ہائیکو ملاحظہ فرمائیں :
  افضل مراد:  
دنیا نا مونا
ای گواڑخ تارنگاتے
پٹیوہ  تینا

گوری نا مریو
مش و پٹ آتا نیا مٹ
ای نے  ئَ بریو

ہائیکو پاوہ
اُستنا لار ئِ  تینا
دنیا غاشاوہ

  شاہ بیگ شیدا:  
پالو تا شمب آن
ضرور نے  گڑاس ملیک
حاکم  نا  وسب  آن

مُلہ  تا مہرئِ
باوہ  امر تنینگ کیک
وسان تہ تیرئِ

  حمیرہ صدف حسنی:  

مہر آتا گودمی
تینا غم تا گواچی مس
شعر  آتا مودی
٭ محترم افضل مراد اردو اور برا ہوی کے  معروف شاعر، ادیب، ڈراما نگار اور صحافی ہیں۔ انہیں  مادری زبان کے  علاوہ بلوچی اور پشتو پر بھی دسترس حاصل ہے ۔ ان کا اردو ہائیکو مجموعہ کلام ’تِرنِک‘ (کچے  بادام) منظر عام پر آ چکا ہے  اور ہائیکو انٹرنیشنل کے  بانی مدیر نے  اس پر مضمون بھی رقم کیا، جو ’ محور‘ (کوئٹہ) اور ’ لوح ادب‘ (حیدرآباد) میں  شائع ہوا۔ وہ اکادمی ادبیات پاکستان، کوئٹہ شاخ کے  ریجنل ڈائریکٹر ہیں ۔ 
٭٭ ہم بصد احترام، جرأت اختلاف کرتے  ہوئے  عرض کرنا چاہتے  ہیں  کہ اگر بلوچستان اور صوبہ سرحد کے  پشتو مجموعہ ہائے  کلام (ہائیکو ) کی تعداد جمع کر لی جائے  تو غالباً اس سے  زائد ہو گی۔ بہرحال اہل علم اس ضمن میں  ہمیں  مستند معلومات سے  آگاہ کریں  تو بہت عنایت ہو گی۔  ٭٭٭٭٭
 
گوشہ بلوچی
  بلوچی ہائیکو نگاری کا جائزہ
ڈاکٹر محسن بالاچ

بلوچی زبان میں  سب سے  پہلے  ہائیکو اسّی (۸۰) کی دہائی میں  لکھی گئی۔ ، جس کا سہرا پروفیسر ڈاکٹر غنی پروازؔ کے  سر جاتا ہے  جنہوں  نے  بے  شمار دوسری اصناف اور ادبی تکنیک بھی متعارف کرائیں ۔ ٭ ان کے  بعد عطا شادؔ ، غوث بہارؔ ، صبا دشتیاری،مبارک قاضی،ڈاکٹر فضل خالق،اے  آر داد، اﷲ بخش بُزدار، غوث بخش صابرؔ ، بشیر بیدارؔ ،عثمان غریبؔ ، ابراہیم عابد، ڈاکٹر علی دوست بلوچ، اسحاق محمود، نصیر احمد علیمؔ ، باقر علی شا کر،ضامن مراد، آصف شفیق، بشیر کسانوی، لطیف الملک بادینی، جاوید سعید، درجان محب وغیرہ نے  بھی متعدد ہائیکو تحریر کیں ۔ ۔ 
  پروفیسر ڈاکٹر غنی پروازؔ نے  اپنے  شعری مجموعے  کا نام( جس میں  ہائیکو کے  علاوہ غزلیں، نظمیں  بھی شامل تھیں )اپنی ایک ہائیکو کے  غزل، آزاد نظم، معرّیٰ نظم، سانیٹ، ترائلے، ہائیکو، ماہیے  وغیرہ یہ سب اردو ۔ ۔ ۔ یا۔ دوسری زبانوں  کے  توسط سے  بلوچی میں  آئیں ۔ ۔ ۔  لیکن جس شاندار طریقے  سے  ہائیکو کو بلوچی میں  خوش آمدید کہا گیا، شاید ہی کسی اور صنف سخن کو کہا گیا ہو۔ بلوچی میں  جیسے  ہی ہائیکو متعارف ہوئی، اپنے  بام عروج پر پہنچ گئی۔ دیکھتے  ہی دیکھتے، کتابوں ، اخباروں  اور رسائل میں  اس کے  انبار لگ گئے، ہر محفل اور ہر ادبی نشست میں  ہائیکو خصوصی طور پر کہی جانے  لگی۔ ہائیکو کا گویا ایک فیشن چل نکلا۔ ۔ ۔  ہر نوآموز، نوخیز اور مشاق و چابک دست استاد شاعر نے  اس پر طبع آزمائی کی، حتّیٰ کہ بعض شعراء جو شاعری تقریباً چھوڑ چکے  تھے، دوبارہ ہائیکو ہی کی بدولت دریائے  شعر و سخن میں  موجزن ہوئے  اور ایسے  بھی شاعر پیدا ہوئے  جو بعد میں  صرف ہائیکو ہی لکھنے  لگے، جن میں  بشیر کسانوی، عثمان غریبؔ ، اسحاق محمود، درجان محب وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ 
  اجزائے  ترکیبی، اوزان اور مضمون کے  حوالے  سے  بلوچی ہائیکو شروع ہی سے  انحراف کے  رستے  پر چل رہی ہے ۔ روایتی پانچ، سات، پانچ (صوتی ارکان) والی ہائیکو بلوچی میں  مشکل ہی سے  ملیں  گی، زیادہ تر مساوی الاوزان یا زیادہ ارکان کی صورت میں  ملیں  گی۔ ۔ ۔  جبکہ مضمون کے  حوالے  سے  کلاسیکی جاپانی ہائیکو کے  وہ فطری حالات اور ماحول (جس میں  اکثر جوہڑ، تالاب، مکھی، جھینگر، مینڈک، مچھر، مگر مچھ، خربوز، الٹی، کھانسی، بینگن وغیرہ وافر مقدار میں  دستیاب ہیں )، بلوچی میں  اسے  یکسر نظر انداز کر کے  اس میں  بیشتر سیاسی، معاشرتی اور رومانی ماحول دکھانے  کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ٭٭ 

مصرع پر ’’ موسم انت ودارانی‘‘( ہے  انتظار کا موسم) رکھا ۔ لیکن اس سلسلے  میں  سب سے  اہم اور سنجیدہ کام پروفیسر صبا دشتیار کی طرف سے  آیا، جنہوں  نے  ہائیکو پر ایک کتاب ’’گنگدامیں  سرزمین‘‘ (حواس باختہ سرزمین) کے  نام سے  لکھی، جس میں  ہائیکو کے  فن، اس کی تاریخ اور بلوچی میں  ہائیکو کی صورت حال پر بحث کی گئی تھی۔ اس کے  علاوہ اس کتاب میں  انہوں  نے  اپنی اور بعض دوسرے  شعراء کی ہائیکو، نمونے  کے  طور پر شامل کی تھیں ۔ بلوچی میں  اس کتاب کو بہت پذیرائی ملی۔ مشہور ادبی کالم نگار ڈاکٹر علی دوست بلوچ نے  اپنے  ایک کالم میں  اس کتاب کو ہائیکو کے  حوالے  سے  اہم پیش رفت قرار دیا ہے ۔ بلوچی کی چند ہائیکو ملاحظہ ہوں :
  غنی پروازؔ : 

بے  قرار انت دل
موسم انت ودارانی
دور نہ انت منزل

  ترجمہ
  بے  قرار ہے  دل
ہے  موسم انتظار کا
دور نہیں  منزل


ہرجاہ کہ برواں
چیرانت تئی یاتانی دام
چوں  منزل بجناں

ترجمہ
ہر جگہ جاؤں
تیری یادوں  کے  دام لگے  ہیں
کیسے  منزل تک پہنچوں


سر کپتہ چونیں  جا ہے  ئَ  
بازارے  یا کہ جنگل یے  
دل بند یں  پہ ہمرا ہے  ئَ  

ترجمہ
کیسی جگہ ہے  یہ
بازار ہے  کہ کوئی بیاباں ؟ 
کوئی ساتھی بھی نہیں !

 صبادشتیاری: 

 مستؔ ئِ شوہاز ئَ
گاربہ نبیت جنگانی بولی
است ئِ  شوہاز ئَ

ترجمہ
مستؔ کی تلاش میں
کبھی جنگیں  ختم نہ ہوں  گی
اپنے  وجود کی تلاش میں

چونیں  طوفان انت
نوکیں  رژن ئِ عہد ئَ ہم
انسان، حیوان انت

ترجمہ

کیسا طوفان ہے 
عہد جدید میں  بھی
انسان، حیوان ہے 

  (مستؔ : مستؔ توکلی، بلوچی کا صوفی شاعر)
ابراہیم عابد: 

 نودشنزاں  انت
سرمگیں  بلان انت کوہ
مہر درنزان انت

ترجمہ

بادل برس رہے  ہیں 
سرمگیں  پہاڑ چمکتے  ہوئے 
الفت بکھیر رہے  ہیں 

غوث بہارؔ :  

نوک انت ہائیکو
موسم ئ رنگ ئِ گپ نہ بیت
روک انت ہائیکو

ترجمہ

نیا ہے  ہائیکو
موسم کا رنگ ہی اور ہے 
جل رہا ہے  ہائیکو

ڈاکٹر علی دوست بلوچ:  

سردیں  سیاہیں  شپ
یاتاں  شال ئِ  مہرنگئِ
  زردئَ گُر تگ جپ

ترجمہ

یخ بستہ کالی رات
شال کی حسینہ کی یادیں 
دل میں  آگ لگاتی ہیں 

  ( شال: شال کوٹ، کوئٹہ کا قدیم نام)
جیسے  کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے  کہ سانیٹ، ترائلے ، ماہیے  وغیرہ کا بھی بلوچی میں  تجربہ کیا گیا، لیکن ان کو ویسی پذیرائی نہیں  ملی اور نہ ہی ان اصناف نظم کو وہ مقام ایک لحظے  کے  لیے  بھی نصیب ہوا جو ہائیکو کو حاصل ہوا، مذکورہ بالا اصناف تو اَب بس نام ہی کو لکھی جاتی ہیں، جبکہ اس کے  برعکس،غزل، آزاد نظم اور معرّیٰ نظم بھی درآمدہ ادبی تحفے  ہیں ، لیکن اب بلوچی میں  اچھے  طریقے  سے  لکھی جاتی ہیں  اور آہستہ آہستہ بلوچی میں  شامل ہوتی ہوئی گہرائیوں  تک جڑ پکڑتی جا رہی ہیں ۔ ۔ ۔  اس کی وجہ شاید یہ ہے  کہ یہ اصناف، بلوچی کے  روایتی شعری تقاضوں  سے  خوب میل کھاتی ہیں ۔ اس کے  برخلاف ہائیکو لاکھ پذیرائی، طبع آزمائی اور شہرت کے  باوجود وہ اپنائیت حاصل نہ کر سکی جس کی وہ حق دار تھی اور اسی دل دوز حقیقت کو محسوس کرتے  ہوئے ، میں  نے  اس مضمون کو تحریر کرنے  کی ضرورت محسوس کی۔ یہ صنف انتہائی مختصر ہے ، تین مصرعوں  اور بمشکل  اٹھارہ بیس ارکان پر مشتمل ہے، ہے ۔ مدیر)، جس میں  تخیل کا صرف ایک ہی پہلو قلم بند کیا جا سکتا ہے  اور بلوچی کلاسیکی شعر کا کینوس انتہائی وسیع اور وضاحت سے  بھرپور، صدیوں  کی داستانوں ، تخیلات و حالات کا احاطہ کرتا ہے۔ ۔ ۔ حتّیٰ کہ بعض بلوچی نظمیں  تین سو / چار سو اشعار پر مشتمل ہیں (یہاں  ہائیکو کی ماں  رینگا اور واکا کی مثال پیش نظر رکھنی چاہئے ۔ ۔ ۔ مدیر)۔ بلوچ شاعر فطری طور پر جب بھی کتھارسز کرتا ہے ، اس کا دائرہ بڑا پھیلا ہوا ہوتا ہے  اور وہ ہائیکو کے  کینوس کو ضمنی طور پر کچھ وقت کے  لیے  استعمال تو کرتا ہے  لیکن فطری نفسیات کے  پیش نظر اسے  اپنا نہیں  سکتا۔ ۔ ۔  اور یہاں  ہائیکو کے  ساتھ یہی ظلم ہوا۔ ۔ ہائیکو ایک عظیم لہر پیدا کرنے  میں  کامیاب تو ہو گئی لیکن اسے  دیر تک برقرار نہ رکھ سکی۔ ایسا بھی نہیں  ہے  کہ ہائیکو نگار بلوچی میں  نہیں  پائے  جاتے  اور یہ صنف اب یہاں  بالکل متروک ہو چکی، اب بھی ہائیکو لکھنے  والے  موجود ہیں ۔ مبارک قاضی، غنی پرواز، صبادشتیاری اور لطف الملک بادینی جیسے  اچھے  اور سنجیدہ شاعر ہائیکو کے  خزینے  میں  اضافہ کرتے  جا رہے  ہیں ۔ ۔ ۔  بہرحال یہ حقیقت ہے  کہ اب بلوچی میں  ہائیکو کا فیشن ختم ہو چکا ہے ، یہ ہو سکتا ہے  کہ پھر کبھی یہ فیشن دوبارہ چل نکلے  جیسا اکثر ہوا کرتا ہے ۔ 
٭ڈاکٹر محسن بالاچ صاحب، بلوچستان کے  نامور شاعر پروفیسر ڈاکٹر غنی پروازؔ کے  صاحبزادے  ہیں  جو بلوچی میں  افسانہ نگاری اور اردو میں  ہائیکو نگاری کے  حوالے  سے  ممتاز مقام کے  حامل ہیں ، بلوچستان اکیڈمی، تربت کے  سربراہ ہیں  اور ہماری گزارش پر انہوں  نے  اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات سے  وقت نکال کر یہ مضمون رقم کیا۔ ان کے  بلوچی افسانوں  کا مجموعہ ان دنوں  زیر ترتیب ہے ۔ وہ عالمی مقابلہ بلوچی افسانہ نگاری میں  دوم انعام بھی حاصل کر چکے  ہیں ۔ 
٭٭ جاپانی زبان میں  آج سے  ایک مدت پہلے  موضوعاتی انحراف شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے ، مگر فطرت نگاری کو بہرحال فوقیت حاصل ہے  اور جب مجموعہ ہائے  کلام شائع ہوتے  ہیں  یا تراجم تو دونوں  طرح کی ہائیکو شاعری منظر عام پر آتی ہے ۔ 
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ان پیج سے تبدیلی، تدوین اور موجودہ ای بک کی تشکیل :اعجاز عبید